باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت حذیفہ ابن اسید غفاری سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہم پر تشریف لائے جب کہ ہم کچھ تذکرے کر رہے تھے تو فرمایا کیا تذکرہ کرتے ہو، صحابہ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا تذکرہ کررہے ہیں، فرمایا قیامت ہرگز نہ آوے گی حتی کہ اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو پھر حضور نے دھواں۲؎دجال جانور۳؎سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا،عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور یا جوج و ماجوج۴؎اور تین دھنسنے ایک دھنسنا پورب میں دوسرا پچھم میں اور ایک دھسنا عرب کے جزیرہ میں۵؎اور ان سب کے آخر میں وہ آگ جو یمن سے نکلے گی ۶؎لوگوں کو ان کی قیامت گاہ کی طرف ہانک دے گی ۷؎اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آگ جو عدن کے بیچ سے نکلے گی لوگوں کو محشر کی طرف ہانک دے گی ۸؎اور ایک روایت میں ہے دسویں علامت کے بارے میں ہے کہ وہ ہوا جو لوگوں کو دریا میں ڈال دے گی ۹؎(مسلم)

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: اطَّلَعَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: "مَا تَذْكُرُونَ؟ " قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ: "إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ،وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا،وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ".وَفِي رِوَايَةٍ: "نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ". وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْعَاشِرَةِ: "وَرِيح تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْر". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5464 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ چھ علامات سے پہلے اعمال کرلو ۱∞؎دھواں، دجال،زمین کا جانور،سورج کا پچھم کی طرف سے نکلنا،عام فتنہ اور تم میں سے ہر ایک کا خاص فتنہ ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا: الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَدَابَّةَ الأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5465 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ پہلی نشانی جو نکلے گی وہ سورج کا پچھم کی طرف سے نکلنا ہےاور جانور کا لوگوں کے سامنے نکلنا ہے ۱∞؎دوپہر کے وقت ۲؎ان دونوں میں سے جو بھی اپنے صاحب سے پہلے ہو تو دوسری اس کے قریب ہی پیچھے ہوگی ۳؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ أَوَّلَ الآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى، وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا قَرِيبًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5466 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تین چیزیں جب نمودار ہوں گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لائی تھی ۱∞؎یا اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی تھی سورج کا اپنے پچھم سے نکلنا۲؎اور دجال اور زمین کا جانور ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الأَرْضِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5467 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کہ سورج ڈوباکہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ جاتا کہاں ہے میں نے عرض کیا الله اور رسول ہی خوب جانیں،فرمایا یہ جاتا ہے حتی کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے ۱∞؎پھر اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے۲؎اور قریب ہے کہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو اور اجازت مانگے تو اسے۳؎اجازت نہ دی جاوے اور اس سے کہا جاوے کہ جہاں آیا ہے وہاں ہی لوٹ جا تو اپنے مغرب سے طلوع ہو۴؎یہ رب تعالٰی کا فرمان ہے کہ سورج اپنے ٹھکانے پر چلتا ہے فرمایا اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ: "أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنُ فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ وَلَا تُقْبَلُ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا يُؤْذَنُ لَهَا، وَيُقَالُ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} " قَالَ: "مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5468 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرات عمران بن حصین سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش اور قیامت کے درمیان دجال سے بڑی کوئی چیز نہیں ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5469 