قربانی قدیم عبادت ہے

قربانی قدیم عبادت ہے، تمام امتوں میں ہمیشہ سے رائج رہی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا:”اور ہر امت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تاکہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے زبان چوپایوں سے رزق دیا۔“(پ17، الحج:34)

اس اجمالی بیان کے علاوہ تفصیلی طور پراگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو تمام آسمانی مذاہب میں قربانی کا تذکرہ ملتا ہے بلکہ جو مذاہب آسمانی نہیں بھی ہیں ان میں بھی چند ایک کے علاوہ قربانی کا بیان تقریباً سب میں موجود ہے۔قرآن مجید میں ہر امت میں قربانی کا حکم بیان کرنے کے علاوہ مختلف امتوں کے احوال کے بیان میں بھی قربانی کا ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ زمانۂ آدم علیہ السَّلام میں ہابیل و قابیل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اور (اے حبیب!) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کرلی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی۔“(پ6، المآئدۃ:27)

موجودہ بائبل میں قربانی کا تذکرہ موجود ہے، قربانیوں کا اہتمام و انصرام ان کے علما کی اہم ذمہ داریوں میں سے تھا اور قربانی کا معاملہ ان میں اس حد تک معروف و مقبول تھا کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے لئے بھی اسی کی شرط رکھی تھی چنانچہ قرآن مجید نے ان کا یہ قول نقل کیا:”وہ لوگ جو کہتے ہیں (کہ) اللہ نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ ہم کسی رسول کی اس وقت تک تصدیق نہ کریں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آگ کھا جائے۔“

(پ4،آل عمران:183)

دینِ ابراہیمی میں جو دینِ اسلام کی اصل ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کو حج کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تو ساتھ ہی حج کی قربانی اور اس کے فوائد و منافع بھی بیان کئے گئے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کو حکم ہوا:”اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کردو، وہ تمہارے پاس پیدل اور ہر دبلی اونٹنی پر(سوار ہوکر) آئیں گے جوہر دور کی راہ سے آتی ہیں۔ تاکہ وہ اپنے فوائد پر حاضر ہوجائیں اور معلوم دنوں میں اللہ کے نام کو یاد کریں اس بات پر کہ اللہ نے انہیں بے زبان مویشیوں سے رزق دیا تو تم ان سے کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ۔“(پ17، الحج:27- 28)

اور دینِ اسلام اُسی دینِ ابراہیمی کا تسلسل ہے تو اس میں قربانی کے احکام موجود ہونا بالکل واضح ہے۔ حج خصوصاً عیدالاضحٰیکی قربانی سے مسلمانوں کا بچہ بچہ آگاہ ہے۔

ہمارے دینِ اسلام میں قربانی کی پانچ قسمیں ہیں:

پہلی: وہ جو مناسکِ حج میں سے ہے جسے ہدی کہا جاتا ہے، اس کا بیان پارہ7، سورۃ المائدہ، آیت97میں ہے۔

دوسری:حج تمتع یا قران والے پر واجب ہے جو پارہ2، سورۃ البقرہ، آیت196 میں مذکور ہے۔

تیسری:جو کفارے کے طور پر ہو جیسے احصار یا جنایت۔ اس کا ذکر پارہ2،سورۃ البقرہ،آیت196میں ہے۔

چوتھی:عید الاضحیٰ کی قربانی جو حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی قربانی کی یاد میں ہے۔ اس کا ذکر سورۃ الکوثر میں ہے اور

پانچویں:عقیقہ ہے جو بچے کی پیدائش کی خوشی میں شکرِ الٰہی بجالانے کے لئے کیا جاتا ہے اور یہ احادیث سے ثابت ہے۔

قربانی کرنے میں ایک بنیادی حکمت اللہپاک کی رضا کے لئے اپنا مال قربان کرنا ہے، اس لئے دینِ اسلام میں اس کی بہت عظمت و وقعت ہے، یہاں تک کہ اللہپاک نے انہیں شعائر اللہ یعنی اللہ کی نشانیاں قرار دیا، چنانچہ فرمایا گیا ہے:

” اور قربانی کے بڑی جسامت والے جانوروں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا۔“(پ17، الحج:36)

قربانی کی حکمتیں قربانی کرنے میں بہت سی حکمتیں ہیں:

ایک تو حکمِ الٰہی پر سر ِ تسلیم خم کرنا ہے جو اسلام کا بنیادی معنی و مطلوب ہے۔

دوسرا اس میں خود کھانا اور محتاجوں کو کھلانا پایا جاتا ہے اور یہ حکمت خود قرآن مجید میں بیان فرمائی گئی:”تو ان (کے گوشت) سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔“(پ17، الحج:36)

تیسری حکمت قربانی کے ذریعے ان غریب و مسکین لوگوں کو بھی گوشت جیسی عمدہ غذا میسر آجاتی ہے جو عموماً اسے نہیں خرید سکتے۔

چوتھی حکمت عید الاضحیٰ کی قربانی کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے اعزاز و اکرام کا اظہاراور لوگوں کے لئے اطاعت و بندگی کی ترغیب ہے۔

پانچویں حکمت قربانی سے دلوں میں یہ راسخ کیا جاتا ہے کہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہیں۔ مشرکینِ عرب نے بتوں کو جسمانی و مالی عبادتوں میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا کہ سجدہ، دعا، کھیتی باڑی میں ان کا حصہ رکھتےاور بتوں کے نام پر قربانی کرتے تھے۔ اسلام چونکہ دینِ توحید ہے، لہٰذا اس میں ہر عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کردیا، فرمایا:”اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے، ہر باطل سے جدا ہوکر۔ (پ30، البینہ:5) اسی لئے نماز، سجدہ، زکوٰۃ، روزہ، حج اور عبادت کی تمام صورتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔

قربانی پر ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض لوگ کہتے ہیں:قربانی سے جانور ہلاک اور رقم ضائع ہوتی ہے۔ یہ رقم کسی قومی مقصد میں خرچ کی جائے یا ویسے ہی غریبوں کو دے دیں تو جواب یہ ہے کہ پہلی بات: یہ فائدہ و نقصان اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ جانتا ہے لیکن اس نے قربانی کا حکم ہی دیا ہے، لہٰذا اس عالم الغیب والشھادۃ نے جو حکم دیا وہ سر آنکھوں پر ہے۔ دوسری بات: قربانی کرکے گوشت غریبوں کو دینا شریعت نے مستحب قرار دیا ہے۔ اس طریقے میں ان کی خوراک کی بہت بنیادی حاجت بھی پوری ہوتی ہے اور حکمِ خداوندی پر عمل بھی ہوجائے گا۔ تیسری بات یہ ہے واجب قربانی تو حکمِ شریعت کے مطابق ہی کی جائے جبکہ نفلی قربانی کی جگہ چاہیں تو غریبوں کو رقم دے دیں۔ آخر یہ کس نے کہا ہے کہ واجب قربانی کے علاوہ ایک روپیہ بھی کسی غریب کو نہ دیں۔ چوتھی بات یہ ہےکہ واجب قربانی پر دانت تیز کرنے اور نظریں گاڑنے کی بجائے فلمیں، ڈرامے بنانے اور دیکھنے کی رقمیں، یونہی فضولیات و تعیشات پر خرچ ہونے والی کھربوں روپے کی رقم غریبوں پر خرچ کریں۔

الغرض حقیقت یہ ہے کہ غریبوں کی مدد کی دیگر ہزاروں صورتیں ہیں لیکن دین سے بیزار لوگوں کو دیگر چیزیں نظر نہیں آتیں ، صرف قربانی کے معاملے میں غریبوں کا غم انہیں ہلکان کرنا شروع کردیتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…دارالافتاء اہل سنت ،عالمی مدنی مرکز فیضان باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code