- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس یمن سے ایک صاحب آئیں گے جنہیں اویس کہا جاتا ہے ۱∞؎انہیں یمن میں صرف ان کی ماں ہی روکے ہوئے ہے ان کو برص کی سفیدی تھی تو انہوں نے اللہ سے دعا کی اللہ نے وہ دور کردی سوا دینار یا درہم کی جگہ کے تو تم میں سے جو ان سے ملے تو وہ اس کے لیے دعا مغفرت کریں ۲؎اور ایک روایت میں ہے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تابعین میں بہترین وہ صاحب ہیں جنہیں اویس کہا جاتا ہے۳؎ان کی ایک ماں ہیں انہیں برص کی سفیدی تھی ان سے عرض کرنا کہ وہ تمہارے لیے دعاء مغفرت کریں۴؎(مسلم)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهٗ: أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهٗ قَدْ كَانَ بِهٖ بَيَاضٌ فَدَعَا اللّٰهَ فَأَذْهَبَهٗ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهٗ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ "وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهٗ: أُوَيْسٌ، وَلَهٗ والدةٌ وَكَانَ بِهٖ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ". ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6266 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا تمہارے پاس یمن والے آئے ۱∞؎یہ لوگ طبیعت کے ملائم اور دلوں کے نرم ہیں۲؎پیارا ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے۳؎اور فخروتکبر اونٹ والوں میں ہے۴؎اور سکون و وقار بکری والوں میں ہے۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَاكُم أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرقُّ أفئدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6267 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ کفر کا سرا مشرق کی طرف ہے ۱ ∞ ؎اور فخر و غرور سے رہنے والے اونٹ گھوڑے والوں میں ۲؎اور خیمے میں رہنے والے شور مچانے والوں میں ۳؎اوراطمینان بکری والوں میں ہے۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6268 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرف یعنی مشرق کی طرف سے فتنے نمودار ہوں گے، جفا اور سخت دلی جنگل میں رہنے والے خیمہ نشینوں ربیعہ اور مضر (قبیلوں) سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں میں ہو گی جو اونٹوں اور بیلوں کی دموں کے پیچھے چل رہے ہوں گے۔بخاری ،مسلم ۔
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "مِنْ هَهُنَا جَاءَتِ الْفِتَنُ -نَحْوَ الْمَشْرِقِ-، وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6269 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ دلوں کی سختی اور ظلم مشرق میں ہے ۱∞؎اور ایمان حجاز والوں میں ہے۲؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6270 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ و سلم نے الٰہی ہم کو ہمارے شام میں برکت دے ۱∞؎الٰہی ہمارے یمن میں برکت دے۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہمارے نجد میں ۳؎فرمایا الٰہی ہم کو ہمارے شام میں برکت دے الٰہی ہم کو ہمارے یمن میں برکت دے۴؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله اور ہمارے نجد میں مجھے خیال ہے کہ تیسری بار میں فرمایا ۵؎کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے۶؎اور وہاں شیطانی گروہ نکلے گا ۷؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَفِي نَجْدِنَا؟ فَأَظُنُّهٗ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6271 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے وہ جناب زید ابن ثابت سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے یمن کی طرف نظر کی پھر فرمایا الٰہی ان کے دل ادھر لگادے ۱∞؎اور ہم کو ہمارے صاع میں اور ہمارے مد میں برکت دے۲؎(ترمذی)
عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ومُدِّنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6272 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے شام کو خوشخبری ہو ہم نے عرض کیا یارسول الله یہ کس لیے فرمایا اس لیے کہ الله کے فرشتے اس پر اپنے پر بچھائے ہوئے ہیں ۱∞؎(احمد،ترمذی)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبٰى لِلشَّامِ» قُلْنَا: لِأَيٍّ ذٰلِكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمٰنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6273 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضر موت کی طرف سے ایک آگ نکلے گی ۱∞؎جو لوگوں کو جمع کردے گی ہم نے عرض کیا یارسول الله ہم کو حضور کیا حکم دیتے ہیں فرمایا تم شام کو اختیار کرنا۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ نَحْوِ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَمَا تَأْمُرنَا؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6274 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی ۱؎تو لوگوں میں بہتر وہ ہے جو حضرت ابراہیم کی ہجرت گاہ میں جاوے۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ زمین والوں میں بہترین وہ ہے جو جناب ابراہیم کی ہجرت گاہ کو لازم پکڑے۳؎اور زمین میں بدترین باشندے رہ جائیں گے کہ ان کی زمین انہیں پھینکے گی ان سے الله کی ذات ناراض ہوگی۴؎انہیں آگ جمع کرے گی بندروں اور سؤروں کے ساتھ۵؎ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں اور قیلولہ کرے گی جب وہ قیلولہ کریں۶؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ النَّاسِ إِلٰى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَخِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقٰى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللهِ تَحْشُرهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6275 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے ابن حوالہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ معاملہ اس حد تک ہوجاوے گا کہ تم لوگ متفرق لشکر ہوجاؤ گے کوئی لشکر شام میں اور کوئی لشکر یمن میں اور کوئی لشکر عراق میں ہوگا۲؎ابن حوالہ نے کہا یارسول الله میرے لیے کوئی جگہ اختیار فرمایئے اگر میں یہ وقت پاؤں۳؎تو فرمایا کہ تم شام کو اختیار کرنا کیونکہ وہ الله کی زمین میں بہترین زمین ہے ۴؎کھچ آئیں گے اس کی طرف۵؎اس کے بہترین بندے لیکن اگر تم نہ کرسکو تو اپنے یمن کو اختیار کرنا اور تالابوں سے پانی پینا ۶؎کیونکہ الله عزوجل نے میرے لیے شام اور شام والوں کی ضمان دی ہے ۷؎(احمد،ابوداؤد)
عَن ابْنِ حَوَالَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَصِيرُ الأَمْرُ إِلٰى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ» . فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللّٰهِ. إِنْ أَدْرَكْتُ ذٰلِكَ. فَقَالَ: «عَلَيْك بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيَرَةُ اللّٰهِ مِنْ أَرْضِهٖ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيَرَتَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدَرِكُمْ فَإِنَّ اللّٰهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهٖ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6276 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت شریح ابن عبید ۱؎سے فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس شام والوں کا ذکر ہوا اور عرض کیا گیا اے امیر المؤمنین ان پر لعنت کیجئے ۲؎فرمایا نہیں ۳؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوں گے۴؎وہ حضرات چالیس مرد ہیں جب ان میں ایک وفات پاتا ہے تو الله اس کی جگہ دوسرے شخص کوبدل دیتا ہے ۵؎ان کی برکت سے بارشیں برستی ہیں،ان کے ذریعہ دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے ۶؎ان کی برکت سے شام والوں سے عذاب دفع ہوتا ہے۷؎
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّام عِنْد عليٍّ [رَضِي الله عَنهُ] وَقِيلَ الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰهُ مَكَانَهٗ رَجُلًا يُسْقٰى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنِ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6277 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے ایک صحابی سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا عنقریب شام فتح ہوگا ۱؎تو جب تم اس میں کوئی منزل کا اختیار دیئے جاؤ تو اس شہر کو اختیار کرنا جسے دمشق کہا جاتا ہے ۲؎کہ وہ جگہ مسلمانوں کی پناہ ہے لڑائیوں سے اور سامان کا خیمہ۳؎اس میں وہ زمین ہے جسے غوطہ کہا جاتا ہے۴؎دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"سَتُفْتَحُ الشَّامُ فإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُم بِمَدِينَةَ يُقَالُ لَهٗ دِمَشْقُ فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ ". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6278 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ خلافت مدینہ میں ہے اور سلطنت شام میں ۱؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخِلَافَةُ بِالْمَدِينَةِ وَالْمُلْكُ بِالشَّامِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6279 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے ایک نور کا ستون دیکھا جو میرے سر کے نیچے سے چمکتا ہوا نکلا حتی کہ شام میں ٹھہر گیا ۱؎(بیہقی دلائل النبوۃ)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «αرَأَيْتُ عَمُودًا مِنْ نُورٍ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي سَاطِعًا حَتّٰى اسْتَقَرَّ بِالشَّامِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6280 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت ابو الدرداء سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کی پناہ گاہ غوطہ ہے جو اس شہر کے کنارہ میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے ۱؎یہ شام کے بہترین شہروں میں ہے۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلٰى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6281 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سلیمان سے فرماتے ہیں کہ عجمی بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ سارے شہروں پر غالب آجاوے گاسواء دمشق کے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَيَأْتِي مَلِكٌ مِنْ مُلُوكِ الْعَجَمِ فَيَظْهَرُ عَلَى المَدَائِنِ كُلِّهَا إِلَّا دِمَشْقَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6282 ، باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