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تم پر چھپا نہیں الله تعالٰی کانا نہیں اور مسیح دجال آنکھ کا کانا ہے ۲؎اس کی آنکھ گویا ابھرا ہوا انگور ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَن عَبْد اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى،كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5470 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی نبی ایسا نہیں جنہوں نے اپنی امت کو کانے جھوٹے سے ڈرایا نہ ہو ۱∞؎آگاہ رہو کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں اس کی دو آنکھوں کے نیچے لکھا ہے ک،ف،ر۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبُّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5471 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کیا میں تم کو دجال کے متعلق وہ بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہ بتائی وہ کانا ہے ۱∞؎اور وہ اپنے ساتھ جنت دوزخ کی مثل لائے گا۲؎جسے وہ جنت کہے گاوہ آگ ہوگی ۳؎میں تم کو ایسےڈراتا ہوں جیسے اس سے حضرت نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ، إِنَّه أعوَرُ، وَإِنَّه يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثْلِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ: إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5472 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا دجال نکلے گا اور اس کے ساتھ پانی ۱∞؎اور آگ ہوں گے لیکن جسے لوگ پانی دیکھیں گے وہ آگ ہوگی جو جلا ڈالے گی اور جسے لوگ آگ دیکھیں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا۲؎تو تم میں سے جو یہ پائے وہ اس میں جائے جسے آگ دیکھے کہ وہ میٹھا عمدہ پانی ہے (مسلم، بخاری)مسلم نے یہ زیادہ فرمایا کہ دجال آنکھ کا کانا ہے جس پر موٹا ناخونہ ہے۳؎اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہے کافر جسے ہر پڑھابے پڑھا مسلمان پڑے گا۴؎

وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنارًا، فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً فَنَارٌ تُحْرِقُ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا فَمَاءٌ بَارِدٌ عَذْبٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَزَاد مُسْلِمٌ: "إِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ العَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غليظةٌ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كاتبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5473 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے ان سے ہی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال بائیں آنکھ کا کانا ہے ۱∞؎بہت بالوں والا۲؎اس کے ساتھ اس کی جنت اور اس کی آگ ہوگی تو اس کی آگ جنت ہے اور اس کی جنت آگ ہے۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ، مَعَهُ جَنَّتَهُ وَنَارُهُ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5474 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت نواس ابن سمعان سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال کاذکر فرمایا تو فرمایا اگر وہ نکلا اور میں تم میں ہوا تو تمہارے بغیر اس کا مقابل میں ہوں گا ۱∞؎اور اگر نکلا اور میں تم میں نہ ہوا تو ہر شخص اپنی ذات کا محافظ ہے۲؎اور ہر مسلمان پر الله میرا خلیفہ ہے۳؎وہ جوان ہے سخت گھونگر بال۴؎اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہے گویا میں اسے عبدالعزیٰ ابن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۵؎تو تم میں سے جو اسے پائے تو اس پر سورۂ کہف کی شروع کی آیتیں پڑھے اور ایک روایت میں ہے کہ اس پر سورۂ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے کہ وہ تمہارا امان ہے اس کے فتنہ سے۶؎وہ شام و عراق والے راستے سے نکلے گا تو داہنے بائیں فساد پھیلائے گا۷؎اے الله کے بندو ثابت قدم رہنا ۸؎ہم نے عرض کیا یارسول الله اس کا زمین میں ٹھہرنا کتنا ہے فرمایا چالیس دن ۹؎ایک دن سال کی طرح ہوگا اور ایک دن مہینہ کی طرح اور ایک دن ہفتہ کی طرح اور بقیہ دن تمہارے عام دنوں کی طرح ۱۰؎ہم نے عرض کیا یارسول الله تو یہ دن جو ایک سال کی طرح ہوگا کیا اس میں ہم کو ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی فرمایا نہیں تم اس کے لیے اندازہ لگالینا ۱۱∞؎ہم نے عرض کیا یارسول الله زمین میں اس کی تیز رفتاری کیسی ہوگی فرمایا جیسے بادل جس کے پیچھے ہوا ہو۱۲؎وہ ایک قوم پر آوے گا انہیں بلائے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے تو آسمان کو حکم دے گا وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا وہ اگائے گی ان کے جانور آئیں گے جیسے پہلے تھے اس سے زیادہ دراز کوہان والے اور زیادہ بھرے ہوئے تھن والے اور زیادہ لمبی کوکھوں والے۱۳؎پھر ایک دوسری قوم کے پاس آئے گا انہیں بلائے گا وہ اس کی بات رد کردیں گے وہ ان کے پاس سے لوٹ جاوے گا۱۴؎تو یہ لوگ قحط زدہ رہ جاویں گے۱۵؎کہ ان کے ہاتھوں میں ان کے مال میں سے کچھ نہ رہے گا۱۶؎اور ویرانہ پرگزرے گا اس سے کہے گا اپنے خزانے نکال تو اس کے پیچھے یہ خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح چلیں گے۱۷؎پھر ایک جوانی سے بھرے ہوئے شخص کو بلائے گا اسے تلوار سے مار کر اس کے دوٹکڑے کرکے تیر کے نشان پر پھینک دے گا۱۸؎پھر اسے بلائے گا تو وہ آجاوے گا اور اس کا چہرہ چمکتا ہوگا وہ ہنستا ہوگا جب کہ وہ اس طرح ہوگا کہ الله تعالٰی مسیح ابن مریم کو بھیجے گا۱۹؎آپ دمشق کے مشرقی سفید مینارے کے پاس دو زعفرانی کپڑوں کے درمیان اتریں گے۲۰؎اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے جب اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو اس سے قطرے ٹپکیں گے موتیوں کی طرح ۲۱∞؎پھرکسی کافر کوممکن نہ ہوگا کہ آپ کی سانس پائے مگر مرجاوے گا اور آپ کی سانس وہاں تک پہنچے گی۲۲؎جہاں تک آپ کی نظر جاوے گی آپ اسے تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے باب لد میں پائیں گے۲۳؎تو قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ کے پاس وہ قوم آوے گی جنہیں الله نے دجال سے محفوظ رکھا تو آپ ان کے چہرے صاف فرمائیں گے۲۴؎اور انہیں ان کے جنتی درجات کی خبر دیں گے وہ اس طرح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ کو رب تعالٰی وحی کرے گا کہ میں نے اپنے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں تو میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۲۵؎اور الله یا جوج ماجوج کو بھیجے گا جوہر ٹیلے سے ڈورتے آئیں گے۲۶؎تو ان کی اگلی جماعت بحیر طبریہ پر گزرے گی اس کا سارا پانی پی جاوے گی۲۷؎ان کی آخری جماعت گزرے گی تو کہے گی کہ کبھی یہاں پانی تھا حتی کہ جبل خمر تک پہنچیں گے،یہ بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے۲۸؎تو کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو قتل کر دیا آؤ آسمان والوں کو قتل کریں۲۹؎تو اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے تو الله ان کے تیر خون سے رنگین لوٹائے گا۳۰؎اور اکے نبی اور ان کے ساتھی محصور رہیں گے حتی کہ ان کے لیے ایک بیل کی سری سو اشرفیوں سے بڑھ کر ہوگی۳۱∞؎جو تمہارے لیے آج ہے تب الله کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی متوجہ الی الله ہوں گے۳۲؎تب اان یاجوح ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا تو وہ سب ایک شخص کی موت کی طرح مردہ ہوجائیں گے۳۳؎پھر الله کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں بالشت بھر زمین ایسی نہ پائیں گے جو ان کی لاشوں اور بدبو نے نہ بھردی ہو۳۴؎تب الله کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی الله تعالٰی سے دعا کریں گے تو الله تعالٰی پرندے بھیجے گا۳۵؎اونٹ کی گردن کی طرح وہ انہیں اٹھا کر جہاں الله چاہے گا پھینک دیں گے۳۶؎اور ایک روایت میں ہے کہ انہیںنھبلمیں پھینک دیں گے۳۷؎اور مسلمان ان کی کمانیں ان کے کمانوں ان کے نیزوں اور ترکش سات سال تک جلائیں گے۳۸؎پھر الله تعالٰی بارش بھیجے گا جس سے نہ کوئی گھر مٹی کا بچے گا نہ اون کا تو وہ زمین کو دھودے گی۳۹؎حتی کہ اسے شیشہ کی طرح کر چھوڑے گی۴۰؎زمین سے کہا جاوے گا تو اپنے پھل اُگا اور اپنی برکت لوٹا دے تو اس دن ایک انار سے ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ لے گی۴۱∞؎اور دودھ میں برکت دی جاوے گی حتی کہ تازہ جنی ہوئی اونٹنی لوگوں کی ایک جماعت کو کافی ہوگی اور نئی جنی ہوئی گائے ایک قبیلہ کو کافی ہوگی اور نئی جنی ہوئی بکری لوگوں کے ایک خاندان کو کافی ہوگی۴۲؎جب کہ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ الله ایک خوشگوار ہوا بھیجے گا وہ انہیں ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی تو ہر مسلمان ہر مؤمن کی روح قبض کرلے گی۴۳؎اور بدترین لوگ رہ جائیں گے جو زمین میں گدھوں کی جفتی کی طرح زنا کریں گے ان پر قیامت ہوگی۴۴؎(مسلم)سوا دوسری روایت کے اور یہ قول ہے کہ انہیں نھبل میں پھینک دے گیسبع سنینتک ۴۵؎(ترمذی)

وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- الدَّجَّالَ فَقَالَ: "إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ، عَيْنُهُ طَافِيةٌ، كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ،فَمَنْ أَدْركَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ".
