- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کی نشانیوں سے یہ ہے کہ علم اٹھالیا جاوے گا اور جہالت بڑھ جاوے گی ۱∞؎اور زنا شراب خواری بڑھ جاوے گی ۲؎اور مرد کم ہوجاویں گے اور عورتیں زیادہ ہوجائیں گی ۳؎حتی کہ پچاس عورتیں ایک مرد منتظم ہوگا۴؎ایک روایت میں ہے کہ علم گھٹ جاوے گا اور جہالت ظاہر ہو جاوے گی ۔(مسلم،بخاری)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ، وَيَكْثُرَ الزِّنَا، ويكثُرَ شُربُ الخمرِ، ويقِلَّ الرِّجالُ، وتكثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "يَقِلُّ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5437 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت سے پہلے جھوٹے ہوں گے تم ان سے پرہیز کرنا ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ بَيْنَ يَدَي السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5438 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہ حضور گفتگو فرمارہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا عرض کیا قیامت کب ہے ۱∞؎فرمایا جب امانت ضائع کردی جاوے تو قیامت کا انتظار کرو۲؎اس نے عرض کیا کہ ضائع ہونا کیسے ہوگا فرمایا جب کام نااہلوں کے سپرد کردیا جاوے تو قیامت کا انتظار کرو۳؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يُحَدِّثُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "إِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ"، قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: "إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5439 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت نہ آوے گی حتی کہ مال زیادہ ہوجاوے گا اور بہہ جاوے یہاں تک کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوۃ نکالنا چاہے تو کوئی ایسا نہ پائے گا ۱∞؎جو اس سے وہ قبول کرے اور حتی کہ عرب کی زمین چراگاہ اور نہری ہوجاوے گی ۲؎(مسلم)انہیں کی ایک ر وایت میں فرمایا مکانات اہاب یا یہاب تک پہنچ جاویں ۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يُخْرِجَ الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة لَهُ: قَالَ: "تَبْلُغُ الْمَسَاكِنُ إِهَابَ أَوْ يَهَابَ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5440 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال بانٹے گا اور اسے گنے گا نہیں ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو لپ بھر بھر کر مال دے گا اور اسے گنے گا نہیں ۲؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُقَسِّمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5441 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ فرات سونے کے خزانہ سے کھل جاوے ۱∞؎تو جو وہاں حاضر ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5442 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ فرات سونے کے پہاڑ سے کھل جاوے گا ۱∞؎اس پر لوگ آپس میں جنگ کریں گے تو ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل ہوجاویں گے ان میں سے ہر شخص یہ ہی کہے گا کہ شاید میں ہی وہ ہوں جو نجات پا جائے ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِئَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ: لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أنجُو". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5443 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے چاندی کے ستونو ں کی شکل میں قے کردے گی ۱∞؎تو قاتل آئے گا کہے گا کہ میں نے اس میں قتل کیا اور رشتے توڑنے والا آئے گا تو کہے گا کہ میں نے اس کے لیے اپنے رشتے توڑے اور چور آئے گا تو کہے گا کیا اس کی وجہ سے میرے ہاتھ کاٹے گئے ۲؎پھر وہ لوگ یہ سب کچھ چھوڑ دیں گے تو اس میں سے کچھ نہ لیں گے ۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَقِيءُ الأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الأُسْطُوَانَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعتْ يَدِي، ثم يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5444 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ دنیا نہ جائے گی حتی کہ ایک آدمی قبر پر گزرے گا تو وہ وہاں لوٹے گا اور کہے گا ہائے کاش اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا ۱∞؎اور نہ ہوگا اس میں دین سواء بلا کے ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ ويقولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ، وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبلَاءُ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5445 