- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
- باب : معجزات کابیان
باب : معجزات کابیان
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے کہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۱؎کہ میں نے اپنے سروں کے اوپر مشرکین کے قدم دیکھے جب کہ ہم غار میں تھے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ اگر ان میں سے ایک اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ہم کو دیکھ لے۲؎فرمایا اے ابوبکر تمہیں ان دو کے متعلق کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے ۳؎(مسلم، بخاری)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رُؤُوْسِنَا وَنَحْنُ فِي الْغَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلٰى قَدَمِهٖ أَبْصَرَنَا فَقَالَ:«يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللّٰهُ ثَالِثُهُمَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5868 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ اپنے والد سے راوی انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابو بکر مجھے بتاؤ کہ جب تم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ گئے تھے تو تم نے کیا کیا تھا ۱؎فرمایا ہم اپنی رات چلتے رہے اور کل بھی حتی کہ دوپہری کا ٹھہرنے والا ٹھہر گیا ۲؎اور راستہ خالی ہوگیا کہ اس میں کوئی نہیں گزرتا تھا تو ہم کو ایک لمبا پتھر ظاہر ہوا جس کا سایہ تھا اس پر دھوپ نہیں آئی تھی ہم اس کے پاس اتر گئے ۳؎اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ہموار کردی جس پر حضور سوئیں اور اس پر پوستین بچھادی ۴؎اور میں نے عرض کیا یارسول اﷲسو جائیے میں آپ کے اردگرد پہرہ دوں گا ۵؎چنانچہ آپ سو گئے اور اور میں آپ کے اردگرد پہرہ دینے لگا۶؎تو میں نے ایک چرواہا سامنے سے آتا دیکھا میں نے کہا کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے وہ بولا ہاں میں نے کہا کیا دودھ دے گا بولا ہاں۷؎تو اس نے ایک بکری پکڑی ایک پیالہ میں تھوڑا سا دودھ دوہا ۸؎میرے ساتھ برتن تھا جو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لایا تھا جس میں آپ سیراب ہوتے تھے پیتے تھے اور وضو کرتے تھے تو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا میں نے آپ کو جگانا پسند نہیں کیا تو میں نے انتظار کیا حتی کہ آپ بیدار ہوگئے ۹؎پھر میں نے دودھ پر پانی ڈالا حتی کہ اس کا تلہ بھی ٹھنڈا ہوگیا ۱۰؎میں نے عرض کیا یارسول اﷲحضور پئیں آپ نے پیا حتی کہ میں راضی ہوگیا ۱۱؎پھر فرمایا کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا میں نے عرض کیا ہاں فرمایا پھرہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے ۱۲؎اور سراقہ ابن مالک ہمارے پیچھے پہنچ گئے ۱۳؎میں نے عرض کیا یارسول اﷲہم آن لیے گئے ۱۴؎فرمایا غم نہ کرو اﷲہمارے ساتھ ہے ۱۵؎پھر انکے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی تو ان کا گھوڑا ان کے ساتھ پیٹ تک دھنس گیا سخت زمین میں ۱۶؎سراقہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں صاحبوں نے مجھ پر بددعا کی ہے ۱۷؎میں آپ دونوں کو اﷲکا ضمان دیتا ہوں کہ میں تم دونوں سے تلاش کرنے والوں کو دور کردوں گا ۱۸؎چنانچہ ان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی وہ چھوٹ گئے ۱۹؎پھر وہ یہ کرنے لگے کہ کسی سے نہیں ملتے تھے مگر کہتے تھے تم کفایت کیے گئے ادھر وہ نہیں ہیں کسی سے نہ ملتے مگر اسے واپس کردیتے ۲۰؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهٗ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَاأَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ حَتّٰى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ يَأْتِ عَلَيْهَا الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدِيْ يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً وَقُلْتُ نَمْ يَا رسولَ الله وَأَنَا أَنْفُضُ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهٗ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ قُلْتُ: أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلتُ: أَفَتَحْلُبُ؟ قَالَ: نَعَمْ.فَأَخَذَ شَاةً فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوِى فِيهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهٗ فَوَافَقْتُهٗ حَتّٰى اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتّٰى بَرَدَ أَسْفَلُهٗ فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَشَرِبَ حَتّٰى رَضِيتُ ثُمَّ قَالَ: "أَلَمْ يَأنِ لِلرَّحِيلِ؟ " قُلتُ: بَلٰى، قَالَ: فَارْتَحَلْنَا بَعْدَ مَا مَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَقَالَ: «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ بِهٖ فَرَسُهُ الٰى بَطْنِهَا فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: إِنِّي أَرَاكُمَا دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهٗ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا قَالَ: كُفِيتُم مَا هٰهُنَا فَلَا يَلْقٰى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5869 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ عبداﷲا بن سلام نے رسول اﷲکی تشریف آوری کی خبر سنی حالانکہ وہ ایک زمین میں کام کر رہے تھے ۱؎تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،عرض کیا کہ میں آپ سے تین ایسی باتیں پوچھتا ہوں جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۲؎قیامت کی پہلی علامت کیا ہے اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے اور بچے کو کون سی چیز اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچتی ہے۳؎راوی نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ ابھی مجھے ان کی خبر جبریل علیہ اسلام نے دی۴؎قیامت کی پہلی نشانی وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک پہنچادے گی ۵؎اور پہلا وہ کھانا جسے جنتی کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کا کنارہ ہے ۶؎اور جب مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوجاوے تو مرد بچہ کو کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب ہوجاوے تو وہ کھینچ لیتی ہے ۷؎عبداﷲبولے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اﷲکے رسول ہیں ۸؎یارسول اﷲیہود بہتان لگانے والی قوم ہے اگر آپ کی پوچھ گچھ سے پہلے وہ میرے اسلام کو جان لیں تو مجھے بہتان لگادیں گے۹؎چنانچہ یہود آئے تو حضور نے فرمایا کہ تم میں عبداﷲکیسے شخص ہیں وہ بولے کہ ہم میں بہترین ہیں اور ہمارے بہترین کے بیٹے ہیں ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہیں۱۰؎فرمایا بتاؤ تو اگر عبداﷲابن سلام مسلمان ہوجائیں وہ بولے کہ انہیں اﷲاس سے پناہ دے ۱۱؎تو عبداﷲنکلے بولے میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد اﷲکے رسول ہیں تو یہود بولے کہ وہ ہمارے بدترین ہیں اور ہمارے بدترین کے بیٹے ہیں۱۲؎ان کی بہت برائی کی، عبداﷲنے کہا یارسول اﷲیہ ہی وہ چیز ہے جس سے میں ڈرتا تھا۱۳؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قال سَمِعَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ بِمَقْدَمِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَرْضٍ يَخْتَرِفُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ: فَمَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ وَمَا يَنْزِعُ الوَلَدَ إِلٰى أبيهِ أَو إِلٰى أُمِّهٖ؟ قا ل: «أَخْبَرَنِي بهنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى المَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهٗ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزْعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ نَزَعَتْ» . قَالَ: أَشْهدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعلَمُوا بِإِسْلَامِي مِنْ قَبْلِ أَنْ تَسْأَلهُمْ يَبْهَتُونَنِي فَجَاءَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ: «أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللّٰهِ فِيكُمْ؟» قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سيدِنَا فَقَالَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ؟» قَالُوا أَعَاذَهُ اللّٰهُ مِنْ ذٰلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا فَانْتَقَصُوهُ قَالَ: هٰذَاالَّذِي كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللهِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5870 ، باب : معجزات کابیان
اور روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے مشورہ اس وقت کیاجب ہم کو ابوسفیان کی آمد کی خبر پہنچی ۱؎اور سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے بولے یا رسول اﷲاس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم گھوڑے سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں ۲؎اور اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم ان کے سینے برک غماد تک ماریں۳؎تو ہم ایسا ضرور کریں،راوی نے فرمایا کہ پھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو جہاد کے لیے بلایا تو لوگ چلے حتی کہ بدر میں اترے۴؎پھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ فلاں کافر کی قتل گاہ ہے اور اپنا ہاتھ زمین پر ادھر ادھر رکھتے تھے ۵؎راوی نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ کی جگہ سے نہ ہٹا ۶؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِينَ بَلَغَنَا إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ وَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلٰى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا. قَالَ: فَنَدَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ فَانْطَلَقُوا حَتّٰى نَزَلُوا بَدْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هٰذَامَصْرَعُ فُلَانٍ» وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ هٰهُنَا وَهٰهُنَا قا ل: فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5871 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب کہ آپ بدر کے دن ایک قبہ میں تھے ۱؎الٰہی میں تجھ سے تیرا عہد تیرا وعدہ مانگتا ہوں ۲؎الٰہی اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جاوے۳؎تب جناب ابوبکر نے آپ کا ہاتھ پکڑا عرض کیا یارسول اﷲآپ نے اپنے رب پر زاری کافی کرلی ۴؎تو آپ اس طرح نکلے کہ زرہ میں چل رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ یہ مجمع کفار بھگا دیا جائے گا پیٹھیں پھیر دی جائیں گی ۵؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ: «اللّٰهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللّٰهُمَّ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ» فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بيدِهٖ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلْحَحْتَ عَلٰى رَبِّكَ فَخَرَجَ وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ وَهُوَ يَقُولُ:سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5872 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے انہیں سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن فرمایا یہ جبریل ہیں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہیں ان پر جنگ کے ہتھیار ہیں ۱؎(بخاری)
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: «هٰذَاجِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهٖ عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5873 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ایک مسلمان آدمی اس دن ایک مشرک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا ۱؎جو اس سے آگے تھا کہ ناگاہ اس نے اس کافر کے اوپر کوڑے کی مار اور سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا اے حیزوم آگے بڑھ ۲؎کہ اس نے سامنے اس مشرک کو دیکھا جو مرا پڑا تھا۳؎اس نے اس مشرک میں غور کیا تو اس کی ناک پر نشان لگ گیا تھا۴؎اور اس کا چہرہ چر گیا تھا کوڑے کی مار کی طرح وہ کافر سارا کا سارا سبز ہوگیا تھا ۵؎پھر انصاری آیا اس نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو خبر دی آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے ہے ۶؎چنانچہ اس دن غازیوں نے ستر کافروں کو قتل کیا ستر کو قید کیا ۷؎(مسلم)
وَعنهُ قال: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي إِثْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهٗ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهٗ وَصَوْتُ الْفَارِسِ يَقُولُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ. إِذْ نَظَرَ إِلَى المُشْرِكِ أَمَامَهٗ خَرَّ مُسْتَلْقِيًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهٗ وَشُقَّ وَجْهُهٗ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذٰلِكَ أَجْمَعُ فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:صَدَقْتَ ذٰلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ»
فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5874 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے داہنے بائیں احد کے دن دوشخصوں کو دیکھا جن پر سفید سفید کپڑے تھے ۱؎جو سخت جنگ کر رہے ہیں میں نے ان دونوں کو نہ تو پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں دیکھا ۲؎یعنی جبریل و میکائیل ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِهٖ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رأيتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، يَعْنِي جِبْرئِيلَ وَمِيكَائِيلَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5875 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو رافع کی طرف ایک جماعت بھیجی ۱؎تو اس پر عبداﷲابن عتیک رات میں اس کے گھر میں گھس گئے وہ سورہا تھا ۲؎آپ نے اسے قتل کردیا، عبداﷲابن عتیک کہتے ہیں کہ میں نے اس کے پیٹ میں تلوار رکھی حتی کہ وہ اس کی پیٹھ میں گزرگئی۳؎میں سمجھ گیا کہ میں نے اسے قتل کردیا پھر میں دروازے کھولنے لگا حتی کہ میں آخری سیڑھی تک پہنچ گیا۴؎میں نے اپنا پاؤ ں رکھا تو میں چاندنی رات میں گر گیا میری پنڈلی ٹوٹ گئی ۵؎میں نے پگڑی سے اس کی پٹی باندھ دی پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف چلا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچا تو میں نے آپ کو خبر دی تو فرمایا اپنا پاؤ ں پھیلاؤ میں نے اپنے پاؤ ں پھیلایا،آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو گویا میں نے کبھی اس کی شکایت نہ کی تھی ۶؎(بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا إِلٰى أَبِي رَافِعٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهٗ لَيْلًا وَهُوَ نَائِمٌ فَقَتَلَهٗ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَتِيكٍ: فَوَضَعْتُ السَّيْفَ فِي بَطْنِهٖ حَتّٰى أَخَذَ فِي ظَهْرِهٖ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهٗ فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ حَتّٰى انْتَهَيْتُ إِلٰى دَرَجَةٍ فَوَضَعْتُ رِجْلِي فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ فَانْكَسَرَتْ سَاقِي فَعَصْبَتُهَا بِعِمَامَةٍ فَانْطَلَقْتُ إِلٰى أَصْحَابِي فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهٗ فَقَالَ: «ابْسُطْ رِجْلَكَ» . فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا فَكَأَنَّمَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5876 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ ہم خندق کے دن کھدائی کر رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا ۱؎تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎عرض کیا کہ یہ پتھر خندق میں پیش آگیا ہے تو فرمایا ہم اتریں گے حضور اُٹھے حالانکہ آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا،ہم تین دن تک اس طرح رہے تھے کہ کوئی چکھنے کی چیز نہیں چکھی تھیں ۳؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کدال لی پتھر پر ماری تو پتھر ریگ رواں بن گیا۴؎پھر میں اپنی بیوی کی طرف گیا میں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے ۵؎میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سخت بھوک دیکھی ہے ۶؎تو انہوں نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کی پٹھیا تھی۷؎میں نے اسے ذبح کیا میری بیوی نے جو پیسے ۸؎حتی کہ ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈالا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا میں نے آپ سے چپکے سے سرگوشی کی عرض کیا یارسول اﷲہم نے اپنا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے ایک صاع جو پِیسے ہیں ۹؎حضور سرکار آپ اور آپ کے ساتھ چھوٹی جماعت تشریف لائیں ۱۰؎نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان فرمادیا کہ اے خندق والو جابر نے کھانا تیار کیا ہے چلو ۱۱؎پھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی نہ اتارنا اور اپنے آٹے کی روٹی پکانا شروع نہ کرناحتی کہ میں آجاؤں۱۲؎پھر حضور تشریف لائے تو حضور کے سامنے آٹا پیش کیا حضور نے لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی پھر ہماری ہانڈی کی طرف توجہ فرمائی اس میں لعاب ڈالا۱۳؎پھر فرمایا کہ روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور اپنی ہانڈی سے شوربا نکالو۱۴؎اور اسے نہ اتارو مجاہدین ایک ہزار تھے،میں اﷲکی قسم کھاتا ہوں کہ ان سب نے کھایا حتی کہ کھانا چھوڑ دیا ۱۵؎اور لوٹ گئے حالانکہ ہماری ہانڈی جیسی تھی ویسی ہی جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا پکایا جارہا تھا ۱۶؎جیساکہ تھا۔ (مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَاؤُوا الْنَبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: هَذِهٖ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ فَقَالَ: «أَنَا نَازِلٌ» ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهٗ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ فَانْكَفَأْتُ إِلٰى امْرَأَتِي فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْصًا شَدِيدًا فَأَخْرَجَتْ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِیْرٍ وَلَنَا بَهْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتّٰى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهٗ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا صَنَعَ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ» فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتّٰى أَجِيءَ» . وَجَاءَ فَأَخْرَجْتُ لَهٗ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلٰى بُرْمَتِنا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ: "ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكَ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا» وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمَ بِاللّٰهِ لَأَكَلُوا حَتّٰى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5877 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جناب عمار سے کہا جب کہ وہ خندق کھود رہے تھے تو آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے اور کہتے کہ اے ابن سمیہ کی سختی ۱؎تم کو باغی جماعت قتل کرے گی ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهٗ وَيَقُولُ
: بُؤسَ ابْنِ سُمَيَّةَ! تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5878 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت سلیمان ابن صرد سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کہ احزاب آپ سے دور کیے گئے ۲؎کہ ہم ان پر حملہ کریں گے وہ ہم پر حملہ نہ کریں گے ہم ان کی طرف جائیں گے ۳؎(بخاری)
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُجْلِى الأَحْزَابَ عَنْهُ: «الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَّا، نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِم» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5879 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم خندق سے لوٹے اور ہتھیار رکھ دیئے اور غسل فرمایا تو آپ کے پاس حضرت جبریل اپنا سر غبار سے جھاڑتے ہوئے آئے ۱؎بولے آپ نے تو ہتھیار اتار دیئے خدا کی قسم میں نے نہیں اتارے ان کی طرف جائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کہا،جبریل نے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی طرف تشریف لے گئے ۲؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلاحَ وَاغْتَسَلَ أَتَاهُ جِبْرَئِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهٗ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللّٰهِ مَا وَضَعْتُهٗ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلٰى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5880 ، باب : معجزات کابیان
اور بخاری میں روایت ہے کہ جناب انس نے فرمایا گویا کہ میں بنی غنم کی گلیوں میں غبار پھیلا ہوا دیکھ رہا ہوں ۱؎حضرت جبریل کے سواروں سے جب کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم بنی قریظہ کی طرف چلے ۲؎
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ أَنَسٌ:كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِيَ غَنْمٍ مَوْكِبَ جِبْرَئِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى بَنِي قُرَيْظَةَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5881 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ لوگ حدیبیہ کے دن پیاسے ہوئے اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک ڈول تھا ۱؎جس سے حضور نے وضو کیا پھر لوگ اس طرف دوڑ پڑےبولے ہمارے پاس پانی نہیں جس سے ہم وضو کریں اور پئیں سواء اس پانی کے جو آپ کے ڈو ل میں ہے۲؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا ہاتھ اس ڈول میں رکھا تو پانی آپ کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پھوٹنے لگا ۳؎فرمایا کہ ہم نے پیا اور وضو کیا ۴؎حضرت جابر سے کہا گیا کہ تم کتنے تھے فرمایا اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہم کو کافی ہوتا ہم پندرہ سو تھے ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَّةِ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهٗ قَالُوا: لَيْسَ عَنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهٖ وَنَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رِكْوَتِكَ فَوضَعَ النَبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهٗ فِي الرِّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهٖ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ قَالَ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا قِيلَ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا
خَمْسَ عَشْرَةَ مِئَةً. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5882 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرمایا کہ ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ۱؎حدیبیہ ایک کنواں ہے ہم نے اس کا پانی نکال ڈالا تو اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا ۲؎یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی آپ اس کنویں پر آئے اس کے کنارہ پر بیٹھےپھر پانی کا برتن منگایا وضو کیا پھر کلی کی اور دعا فرمائی پھر وہ پانی کنویں میں ڈال دیا ۳؎پھر فرمایا اسے گھڑی بھر چھوڑدو ۴؎پھر لوگ اپنے آپ کو اپنی سواریوں کو سیراب کرتے رہے حتی کہ وہاں سے کوچ کیا ۵؎(بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلٰى شَفِيرِهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا ثُمَّ صَبَّهٗ فِيهَا ثُمَّ قَالَ: دَعُوهَا سَاعَةً " فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتّٰى ارْتَحَلُوا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5883 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت عوف سے وہ ابورجاء سے ۱؎وہ عمران ابن حصین سے راوی فرمایا ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے تو لوگوں نے حضور سے پیاس کی شکایت کی آپ اترے اور فلاں کو بلایا ابو رجاء اس شخص کا نام لیتے تھے اسے عوف بھول گئے اور جناب علی کو بلایا ۲؎پھر فرمایا تم دونوں جاؤ پانی تلاش کرو وہ چلے تو دونوں ایک عورت سے ملے جو دو بڑے یا چھوٹے توبڑوں کے درمیان تھی۳؎توبڑے پانی کے تھے وہ دونوں اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اسے اس کے اونٹ سے اتارا ۴؎اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک برتن منگایا پھر ان توبڑوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا اور لوگوں میں آواز دی گئی کہ پی لو ۵؎چنانچہ لوگوں نے خوب پیا فرمایا کہ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے پیا حتی کہ سیر ہوگئے پھر ہم نے اپنے ساتھ والے مشکیزے اور برتن بھر لیے ۶؎اﷲکی قسم ان سے پانی لینا جب بند کیا گیا تو ہم کو خیال ہوتا تھا کہ وہ ابتداء کے مقابلہ میں اب زیادہ پُر ہیں ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَن عِمْرانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكٰى اليْهِ النَّاسُ مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهٗ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا فَقَالَ: «اذْهَبَا فَابْتَغِيَا الْمَاءَ» . فَانْطَلَقَا فَتَلَقَّيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ فَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَفَرَّغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: اسْقُوا فَاسْتَقَوْا قَالَ: فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا حَتّٰى رَوِينَا فَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَايْمُ اللّٰهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا وإنَّهٗ لَيُخَيَّلُ إِلَينَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلْئَةً مِنْهَا حِين إبْتَدَأَ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5884 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھےحتی کہ ہم ایک وسیع جنگل میں اترے ۱؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم قضاء حاجت(استنجاء)کے لیے گئے تو ایسی کوئی چیز نہ پائی جس سے آڑ کریں ۲؎حضور نے جنگل کے کناروں میں دو درخت دیکھے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم ان میں سے ایک کی طرف گئے اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲکے حکم سے میری اطاعت کر ۳؎وہ آپ کے ساتھ اس مہار والے اونٹ کی طرح چلے جو اپنے چلانے والے کی اطاعت کرتا ہے۴؎حتی کہ آپ دوسرے درخت کے پاس پہنچے ۵؎تو اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲکے حکم سے میری اطاعت کروہ بھی اسی طرح حضور کے ساتھ چلا کہ جب ان دونوں کے بیچ میں ہوئے ۶؎تو فرمایا اﷲکے حکم سے مجھ پر مل جاؤ وہ دونوں مل گئے میں بیٹھ گیا اپنے دل میں کچھ سوچتا تھا۷؎میرا اور طرف دھیان گیا تو میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو آتے ہوئے دیکھا اور درختوں کو دیکھا۸؎کہ جدا ہوگئے تھے ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا ہوگیا تھا ۹؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهٗ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهٖ وَإِذَا شَجَرَتَيْنِ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَانْقَادَتْ مَعَهٗ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهٗ حَتّٰى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرٰى فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَانْقَادَتْ مَعَهٗ كَذٰلِكَ حَتّٰى إِذَا كَانَ بِالْمُنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا قَالَ الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَالْتَأَمَتَا فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَيْنِ قَدِ افْتَرَقَتَا فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلٰى سَاقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5885 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت یزید ابن ابی عبیدہ سے ۱؎فرمایا کہ میں نے سلمہ ابن اکوع کی پنڈلی میں ایک چوٹ کا اثر دیکھا تو میں نے کہا کہ اے ابو مسلم یہ چوٹ کیسی ہے۲؎انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ چوٹ ہے جو مجھے خیبر کے دن لگی تھی تو لوگوں نے کہا کہ سلمہ شہید ہوگئے ۳؎پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور نے تین بار دم فرمایا تو میں اس وقت تک تکلیف میں گرفتار نہیں ہوا ۴؎(بخاری)
عَن يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٌ مَا هَذِهٖ الضَّربةُ؟ فَقَالَ: هَذِهٖ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5886 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرات زید جعفر،ابن رواحہ کی خبر موت لوگوں کو سنائی ۱؎ان کی خبر آنے سے پہلے تو فرمایا کہ جھنڈا زید نے لیا وہ شہید ہوگئے پھر جعفر نے لیا اور وہ بھی شہید ہوگئے پھر ابن رواحہ نے لیا وہ بھی شہید ہوگئے ۲؎آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں حتی کہ جھنڈا اﷲکی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا ۳؎یعنی خالد ابن ولید نے حتی کہ اﷲنے ان پر فتح دی ۴؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَن يَأْتِيهِ خَبَرُهُمْ فَقَالَ أَخْذَ الرَّايَةَ زِيدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتّٰى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ حَتّٰى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِم.رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5887 ، باب : معجزات کابیان