وَفِي رِوَايَةٍ: "فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ بِفَوَاتِحِ سُورَةِ الْكَهْفِ، فَإِنَّهَا جِوَارُكُمْ مِنْ فِتْنَتِهِ، إِنَّه خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا،يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُثُوا"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الأَرْضِ؟ قَالَ: "أَرْبَعُونَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ؟ قَالَ: "لَا، اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَه"، قُلْنَا: يَا رسولَ اللَّهِ! وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الأَرْضِ؟قَالَ: "كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ، فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالأَرْضَ فَتُنْبِتُ، فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ،فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ، ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْد المَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُوذَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ مِثْلَ جُمَانٍ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدَ مِنْ رِيح نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَاب لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ، ثمَّ يَأْتِي عِيسَى قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ،فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى: أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِيَ إِلَى الطُّورِ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ، فَيَشْرُبونَ مَا فِيهَا، وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ وَيَقُولُ: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ، ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ الْخَمَرِ، وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيَقُولُونَ: لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الأَرْضِ، هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا، وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِئَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ، فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الأَرْضِ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتَنُهُمْ، فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ".
وَفِي رِوَايَةٍ: "تَطْرَحُهُمْ بِالنَّهْبَلِ، وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ،فَيَغْسِلُ الأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ،ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ، وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ، حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ،وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَم لَتَكْفِي الْفَخْذَ مِنَ النَّاسِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ،وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ، فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ إِلَّا الرِّوَايَةَ الثَّانِيَةَ، وَهِيَ قَوْلُهُ: "تَطْرَحُهُمْ بِالنَّهْبَلِ" إِلَى قَوْلِهِ: "سبع سِنِين". رَوَاهَا التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5475 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال نکلے گا تو اس کی طرف مؤمنوں سے ایک صاحب متوجہ ہوں گے ۱∞؎تو انہیں دجال کے سپاہی ملیں گے ۲؎اور ان سے کہیں گے کہ کہاں کا ارادہ کر رہے ہو کہیں گے کہ میں اس کی طرف کا ارادہ کررہا ہوں جو نکلا ہے۳؎فرمایا وہ لوگ ان سے کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے،وہ کہیں گے ہمارے رب میں پوشیدگی نہیں۴؎تو یہ لوگ کہیں گے کہ اسے قتل کردو تو ان کے بعض بعض سے کہیں گے کیا تم کو تمہارے رب نے اس کے بغیر قتل کرنے سے منع نہیں کیا ہے ۵؎تو وہ انہیں دجال کے پاس لے جائیں گے مؤمن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو یہ ہی وہ دجال ہے جس کا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے ذکر فرمایا ۶؎فرمایا تب دجال اس کے متعلق حکم دے گا تو انہیں لمبا ڈال دیا جاوے گاکہے گا اسے پکڑلو اور زخمی کردو ۷؎چنانچہ ان کی پیٹھ اور پیٹ مار کر چوڑے کردیں گے ۸؎فرمایا وہ کہے گا کیا مجھ پر ایمان نہیں لاتا فرمایا وہ کہیں گے کہ تو جھوٹا مسیح ہے ۹؎فرمایا بس اس کے متعلق حکم دیا جاوے گا تو آرے سے ان کی مانگ سے چیر دیا جاوے گا حتی کہ ان کے پاؤں چیر دیئے جائیں گے ۱۰؎فرمایا پھر دجال دو ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر اس سے کہے گا کھڑا ہو وہ سیدھا کھڑا ہوجاوے گا ۱۱∞؎پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتا ہے تو وہ کہے گا تیرے بارے میں میری بصیرت ہی زیادہ ہوئی۱۲؎فرمایا پھر کہیں گے اے لوگو یہ میرے بعد اب کسی آدمی سے یہ نہ کرسکے گا۱۳؎فرمایا پھر اسے دجال ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے گلے تک کے درمیان تانبہ کردیا جاوے گا۱۴؎پھر وہ اس تک راہ پانے کی طاقت نہ رکھے گا فرمایا کہ پھر دجال ان کے ہاتھوں پاؤں کو پکڑے گا اور پھینک دے گا لوگ سمجھیں گے کہ اسے آگ کی طرف پھینکا مگر وہ جنت میں ڈالا جاوے گا ۱۵؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ شخص رب العالمین کے نزدیک تمام لوگوں میں بڑی شہادت والا ہوگا۱۶؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ الدَّجَّالُ، فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، فَيَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ، فَيَقُولُونَ لَهُ: أَيْنَ تَعْمِدُ؟ فَيَقُولُ: أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ لَهُ: أَوَمَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا؟ فَيَقُولُ: مَا بِرَبِّنَا خَفَاء، فَيَقُولُونَ: اقْتُلُوهُ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ، فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ،فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، قَالَ: "فَيَأْمُرُ الدَّجَّال بِهِ فَيُشَبَّحُ، فَيَقُولُ: خُذُوهُ وَشُجُّوهُ، فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا"، قَالَ: "فَيَقُول: أَوَمَا تُؤْمِنُ بِي؟ " قَالَ: "فَيَقُولُ: أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ"، قَالَ:"فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيْؤشَرُ بالمنشارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ"، قَالَ: "ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أَتؤمنُ بِي؟ فَيَقُولُ: مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً"، قَالَ: "ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ"، قَالَ: "فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ، فَيُجْعَلُ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا،فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا" قَالَ: "فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَيَقْذِفُ بِهِ، فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5476 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ام شریک سے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ دجال سے بھاگیں گے حتی کہ پہاڑوں میں جا پہنچیں گے۲؎ام شریک فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله تو اس دن عرب کہاں ہوں گے فرمایا وہ تھورے ہوں گے۳؎(مسلم)

وَعَنْ أُمِّ شَرِيكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ"، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "هُمْ قَلِيلٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5477 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اصفہان کے یہود میں سے ستر ہزار آدمی دجال کی پیروی کرلیں گے ۱∞؎جن پر طیلسان لباس ہوگا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أصفَهانَ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِم الطَّيَالِسَةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5478 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال آوے گا حالانکہ اس کو مدینہ کے راستوں میں داخلہ ناممکن ہوگا تو بعض کھاری زمینوں میں جو مدینہ سے متصل ہیں وہاں اترے گا ۱∞؎تو اس کی طرف ایک شخص نکلے گا جو لوگوں میں بہترین یا لوگوں میں سے بہترین ہوگا۲؎وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہ ہی دجال ہے جس کی خبر ہم کو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے دی تھی تو دجال کہے گا کہ بتاؤ تو اگر میں اسے قتل کردوں پھر زندہ کردوں تو کیا تم اس میں کچھ شک کرو گے۳؎وہ لوگ کہیں گے کہ نہیں تو وہ اس شخص کو قتل کرے گا پھر زندہ کرے گا تب وہ کہے گا والله کہ اب سے پہلے تیرے متعلق زیادہ سمجھ بوجھ والا نہ تھا ۴؎پھر دجال اسے قتل کرنا چاہے گا تو اس پر قابو نہ دیا جاوے گا۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ،فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ -وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ- فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ، فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5479 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آوے گا اس کا ارادہ مدینہ منورہ کا ہوگا ۱∞؎حتی کہ احد کے پیچھے اترے گا پھر فرشتے اس کا منہ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہاں ہی ہلاک ہوگا۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5480 