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں قائم ہوگی قیامت حتی کہ زمین حجاز سے ایک آگ اٹھے گی جو بصرےٰ کے اونٹوں کی گردن چمکادے گی ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الإِبِلِ بِبُصْرَى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5446 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قیامت کی پہلی نشانی وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کردے گی ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: "أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ نَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5447 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ زمانہ جلد گزرنے لگے گا ۱∞؎تو ایک سال ایک مہینہ کی طرح ہوگا اور مہینہ ہفتہ کی طرح اور ہفتہ ایک دن کی طرح اور دن ایک گھڑی کی طرح ہوگا اور گھڑی آگ سلگانے کی طرح ۲؎(ترمذی)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يتقاربَ الزَّمانُ، فَتَكُونُ السَّنةُ كالشهرِ، والشَّهرُ كالجمعةِ، وتكونُ الجمعةُ كَاليومِ، وَيَكُونُ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ، وَتَكُونُ السَّاعَةُ كَالضَّرْمَةِ بِالنَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5448 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حوالہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں ہم کو جہاد کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیدل بھیجا ۲؎تو ہم واپس ہوئے کہ ہم نے کوئی غنیمت حاصل نہ کی ۳؎اور حضور نے ہمارے چہروں میں مشقت محسوس کی ۴؎تو ہم میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا الٰہی ا نہیں میرے حوالہ نہ کر کہ میں ان سے دور ہوجاؤں گا ۵؎اور انہیں ان کے نفسوں کے حوالہ نہ کریہ ان سے عاجز ہوجائیں گے ۶؎اور نہ انہیں لوگوں کے سپرد کر ورنہ وہ ان پر دوسروں کو ترجیح دیں گے ۷؎پھر حضور نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا پھر فرمایا اے ابن حوالہ جب تم دیکھو کہ خلافت زمین مقدس میں اتر گئی ۸؎تو زلزلے اور رنج و غم اور بڑے بڑے کام قریب ہو جائیں گے ۹؎اور اس دن قیامت زیادہ قریب ہوگی بمقابلہ میرے اس ہاتھ کے تمہارے سر سے ۱۰؎
وَعَن عبدِ اللَّه بنِ حوالةَ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِنَغْنَمَ عَلَى أَقْدَامِنَا، فَرَجَعْنَا فَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا، وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا، فَقَامَ فِينَا فَقَالَ: "اللهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ"، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ثُمَّ قَالَ:"يَا بْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتِ الأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ وَالأُمُورُ الْعِظَامُ، وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنَ النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ إِلَى رَأْسِكَ". رَوَاهُ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5449 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب غنیمت کو اپنی دولت ۱∞؎اور امانت کو غنیمت اور زکوۃ کو ٹیکس بنالیا جاوے ۲؎اور غیر دین کے لیے علم حاصل کیا جاوے ۳؎اور آدمی اپنی بیوی کی اطاعت ماں کی نافرمانی کرے اور اپنے دوست کو قریب باپ کو دور کرے ۴؎اور مسجدوں میں آوازیں اونچی ہوں ۵؎اور قبیلہ کا بدکار قوم کی سرداری کرے اور قوم کا ذمہ دار ان کا کمینہ ہو اور آدمی کی تعظیم کی جاوے اس کی شرارت کے خوف سے ۶؎او ر رنڈیاں باجے ظاہر ہو جاویں اور شرابیں پی جاویں ۷؎اور اس کے پچھلے اگلوں پر لعنت کریں اس وقت تم سرخ ہوا،زلزلہ،دھنسنا اور صورتیں بدلنا پتھر برسنے اور ان نشانیوں کا انتظار کرنا جو لگاتار ہوں گی جیسے ہار جس کا دھاگہ توڑ دیا جاوے تو لگاتار کرکے ۸؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دِوَلًا،وَالأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ، وَظَهَرَتِ الأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وشُربتِ الخمورُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَوَّلَهَا،
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5450 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب میری امت پندرہ خصلتیں اختیار کرے ۱∞؎تو ان پر بلا نازل ہوگی اور یہ مذکورہ خصلتیں گنوائیں اور نہیں ذکر کیا کہ علم سیکھا جاوے غیر دین کے لیے ۲؎فرمایا کہ اپنے دوست سے سلوک اپنے باپ پر ظلم کرے فرمایا اور شراب پی جاوے اور ریشم پہنا جاوے ۳؎(ترمذی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا الْبَلَاءُ" وَعَدَّ هَذِهِ الْخِصَالَ وَلَمْ يَذْكُرْ "تُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ"،قَالَ: "وَبَرَّ صَدِيقَهُ وَجَفَا أَبَاهُ"، وَقَالَ: "وَشُرِبَ الْخَمْرُ وَلُبِسَ الْحَرِيرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5451 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دنیا ختم نہ ہوگی حتی کہ عرب کا بادشاہ ایک شخص بنے ۱∞؎میرے گھر والوں میں سے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اس کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہا ہوتا تو اللہ اس دن کو دراز فرمادیتا۳؎حتی کہ اس دن میں ایک شخص بھیجتا جو مجھ سے یا میرے گھر والوں سے ہے اس کا نام میرے نام کے موافق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہوگا ۴؎وہ آسمان و زمین کو انصاف و عدل سے بھردے گا جیسے وہ ظلم و زیادتیوں سے بھری تھی ۵؎
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أهلِ بَيْتِي يُواطِئُ اسمُه اسْمِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: "لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يبْعَثَ اللَّهُ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي -أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي- يُوَطِئُ اسْمُهُ اسْمِيَ، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي، يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5452 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مہدی میری اولاد سے اولاد فاطمہ سے ہے ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ أَوْلَادِ فَاطِمَة". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5453 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مہدی مجھ سے ہیں ۱∞؎چوڑی پیشانی والے،اونچی ناک والے ۲؎زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جیسے وہ ظلم وستم سے بھری ہوئی تھی سات سال سلطنت کریں گے۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الْمَهْدِيُّ مِنِّي، أَجْلَى الْجَبْهَة، أَقْنَى الأَنْفِ، يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5454 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی امام مہدی کے قصے کے بارے میں فرمایا پھر آئے گا ان کے پاس ایک شخص کہے گا اے مہدی مجھے دیجئے مجھے دیجئے فرمایا آپ اس کے کپڑے میں لپ بھر کے ڈالتے رہیں گے جس قدر اٹھانے کی وہ طاقت رکھے ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي قِصَّةِ الْمَهْدِيِّ قَالَ: "فَيَجِيءُ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي، قَالَ: فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا استَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5455 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ ایک خلیفہ کے وفات وقت اختلاف ہوگا ۱∞؎تو ایک شخص اہل مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا۲؎تو مکہ والوں میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اسے باہر لائیں گے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتا ہوگا۳؎یہ لوگ اس سے مقام ابراہیم اور سنگ اسود کے درمیان بیعت کریں گے ۴؎اور ان کی طرف شام سے ایک لشکر بھیجا جائے گا اسے مکہ و مدینہ کے درمیان ایک میدان میں دھنسا دیا جاوے گا ۵؎جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور عراق والوں کی جماعتیں آئیں گی تو اس سے بیعت کرلیں گے۶؎پھر قریش کا ایک شخص نکلے گا جس کے ماموں بنو کلب ہوں گے وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا وہ ان پر غالب آئیں گے ۷؎یہ بنی کلب کا لشکر ہوگا وہ لوگوں میں ان کے نبی کی سنت پر عمل کرے گا ۸؎اور اسلام زمین میں اپنی گردن بچھادے گا ۹؎پھر وہ سات سال قیام کریں گے پھر وفات پاجائیں گے اور ان پر مسلمان نماز پڑھیں گے ۱۰؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمقَامِ، وَيُبْعَثُ إِلَيهِ بَعْثٌ مِنَ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ، ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ،فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ، وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ، وَيُلْقِي الإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ فِي الأَرْضِ، فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلمُونَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5456 ، باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- 1
- 2