علماء شخصیات کے تاثرات(اقتباسات)/اسلامی بھائیوں کے تاثرات(اقتباسات)

عُلَما و شخصیات  کے تأثرات(اقتباسات)

(1)مولانا مفتی محمد عثمان رضوی قادری صاحب (ادارہ شرعیہ، جنکپور،نیپال): دعوتِ اسلامی کے ایک ذمّہ داراسلامی بھائی نے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“کے دیدار سے مُشرّف کروایا، جس کا ٹائٹل پیج و دیگر موضوعات قابلِ مطالعہ اور لائق عمل ہیں۔ الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ میں بذاتِ خود دعوتِ اسلامی کے تمام شعبہ جات سے بہت خوش اور متأثر ہوں۔

(2)مولانا شبیر احمد سیالوی گردیزی(بانی و مہتمم جامعہ احسن القرآن، منڈی بہاؤالدین، پنجاب پاکستان): میں تقریباً پچھلے ڈیڑھ سال سے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا مطالعہ کر رہاہوں،یہ ماہنامہ جہاں دینی امور سے مالا مال ہے وہاں دنیاوی معاملات میں بھی شمعِ نور کا سَرچشمہ ہے۔ الحمدللہ! میں تقریباً ایک سال سے اس ماہنامہ سے دَرْس دے رہاہوں، اس کے فیضان سے ہر روز کئی لوگ استِفادہ کر رہے ہیں،اس ماہنامہ کا سلسلہ ”دارالافتاء اہلِ سنّت“ مجھےبہت پسند ہے میں باقاعدگی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتا ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّامیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)بنتِ محمد اکرم(ایم فل اسکالر، لیکچرار مصطفائی کالج برائے خواتین، سردارآباد فیصل آباد)ماشآء اللہ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا اسلوب عالمانہ ہونے کے باوجود بہت سادہ ہے۔ تمام عُمْر کے لوگوں کے لئے نَفْع بَخش ہے۔ موضوع کے مطابق تصاویر کا انتخاب تحریر کو بہت دلکش بنا رہا ہے نیز سوالات و جوابات کا سلسلہ اس ماہنامہ کی واضح خُصوصیت ہے۔ مُسْتَنَد کُتُب سے حوالہ جات کا استعمال یقیناً ایک گِراں قدر تحفہ ہے۔

اسلامی بھائیوں کے تأثرات(اقتِباسات)

(4)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ علمی و روحانی شمارہ ہے، سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم،صحابۂ کرام،اہلِ بيت اور اولياء اللہ کی محبت کے جام پلانے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ (محمد سعد پيرزادہ عطّاری، سمہ سٹہ بہاولپور)

(5)اللہ تعالٰی کے فضل وکرم سے”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ہدایت کا ایک پیغام ہے، اللہ تعالیٰ کےفضل سے ہم اسے ہر بار خریدتے ہیں اوراللہ کی رضا کے لئے پڑھتے بھی ہیں۔(ڈاکٹر مبشر احمد، مرکز الاولیاء لاہور)

مَدَنی مُنّو ں اور مُنّیوں کے تأثرات (اقتباسات)

(6)میرے ابّو ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ گھر لائے تھے۔ میں نے اس میں سے جانوروں کی کہانی پڑھی بہت اچھی لگی۔ (عمر،سردار آباد فیصل آباد)

(7)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کی کیا بات ہے۔ میں اسے بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔ مجھے اس میں بچوں کے مضامین بہت اچھے لگتے ہیں۔(محمد فیضان عطّاری،باب الاسلام سندھ)

اسلامی بہنوں کے تأثرات (اقتِباسات)

(8)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ دین اور دنیاکے کئی معاملات میں راہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔کسی بھی طبقۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے لئے اس کا مطالعہ مفید ہے۔ (بنتِ رفیق، بلوچستان)

(9)مجھے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ بہت اچھا لگتا ہے۔اس کے تمام ہی سلسلے علمِ دین کی برکتوں سے مالا مال ہیں، خصوصاً مدنی مذاکرہ، دارالافتاء اہلِ سنّت، اسلامی بہنوں کے شرعی مسائل اور تذکرۂ صالحات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتاہے۔(بنتِ صفدر عطّاری، نواب شاہ باب الاسلام سندھ)

(10)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا مطالعہ کرنے کی سعادت ملی۔ اِسے پڑھ کر کثیر علم ِدین حاصل ہوااوریہ احساس ہوا کہ اسے بہت پہلے حاصل کرنا چاہئے تھاآئندہ ہر ماہ پڑھنے کی نیّت ہے۔ (بنتِ شہزاد فریدی،باب المدینہ کراچی)

Share

علماء شخصیات کے تاثرات(اقتباسات)/اسلامی بھائیوں کے تاثرات(اقتباسات)

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ دو خطبوں کے درمیان دعا ہاتھ اٹھا کر مانگنی چاہئے یا بغیر ہاتھ اٹھائے؟سائل:(اسامہ محبوب عطاری،باب المدینہ کراچی)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

خطیب دونوں خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر زبانی دعا کرسکتا ہے،لیکن مناسب یہ ہے کہ ہاتھ اٹھائے بغیر دعا کرے تاکہ خطیب کو دیکھ کر مقتدی بھی ہاتھ اٹھا کر زبانی دعا کرنا نہ شروع ہوجائیں کیونکہ قولِ اَرجح کے مطابق دورانِ خطبہ مقتدیوں کو زبان سے دعا کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔ البتہ خطیب کے علاوہ حاضرین ہاتھ اٹھاکر دل میں دعا مانگیں تواس میں فِی نَفْسِہٖ توحرج نہیں لیکن وہی خدشہ کہ عوام ہاتھ اٹھاکر دعا مانگتے دیکھیں گے تو زبانی دعا میں مشغول ہوجائیں گے اس لئے سامعین کو بھی دل ہی میں بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرلینی چاہئے۔

لیکن یاد رہے کہ اگر سننے والوں میں سے کوئی دونوں خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر زبان سے بھی دعا کرتا ہے تو اس سے اُلجھنا،اسے روکنا،منع کرنا بھی رَوا نہیں کہ ایک صحیح اور معتمد قول پر اس کی بھی اجازت ہے، یہی وجہ ہے کہ خود امامِ اہلِ سنّت علیہ الرَّحمہ نے اپنے ایک فتوی میں ارشاد فرمایا ہے کہ (میں نے) ہمیشہ سامعین کو بَیْنَ الْخُطْبَتَیْن دعا کرتے دیکھا اور کبھی منع و انکار نہیں کرتا۔ مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ میں اس مسئلہ کی تحقیق میں عمدہ تنقیحات پر مشتمل فتاویٰ موجود ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے۔

کتبــــــــــــــــہ

عبدہ المذنب ابو الحسن فضیل رضا عطاری عفا عنہ الباری

Share

Articles

Comments


Security Code