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مدینہ منورہ میں مسیح دجال کا رعب نہ داخل ہوگا ۱∞؎اس دن اس کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5481 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے جناب فاطمہ بنت قیس سے ۱∞؎فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلانچی کو سنا جو اعلان کررہا تھا کہ نماز تیار ہے تو میں مسجد کی طرف گئی میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھی ۲؎تو جب حضور نے نماز پوری کرلی تو منبر پر جلوہ افروز ہوئے حالانکہ حضور ہنس رہے تھے۳؎فرمایا ہرشخص اپنی نماز کی جگہ رہے۴؎پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ ہم نے تم کو کیوں جمع فرمایا ہے سب نے عرض کی الله رسول ہی جانیں،فرمایا والله ہم نے تم کو بشارت دینے اور ڈرانے کے لیے جمع نہیں فرمایا ۵؎لیکن اس لیے جمع فرمایا ہے کہ تمیم داری ایک عیسائی آدمی تھا وہ آیا اور مسلمان ہوگیا ۶؎اور اس نے ہم کو ایسی خبر دی جو اس کے موافق ہے جو ہم تم کو مسیح دجال کے متعلق بتایا کرتے تھے۷؎اس نے ہم کو خبر دی کہ وہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمیوں کے سامنے دریائی جہاز میں سوار ہوئے ۸؎تو انہیں ایک ماہ تک موج سمندر میں کھلاتی رہی ۹؎پھر وہ مغرب کی طرف جزیرہ کے قریب پہنچے پھر وہ چھوٹی کشتی میں بیٹھے جزیرہ میں داخل ہوئے۱۰؎تو انہیں ایک بہت زیادہ اور موٹے بالوں والا جانور ملا ۱۱∞؎کہ بالوں کی زیادتی کی وجہ سے یہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اگلا اورپچھلا حصہ کون سا ہے ۱۲؎ان لوگوں نے کہا تیری خرابی ہو تو کون ہے وہ بولی میں جاسوس ہوں۱۳؎تم لوگ کلیسہ میں اس شخص کے پاس جاؤ کہ وہ تمہاری خبر کا مشتاق ہے،کہا کہ جب اس نے ہم سے ایک آدمی کا نام لیا تو ہم اس سے بولے کہ وہ جناتنی ہے۱۴؎کہا کہ پھر ہم تیز چلے حتی کہ کلیسہ میں داخل ہوگئے ۱۵؎تو اس میں ایک بہت بھاری بھر کم آدمی تھا ہم نے اتنا بڑا اورایسا مضبوط بندھا ہوا آدمی نہ دیکھا تھا اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے ۱۶؎اس کو گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے سے جکڑا ہوا تھا ہم نے کہا تیری خرابی ہو تو ہے کون وہ بولا میری خبر پر تم نے قابو پالیا تم بتاؤ تم کون لوگ ہو۱۷؎انہوں نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں ہم دریائی جہاز میں سوار ہوئے تو ہم کو دریا ایک ماہ تک کھلاتا رہا ۱۸؎پھر ہم اس جزیرہ میں داخل ہوئے تو ہم کو بڑے بالوں والا جانور ملا وہ بولا میں جاسوس ہوں اس کلیسہ کی طرف جاؤ تو ہم دوڑتے ہوئے تیری طرف آگئے وہ بولا کہ مجھے بیسان کے باغ کی خبر دو کیا وہ پھل دے رہا ہے ۱۹؎ہم نے کہا ہاں وہ بولا قریب ہے کہ پھل نہ دے گا ۲۰؎بولا مجھے بحیرہ طبریہ کے متعلق بتاؤ کیا اس میں پانی ہے ۲۱∞؎ہم نے کہا کہ وہ تو بہت پانی والا ہے بولا قریب ہے کہ اس کا پانی خشک ہوجاوے۲۲؎بولا مجھے چشمہ زغر کے متعلق بتاؤ کیا اس چشمہ میں پانی ہے اور کیا وہاں کے باشندے کھیتی باڑی کررہے ہیں۲۳؎ہم نے کہا ہاں اس میں بہت پانی ہے اور وہاں کے باشندے اس کے پانی سے کھیتی باڑی کررہے ہیں۲۴؎وہ بولا مجھے ناخواندہ لوگوں کے نبی کے متعلق خبر دو کہ انہوں نے کہا کیا ۲۵؎ہم نے کہا وہ مکہ سے تشریف لے گئے اور مدینہ قیام پذیر ہوئے بولا کیا عرب نے ان سے جنگ کی ہم نے کہا ں ہاں بولا ان کے ساتھی نبی نے کیا کیا ہم نے اسے بتایا کہ وہ متصل عرب پر غالب آگئے ہیں اور عرب نے ان کی اطاعت کرلی ہے ۲۶؎بولا عرب کے لیے ان کی اطاعت کرنا بہتر ہے ۲۷؎اور میں تمہیں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں ۲۸؎قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جاوے تو میں نکلوں تو ساری زمین میں چلوں کوئی بستی نہ چھوڑوں مگر وہاں چالیس دن میں اتروں سواء مکہ اور مدینہ کے ۲۹؎کہ وہ دونوں بستیاں مجھ پر حرام ہیں جب کبھی میں ان میں سے کسی میں داخل ہوتا جاؤں گا تو میرے سامنے ایک فرشتہ آوے گا جس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہوگی جو مجھے وہاں سے روک دے گا اور اس کے ہر راستہ پر فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہوں گی۳۰؎رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا عصامنبر پر مارا اور فرمایا یہ ہے طیبہ یعنی مدینہ منورہ، بولو کیا ہم نے تم کو یہ خبریں دی تھیں لوگوں نے کہا ہاں ۳۱∞؎آگاہ رہو کہ وہ شام یا یمن کے جنگل میں ہے نہیں بلکہ مشرق کی طرف وہ ہے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا ۳۲؎(مسلم)

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يُنَادِي: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: "لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ"، ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا، فَجَاءَ [فَبَايَعَ] وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ بِهِ عَنِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذامَ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْر، فَأَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، قَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ،انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ؛ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيطَانَةً، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أعظمُ إِنْسَانٍ مَا رَأَيْنَاهُ قطُّ خَلْقًا وأَشَدُّهُ وَثَاقًا، مجموعةٌ يَده إِلَى عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ، قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي، فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ العَرَبِ ركِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ، فَلَعِبَ بِنَا الْبَحْرُ شَهْرًا، فَدَخَلْنَا الجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، اعْمِدُوا إِلَى هَذَا فِي الدَّيْرِ، فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا، فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ هَلْ تُثْمِرُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا تُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا: هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، هِيَ كَثِيرَةُ المَاءِ، وَأَهْلُهُ يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ، قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ،وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي : أَنَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ، وَإِنِّي يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الأَرْضِ، فَلَا أَدَعُ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، هُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا، كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدًا مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا، وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقَبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا".
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَطَعَنَ بِمِخْصَرتِهِ فِي الْمِنْبَرِ-: "هَذِه طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ"، يَعْنِي الْمَدِينَةَ، "أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ؟ "فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ اليَمَنِ، لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5482 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے آج رات اپنے کو کعبہ کے پاس دیکھا ۱∞؎تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ ان سب سے اچھا جو تم نے گندمی رنگ کے لوگ دیکھے ان پٹھے والے بال میں تمام پٹھے والوں سے اچھے جو تم نے دیکھے ہوں اس میں کنگھی کی ہوئی ہے ان سے پانی ٹپک رہا ہے۲؎دو شخصوں کے کندھوں پر ٹیک لگائے ہیں بیت الله کا طواف کررہے ہیں،میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ مسیح ابن مریم ہیں۳؎فرمایا میں پھر ایک شخص پر تھا بال چھلے والے۴؎داہنی آنکھ کا کانا گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور ہے جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے سب سے زیادہ مشابہہ ابن قطن سے تھا ۵؎اپنے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے کندھوں پر رکھے بیت الله کا طواف کررہا تھا ۶؎میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ مسیح دجال ہے ۷؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ وہ سرخ رنگ موٹے بال داہنی آنکھ کانی والا آدمی ہے ۸؎لوگوں میں اس سے زیادہ مشابہہ ابن قطن ہے اور ابوہریرہ کی حدیثلا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہاالخباب الملاحممیں ذکر کردی گئی اور ہم حضرت ابن عمر کی حدیثقام رسول الله صلی الله علیہ و سلم فی الناسابن صیاد کے قصہ میںان شاء اللهذکر کریں گے ۹؎

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رجَّلَها فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ" قَالَ: "ثُمَّ إِذَا أَنَا بَرُجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ فِي الدَّجَّالِ: "رَجُلٌ أَحْمَرُ، جَسِيمٌ، جَعْدُ الرَّأْسِ،أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ"، وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا" فِي (بَابِ الْمَلَاحِم) ، وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي النَّاس فِي (بَاب قصَّة ابْن الصياد) إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5483 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان