باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت فاطمہ بنت قیس سے تمیم داری کی حدیث میں مروی ہے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا کہ ناگاہ میں اس عورت پرگزرا جو اپنے بال گھسیٹ رہی تھی۲؎انہوں نے کہا تو کون ہے وہ بولی میں جاسوس ہوں اس محل کی طرف جاؤ ۳؎میں وہاں گیا تو ایک شخص تھا جو اپنے بال گھسیٹ رہا تھا قیدوں میں جکڑا ہوا تھا آسمان و زمین کے درمیان کود رہا تھا ۴؎میں نے کہا تو کون ہے وہ بولا میں دجال ہوں ۵؎(ابوداؤد)

عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي حَدِيثِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: قَالَ: فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعَرَهَا،قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعَرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الأَغْلَالِ، يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّال. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5484 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں نے تمہیں دجال کے متعلق خبریں دی حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ تم نہ سمجھو ۱∞؎مسیح دجال پستہ قد ٹیڑھے پاؤں والا ۲؎مٹھے ہوئے بال ایک آنکھ کا سپاٹ ہے وہ آنکھ نہ تو ابھری ہوئی ہے اور نہ دھنسی ہوئی۳؎اگر تم پر اشتباہ ہو تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنِّي حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا، إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ قَصِيرٌ، أَفْحَجُ، جَعْدٌ، أَعْوَرُ، مَطْمُوسُ الْعَيْنِ، لَيْسَتْ بِنَاتِئَةٍ وَلَا جَحْرَاءَ،فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5485 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوعبیدہ ابن جراح سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہ ہوئے مگر انہوں نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ۱∞؎اور میں نے تم کو اس سے ڈرایا پھر آپ نے ہم سے اس کے وصف بیان کیے فرمایا شاید اسے بعض وہ لوگ پائیں گے جنہوں نے مجھے دیکھا یا میرا کلام سنا ۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے فرمایا آج کی طرح یا اس سے بھی اچھے ۳؎(ترمذی و ابوداؤد)

وَعَن أَبي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ"، فَوَصَفَهُ لنا، قَالَ: "لَعَلَّهُ سَيُدْرِكهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "مِثْلُهَا"، يَعْنِي الْيَوْمَ، "أَوْ خَيْرٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5486 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن حریث سے ۱∞؎وہ حضرت ابوبکر صدیق سے راوی فرمایا ہم کو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی فرمایا دجال مشرقی زمین سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے اس کے پیچھے کچھ قومیں ہوں گی گویا ان کے چہرے کٹی ہوئی ڈھالیں ہیں ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصّديق قَالَ:حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا: خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ المَجَانُّ المُطَرَّقَةُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5487 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے جو دجال کو سنے وہ اس سے دور رہے ۱∞؎الله کی قسم کوئی شخص اس کے پاس جائے گا یہ سمجھ کر کہ میں مسلمان ہوں۲؎تو پھر اس کی اتباع کرلے گا ان شبہات کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ سَمِعَ بالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ مِنْهُ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5488 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید ابن سکن سے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال زمین میں چالیس سال رہے گا۲؎ایک سال ایک مہینہ کی طرح ہوگا اور مہینہ ہفتہ کی طرح اور ہفتہ ایک دن کی طرح اور دن آگ میں سوکھے پتے جلنے کی طرح ۳؎(شرح سنہ)

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، السَّنَةُ كَالشَّهْرِ،وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ،وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعَفَةِ فِي النَّارِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5489 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میری امت میں سے ۱∞؎ستر ہزار آدمی دجال کی پیروی کریں گے جن پر نقشیں لباس ہوگا ۲؎(شرح سنہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ". رَوَاهُ فِي "شرح السّنة".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5490 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے تو آپ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ دجال سے آگے تین سال ہوں گے ایک سال ایسا جس میں آسمان اپنی تہائی بارش روک لے گا اور زمین تہائی پیداوار ۱∞؎دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار اور تیسرے سال آسمان اپنی پوری بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار۲؎تو کوئی کھر والا ڈاڑھ والا جانور نہ بچے گا مگر ہلاک ہوجاوے گا۳؎اور اس کے سخت ترین فتنوں میں سے یہ ہوگا کہ ایک بدوی کے پاس آوے گا کہے گا بتا تو اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو یقین نہ کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۴؎تو شیطان اس کے سامنے اس کے اونٹ کی شکل میں آجاوے گا جیسے تھن ہوتے ہیں اس سے اچھے اور خوب بلند کوہان ۵؎فرمایا اور آوے گا ایک شخص کے پاس جس کے بھائی باپ مرچکے ہوں گے تو کہیں گے کہ بتا تو اگر میں تیرے سامنے تیرے باپ بھائی زندہ کر دوں تو کیا تو یقین کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۶؎تو اس کے سامنے شیطان اس کے باپ بھائی کی شکل میں آجاوے گا۷؎فرماتی ہیں پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی کام کے لیے تشریف لے گئے پھر واپس ہوئے حالانکہ قوم بہت رنج و غم میں تھی۸؎اس خبر کی وجہ سے جو حضور نے انہیں دی،فرماتی ہیں کہ حضور نے دروازے کے دو بازو پکڑ کر فرمایا اسماء کیا ہے۹؎میں نے عرض کیا یارسول الله دجال کے ذکر سے ہمارے دل نکل گئے ۱۰؎فرمایا اگر وہ نکلا اور ہم زندہ ہوئے تو اس کے مقابل ہم ہوں گے ۱۱∞؎ورنہ میرا رب ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۱۲؎عرض کیا یارسول الله ہم اپنا آٹا گوندھتے ہیں تو روٹیاں نہیں پکاتے حتی کہ ہم بھوکے ہو جاتے ہیں تو اس دن مسلمانوں کا کیا حال ہوگا۱۳؎فرمایا انہیں وہ تسبیح وتہلیل کافی ہوگی جو آسمان والوں کو کافی ہوتی ہے۔

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: "إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ: سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ، وَالأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ، فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِم إِلَّا هَلَكَ، وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَأْتِي الأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبَّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيْطَانَ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ ضُرُوعًا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً"، قَالَ: "وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي ربُكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ"، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمِّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ، قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلَحْمَتَي الْبَابِ فَقَالَ: "مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ، قَالَ: "إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِلَّا فإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ إِنَّا لَنَعْحِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُهُ حَتَّى نَجُوعَ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ"رَوَاهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5491 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے دجال کے متعلق جتنا میں نے سوال کیا اس سے زیادہ کسی نے سوال نہ کیا اور حضور نے فرمایا کہ دجال تم کو نقصان نہ دے گا ۱∞؎میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہے۲؎فرمایا وہ اپر اس سے زیادہ آسان ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي: "مَا يَضُرُّكَ؟ " قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهَرَ مَاءٍ، قَالَ: "هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5492 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ دجال ایک سفید گدھے پرنکلے گا ۱∞؎جس کے پاس دو کانوں کے درمیان ستر باع کا فاصلہ ہوگا ۲؎(بیہقی کتاب البعث والنشور)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَخْرُجُ الدَّجَّالُ عَلَى حِمَارٍ أَقْمَرَ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ سَبْعُونَ بَاعًا". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5493 ، باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان