- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا ابو القاسم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں ۱؎تو تم روتے زیادہ اور ہنستے کم ۲؎(بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5339 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے جناب ام العلاء انصاریہ سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی قسم میں نہیں جانتا حالانکہ میں رسول اللہ ہوں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جاوے گا۲؎(بخاری)
وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5340 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مجھ پر آگ پیش کی گئی ۱؎تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا جو اپنی ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی جارہی ہے۲؎جسے اس نے باندھ دیا تھا کہ نہ اسے کھلایا نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی حتی کہ بھوک سے مرگئی۳؎اور میں نے عمرو ابن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ آگ میں انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا یہ پہلا وہ شخص ہے جس نے سائبہ جانور ایجاد کیے۴؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا،وَرَأَيْت عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5341 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت زینب بنت جحش سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن ان کے پاس گھبراہٹ میں تشریف لائے فرماتے تھےلا الہ الا اللهعرب کی خرابی ہے اس شر سے جو قریب آگئی ۱؎آج یا جوج ماجوج کی دیوار سے اس کی برابر کھل گئی ۲؎اور اپنے انگوٹھے اور اس سے ملی ہوئی انگلی کا حلقہ بنا لیا،جناب زینب فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم ہلاک کردیئے جاویں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ ہوں۳؎فرمایا ہاں جب کہ خباثت بڑھ جاوے۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ زينَبَ بْنَتِ جَحْشٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- دَخَلَ يَوْمًا فَزِعًا يَقُولُ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،وَيلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمٍ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ" وَحَلَّقَ بِأُصْبَعَيْهِ: الإِبْهَامَ وَالَّتِي تَلِيهَا، قَالَتْ زَيْنَبُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَنُهْلَكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: "نَعَمْ إِذا كثُرَ الخَبَثُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5342 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم ۲؎اور شراب باجوں کو حلال سمجھ لیں گی۳؎اور کچھ قومیں ایک پہاڑی کے برابر اوتریں گی جب ان پر ان کے جانور آئیں گے۴؎ان کے پاس ایک شخص کسی کام کے لیے آئے گا وہ کہیں گے ہمارے پاس کل لوٹ کر آنا ۵؎پھر اﷲانہیں رات میں ہلاک کردے گا اور پہاڑگرادے گا۶؎اور دوسروں کو بندر سؤروں میں مسخ کردے گا۷؎قیامت کے دن تک ۸؎(بخاری) اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ہےحرہے بے نقطہ ہے اور رے سے ۹؎یہ غلط ہے وہ خ اور ز نقطہ والے سے ہے،اس کی اسی حدیث میں حمیدی اور ابن اثیر نے تصریح کی اور کتاب حمیدی میں ہے ۱۰؎بخاری سے اور یوں ہی خطابی نے شرح بخاری میں کہاتروح علیہم سارحۃ لہمیاتیھم لحاجۃ۱۱؎
وَعَنْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّوَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ، وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ، يَأْتِيهِمْ رَجُلٌ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا، فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ "الْمَصَابِيحِ": "الْحِرَ" بِالْحَاءِ وَالرَّاءِ الْمُهْمَلَتَيْنِ، وَهُوَ تَصْحِيفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ بِالْخَاءِ وَالزَّاي الْمُعْجَمَتَيْنِ نَصَّ عَلَيْهِ الْحُمَيْدِيُّ وَابْنُ الأَثِيرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ،وَفَي كِتَابِ "الْحُمَيْدِيِّ" عَنِ الْبُخَارِيِّ وَكَذَا فِي "شَرحه" للخطابي: "تَرُوحُ سَارِحَةٌ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ لحِاجَةٍ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5343 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب اﷲکسی قوم پر عذاب اوتارتا ہے ان سب پر عذاب بھیج دیتا ہے جو ان میں ہوں ۱؎پھر اپنے اعمال کے اٹھائے جائیں گے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5344 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر بندہ اس پر اٹھایا جاوے گا جس پر مرے گا ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا ماتَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5345 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں نے دوزخ کی طرف نہ دیکھا جس سے بھاگنے والا سورہا ہے اور نہ جنت کی مثل جس کا طلبگار سو رہا ہے ۱؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5346 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ۱؎آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چرچرائے۲؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ نہ آسمانوں میں چار انگل جگہ ہے مگر فرشتہ وہاں اپنی پیشانی رکھے ہوئے اﷲکو سجدہ کرتے ہوئے۳؎اﷲکی قسم اگر تم وہ چیزیں جانتے جو میں جانتاہوں تو تم ہنستے تھوڑا روتے بہت اور بیویوں سے بستروں پر لذت حاصل نہ کرتے۴؎اور اﷲکی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے ۵؎ابوذر کہنے لگے ہائے کاش کہ میں درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۶؎(احمد،ترمذی، ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم: "إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا فِيهَا مَوْضعُ أَرْبَعِ أَصَابعَ إِلَّا وملَكٌ وَاضعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كثِيرًا، وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ"قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5347 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو ڈرتا ہے وہ اندھیرے اٹھاتا ہے،جو اندھیرے اٹھاتا ہے وہ منزل پر پہونچ جاتا ہے ۱؎خبردار اللہ کا سودا مہنگا ہےخبردار اﷲکا سودا جنت ہے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5348 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ آگ سے اسے نکال لو جس نے مجھے ایک دن یاد کیا ہو یا ایک جگہ میں مجھ سے خوف کیا ہو ۱؎(ترمذی،بیہقی کتاب البعث والنشور)
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5349 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس آیت کریمہ کے متعلق پوچھا کہ وہ لوگ کہ جو کچھ کریں ان کے دل ڈرتے کیا وہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں ۱؎فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی۲؎لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے نمازیں پڑھتے اور صدقات دیتے ہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل قبول نہ ہو۳؎یہ لوگ بھلائیوں سے جلدی کرتے ہیں۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ هَذِهِ الآيَةِ: وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ؟ قَالَ: "لَا يَا ابِنْتَ الصِّدِّيقِ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5350 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کے دو تہائی حصےگزر جاتے تو اٹھتے فرماتے اے لوگو اﷲکا ذکر کرو اﷲکا ذکر کرو ۱؎دینے والی چیز آن پہونچی جس سے متصل پیچھے آنے والی آپہونچی۲؎موت آپہونچی موت آپہنچی مع ان تکالیف کے جو اس میں ہے۳؎(ترمذی)
وَعَنْ أُبَيِّ ابْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ اذْكُرُوا اللَّهَ، جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5351 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے لیے تشریف لائے ۱؎لوگوں کو دیکھا گویا وہ ہنس رہے ہیں ۲؎فرمایا اگر تم لذتیں ختم کرنے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو تو وہ تم کو اس سے روک دے جو میں دیکھ رہا ہوں ۳؎تو لذتیں ختم کردینے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو کیونکہ قبر پر کوئی دن نہیں آتا مگر وہ کلام کرتی ہے تو کہتی ہے ۴؎کہ میں مسافری کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں ۵؎اور جب بندہ مؤمن دفن کیا جاتا ہے تو اس سے قبر کہتی ہے تو خوب ہی آیا تو اپنے گھر میں آیا ۶؎جو لوگ میری پیٹھ پر چلتے ہیں ان سب میں تو بہت پیارا تھا ۷؎اب جب کہ آج میں تیری والی بنائی گئی ہوں اور میرے پاس لوٹا تو تو دیکھ لے گا میرا برتاوا اپنے ساتھ ۸؎فرمایا پھر قبر تاحد نظر فراخ ہوجاتی ہے اور جب بدکار یا کافر بندہ دفن کیا جاتا ہے تو اس سے قبر کہتی ہے کہ نہ تو خوش آمدید ہے نہ تو گھر میں آیا ۹؎مجھے ان سب ہی سے زیادہ ناپسند تھا جو میری پشت پر چلتے تھے ۱۰؎تو آج جب کہ میں تیری والی بنائی گئی اور تو میری طرف لوٹا تو میرا معاملہ اپنے ساتھ دیکھ لینا ۱۱؎فرماتے ہیں کہ پھر قبر اس سے سکڑ جاتی ہے حتی کہ مردہ کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں ۱۲؎فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا تو بعض کو بعض کے اندر داخل کردیا فرماتے ہیں اور اس پر ستر پتلے سانپ مسلط کردیئے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک زمین میں پھونک مار دے تو رہتی دنیا تک زمین کچھ نہ اگائے۱۳؎وہ اسے کاٹتے اور نوچتے ہیں حتی کہ اسے حساب تک پہنوچایا جاوے فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوذخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِصَلَاةٍ فَرَأَى النَّاسَ كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ، قَالَ: "أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى الْمَوْتُ، فَأَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّات الْمَوْتِ، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِ على الْقَبْر يومٌ إِلَّا تَكَلَّمَ فَيَقُولُ: أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ، وَأَنَا بَيْتُ الْوحْدَةِ، وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ، وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ، وَإِذَا دفُنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ". قَالَ: "فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ -أَوِ الْكَافِرُ- قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ" قَالَ: "فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِأَصَابِعِهِ، فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ، قَالَ: "وَيُقَيَّضُ لَهُ سَبْعُونَ تِنِّينًا،لَوْ أَنَّ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، فَيَنْهَسْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5352 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یارسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے ۱؎فرمایا مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا۲؎(ترمذی)
وَعَن أبي جُحَيْفَة قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ، قَالَ: "شَيَّبَتْنِي سُورَةُ هُودٍ وَأَخَوَاتُهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5353 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا یارسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے فرمایا مجھے سورۂ ہود،سورۂ واقعہ،سورۂالمرسلاتاورعمّ یتساءلوناوراذا الشّمس کوّرتنے بوڑھا کردیا۱∞؎(ترمذی)اور جناب ابوہریرہ کی حدیث کہ آگ میں داخل نہ ہوگا،الخکتاب الجہادمیں ذکر کردی گئی۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ، قَالَ: "شَيَّبَتْنِي {هُودٌ} وَ {وَالْوَاقِعَةُ} وَ {وَالْمُرسَلَاتِ} وَ {عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ} وَ {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هريرةَ: "لَا يَلِجُ النَّارَ" فِي (كتاب الْجِهَاد).
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5354 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ہیں ۱؎ہم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں موبقات یعنی ہلاک کرنے والے سمجھتے تھے ۲؎(بخاری)
عَن أَنَسٍ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مِنَ الْمُوبِقَاتِ. يَعْنِي الْمُهْلِكَاتِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5355 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عائشہ تم حقیرو معمولی گناہوں سے بچی رہو ۱؎کہ ان کے متعلق بھی اﷲکی طرف سے مطالبہ کرنے والا ہے ۲؎(ابن ماجہ، دارمی،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ؛ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ والْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5356 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن ابو موسیٰ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے عبداﷲابن عمر نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا تھا ۲؎میں نے عرض کیا نہیں،فرمایا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے فرمایا کہ اے ابو موسیٰ کیا تم کو یہ پسند ہے کہ ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کرنا آپ کے ساتھ جہاد کرنا اور حضور کے ساتھ ہمارے سارے اعمال جو ثابت ہوئے اور یہ کہ ہر کام جو ہم نے حضور کے بعد کئے ہم اس سے نجات پاجائیں پورا پورا ۳؎تو تمہارے والد نے میرے والد سے کہا نہیں واللہ۴؎ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جہاد کیے اور نمازیں پڑھیں،روزے رکھے اور سب سے اچھے عمل کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت لوگ ایما ن لائے اور ہم ان کی امید رکھتے ہیں ۵؎میرے والد نے کہا کہ لیکن میں تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے کہ میں تو تمنا کرتاہوں۶؎کہ یہ سب کچھ ہمارے لیے ثابت اور یہ کہ ہم نے اس کے بعد جو کام کیے ہیں۷؎ان سے نجات پاجائیں برابر سر بہ سر ۸؎تو میں نے کہا یقینًا تمہارے باپ اﷲکی قسم میرے باپ سے بہتر تھے ۹؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ: يَا بَا مُوسَى هَلْ يَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَهِجْرَتَنَا مَعَهُ وَجِهَادَنَا مَعَهُ وَعَمَلَنَا كُلَّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا؟ وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي: لَا وَاللَّهِ، قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ، قَالَ أَبِي: وَلَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ كَانَ خيرًا من أبي. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5357 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مجھے میرے رب نے نو چیزوں کا حکم دیا اللہ سے ڈرنا خفیہ اور ظاہر ۱؎اور انصاف کی بات کرنا غصہ اور رضا میں۲؎درمیانی چال فقیری اور امیری میں۳؎اور یہ کہ میں اس سے جوڑوں جو مجھ سے توڑے اور اسے دوں جو مجھے محروم کرے اور اس کو معافی دوں جو مجھ پر ظلم کرے۴؎اور یہ کہ میری خاموشی فکر ہو،میرا بولنا ذکر،میرا دیکھنا عبرت ہو اور حکم دوں اچھائی کا اور کہا گیا کہ اچھی باتوں کا ۵؎(رزین)
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَمَرَنِي رَبِّي بِتِسْعٍ: خَشْيَةِ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَنْ أَصْلَ مَنْ قَطَعَنِي، وَأُعْطِي مَنْ حَرَمَنِي، وَأَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَنِي، وَأَنْ يَكُونَ صَمْتِي فِكْرًا، وَنُطْقِي ذِكْرًا، وَنَظَرِي عِبْرَةً، وَآمُرُ بِالْعُرْفِ -وَقِيلَ بِالْمَعْرُوفِ-". رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5358 ، باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- 1
- 2