ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز

مُعاشرے (Society) میں انسانی حیات کی بَقا کیلئے حُقوق کی حفاظت بہت ضَروری ہے جو عدل و انصاف کی فراہمی کے بغیر ممکن نہیں۔ حقیقی عدل و انصاف تب ہی ممکن ہے جب امیرو غریب، حاکم و محکوم اور آقا و غلام کے امتِیازی فرق اور سوچ کو یکسر ختم کردیا جائے۔ اسلام نےحقوق کی حفاظت کے لئے جہاں ”نظامِ عدل“ فراہم کیا ہےوہیں اس میں توازن برقرار رکھنے کے لئے مُساوات (Equality) کا پُرکشش اُصول بھی عطا فرمایا ہے۔ مُساوات اسلام کا خاصّہ ہے اور یہ ایسا وَصْف ہے کہ جس معاشرے میں اسلام عملی طور پر نافذ رہا وہاں کے لوگوں کے جانی، مالی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق کی حفاظت کی بے شمار مثالیں قائم ہوئیں۔ اسلامی مساوات کیا ہے؟ مساوات کا مطلب ہے برابری۔ یعنی توحید و رسالت کا اقرار کرنے والا خواہ کسی بھی مُلک و زَبان سے تعلّق رکھتا ہو اسے بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح برابر کےحقوق حاصل ہوں گے۔ یہی اسلامی مساوات ہے۔ ہمارا دین اس بات کا دَرْس دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مسلمان برابر ہیں۔ رنگ و نَسْل، حَسَب و نسب کی بنا پر کسی کوکوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اسلام دنیا میں عدل و انصاف کے قیام کے ساتھ ساتھ آخِرت میں بھی دَرَجات کی بلندی، فلاح و کامیابی اور قُربِِ اِلٰہی کے حصول کو کسی جنس یا طبقے سے خاص نہیں کرتا بلکہ مساوات کے اصول کے مطابق مرد اور عورت، حاکم و محکوم، بادشاہ و رعایا سب کے لئے عام قرار دیتا ہے۔ ہر مسلمان اعمال میںاللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت بجالاکر دوسروں سے بڑھ کرقربِ خدا حاصل کرسکتاہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ( وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا(۱۲۴))ترجمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا۔(پ5، النسآء:124) احادیثِ طیبہ اور مساوات فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: (1)لوگ آدم (عَلَیْہِ السَّلَام) کی اولاد ہیں اور آدم (عَلَیْہِ السَّلَام)مٹی سے پیدا کئے گئے۔ (ترمذی،ج5،ص179، حدیث:3281 ملتقطاً) (2)اے لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہی ہے اور تمہارا باپ ایک ہی ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصِل نہیں، فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ (مسنداحمد،ج 9،ص127، حدیث: 23548 ملتقطاً) معلوم ہوا کہ فضیلت و برتری کا تاج صرف تقویٰ کی بدولت مل سکتا ہے۔ مساوات کی مثالیں نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ طیّبہ مساوات کی مکمل عملی تصویر (Practical Picture) نظر آتی ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مقدّس زندگی میں ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا ہر عمل مُساوِیانہ ہوتا۔ غزوۂ بدر میں سُواریاں کم تھیں اور سوار زیادہ۔ ایک سواری پر کئی افراد باری باری سواری کرتے،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چاہتے تو اپنے لئے سواری مخصوص فرما سکتے تھے لیکن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دو صحابیوں کو اپنے ساتھ سواری میں حصّے دار بناکر اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ اسلام ہی مساوات کا حقیقی عَلَمْبردارہے۔ اسی طرح دیگر مواقع پر صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے ساتھ مِل کر خندق کھودنا، پتّھر اُٹھانا، بھوک برداشت کرنا اور غَزْوات میں شرکت کرنا مساوات کے پَیامِ دلنشین کی تابندہ مثالیں ہیں۔ نمازِ پنجگانہ میں جماعت کے مناظر بھی اسلامی مساوات کی عملی تعبیر ہیں۔ اسی طرح ہر سال حج کے موقع پر دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے عاشقانِ رسول رنگ و نسل اور زبان و وطن کے امتیازات مِٹا کر ہم لباس و ہم زباں ہو کر بَیَک وقت ”صدائے لَبَّیْک‘‘ بلند کرتے ہوئے اسلامی مساوات کا عملی مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ فیضان صحابہ واہل بیت ،المدینۃالعلمیہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code