ذبیحہ کے ساتھ بھلائی

رسولِ ذیشان، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:اِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الاِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ، فَاِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ ، وَ اِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ، فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ یعنی بے شک اللہ پاک نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے،لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طريقے سےقتل کر و([1]) اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کی دھار تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ (مسلم،ص 832،حدیث: 5055)

شرح: اس حدیثِ پاک میں نبیِّ کریمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر شے کے ساتھ بھلائی اور احسان کا حکم ارشاد فرمایا ہے یہاں یہ بات یاد رہے کہ ہر شے کے ساتھ بھلائی کا انداز جُدا ہے جیسے بیمار کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ کڑوی دوائی پلانامریض کے ساتھ احسان و بھلائی ہے جبکہ ایسی ہی دوا تندرست کو بلاوجہ پلانا ظلم وزیادتی ہے۔ حضرت علّامہ علی بن سلطان قاری حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: بھلائی کرنے کا حکم عام ہے جس میں انسان ،حیوان،زندہ اور مردہ سب شامل ہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،ج7،ص679،تحت الحدیث:4073) فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ: کے تحت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: اس بھلائی کی کئی صورتیں ہیں: مثلًا جانور کو ذبح سے پہلے خوب کھلا پلا لیا جائے، ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے، اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے، ماں کے سامنے بچے کو اور بچے کے سامنے ماں کو ذبح نہ کیا جائے، مذبح کی طرف گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے اور جان نکل جانے سے پہلے اس کی کھال نہ اتاری جائے کہ یہ تمام باتیں ظلم و زیادتی ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح،ج5،ص645)امیرُُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو بکری کو ذَبْح کرنے کیلئے اسے ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹ رہا ہے، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا : تیرے لئے خرابی ہو، اسے موت کی طرف اچّھے انداز میں لے کر جا۔ (مصنف عبدالرزاق،ج 4،ص376، حدیث: 8636) ذبح میں بھلائی کی مختلف صورتیں:حضرت سیّدنا امام قرطبی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:جانور کو ذبح کرنے میں اچھا برتاؤیہ ہے کہ جانور پر نَرْمی کی جائے،سختی اور بےدردی سے زمین پر نہ گرایا جائے، ایک جگہ سے دوسری جگہ گھسیٹ کر نہ لےجایا جائے، ذبح کے آلے(چُھری وغیرہ) کو تیز کر لیا جائے، قُربت (نیکی) اور اباحت (گوشت کے حلال کرنے) کی نیت حاضر کر لے،جانور کو قبلہ رو کرے، اسی طرح (بوقتِ ذَبْح) اللہ کا نام لینا،جلدی ذبح کرنا، وَدَجَیْن([2]) اور حُلْقوم کو کاٹنا، ذبیحہ کو آرام پہنچانا، ٹھنڈا ہو جانے تک ذبیحہ کو چھوڑ دینا، اللہ پاک (نے یہ جانور حلال فرمایا اس) کے احسان کا اعتِراف کرنا، اللہ کریم اگر چاہتا تو ضَروراس جانور کو ہم پر مسلّط فرمادیتا لیکن اُس نے اِس جانور کو ہمارے بس میں کردیا اسی طرح اگروہ چاہتا تو ضرور اسے ہمارے لئے حرام فرمادیتا مگر اس نے ہمارے لئے اسےحلال فرمایالہٰذا اس نعمت پر اللہ پاک کا شکر بجالانا ۔

(المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم،ج5،ص241،تحت الحدیث:1854)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ذمہ دار شعبہ فیضان صحابہ و اہلبیت المدینۃ العلمیہ باب المدینہ کراچی



1۔۔۔یعنی اگر تم قاتل یا کافر کو قصاص یا جنگ میں قتل کرو تو ان کے اعضاء نہ کاٹو، مُثلہ نہ کرو۔ (مراٰۃ المناجیح،ج5،ص645)

2۔۔۔جو رگیں ذبح میں کاٹی جاتی ہیں وہ چار ہیں:حلْقو ؔ م یہ وہ ہے جس میں سانس آتی جاتی ہے، مریؔ اس سے کھانا پانی اُترتا ہے ان دونوں کے اَغَل بَغَل اور دو رگیں ہیں جن میں خون کی روانی ہے انہیں وَدَ جَیْن کہتے ہیں۔ (درمختار،ج9،ص491)

Share