باب:تصویروں کا باب

لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں کتاہو نہ اس گھر میں جس میں تصویریں ہوں ۲؎(مسلم، بخاری)

عَنْ أَبِي طَلْحَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4489 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ جناب میمونہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن غمگین سویرا کیا ۱∞؎اور فرمایاکہ جبریل نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا مگر مجھے ملے نہیں واللہ انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۲؎پھر آپ کے خیال میں ایک کتے کا بچہ آیا جو آپ کے تخت کے نیچے تھا ۳؎حکم دیا وہ نکال دیا گیا پھر اپنے ہاتھ شریف میں پانی لیا اسے اس کی جگہ چھڑک دیا۴؎جب شام ہوئی تو حضرت جبریل آپ کو ملے تو فرمایا کہ تم نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا وہ بولے ہاں لیکن ہم اس گھر میں نہیں جاتے ۵؎جہاں کتا ہو نہ وہاں جہاں تصویر ہو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح اٹھ کر کتوں کے قتل کا حکم دے دیا حتی کہ حضور چھوٹے باغ کے کتے کے قتل کا حکم دیتے تھے بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے تھے ۶؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصبحَ يَوْمًا وَاجِمًا وَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللّٰهِ مَا أَخْلَفَنِي» . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهٖ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهٗ فَأَمَرَ بِهٖ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بيدِهٖ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهٗ فَلَمَّا أَمْسٰى لَقِيَهٗ جِبْرِيلُ فَقَالَ: «لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ» . قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتّٰى إِنَّهٗ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4490 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کوئی ایسی چیز نہ چھوڑتے جس میں تصویریں ہوں مگر اسے توڑ دیتے تھے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهٖ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4491 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصویریں تھیں ۱∞؎پھر جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اندر نہ آئے ۲؎میں نے آپ کے چہرے میں ناپسندیدگی محسوس کی۳؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں اللہ رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۴؎میں نے کیا گناہ کیا ۵؎تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس پردہ کا کیا حال ہے میں نے عرض کیا کہ یہ میں نے آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور آپ اس سے تکیہ لگائیں ۶؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں والے لوگ قیامت کے دن عذاب دیئے جائیں گے ۷؎ان سے کہا جاوے گا کہ جو تم نے بنایا ۸؎انہیں زندہ کرو ۹؎اور فرمایا کہ وہ گھر جس میں تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے ۱۰؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمْرَقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى البَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللّٰهِ أَتُوبُ إِلَى اللّٰهِ وَإِلَى رَسُولِهٖ، مَاذَا أَذْنْبْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هٰذِهِ النَّمْرَقَةِ؟» قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هٰذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ". وَقَالَ:«إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4492 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے انہیں سے کہ انہوں نے اپنے ایک طاق پر پردہ ڈالا جس میں تصویریں تھیں تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھاڑ دیا ۱∞؎پھر انہوں نے اس کے دو تکیے گھر میں بنالیے جن پر حضور بیٹھتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ قَدِ اتَّخَذَتْعَلٰى سَهْوَةٍ لَهَا سِتْرًا فِيهِ تَمَاثِيلُ فَهَتَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمْرُقتَيْنِ فَكَانَتَا فِي الْبَيْتِ يَجْلِسُ عَلَيْهِمَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4493 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے انہیں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جہاد میں تشریف لے گئے تو میں نے ایک باریک چادر بنائی پھر میں نے اسے دروازے پر ڈالدیا ۱∞؎جب حضور تشریف لائے تو چادر دیکھی تو اسے کھینچا حتی کہ اسے پھاڑ دیا ۲؎پھر فرمایا کہ اللہ نے ہم کو یہ حکم نہیں دیا کہ ہم پتھروں اور مٹی کو پہنائیں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزَاةٍ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُهٗ عَلَى البَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ فَجَذَبَهٗ حَتّٰى هَتَكَهٗ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4494 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے ان سے ہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا قیامت کے دن سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی خلق سے مشابہت کرتے ہیں ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللهِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4495 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح گھڑنے بنانے لگے ۱∞؎تو انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُواذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيْرَةً "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4496 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ کے نزدیک سخت عذاب والے تصویر بنانے والے ہیں ۱∞؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰهِ الْمُصَوِّرُونَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4497 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر تصویر ساز(فوٹو گرافر)آگ میں ہوگا ہر تصویر کے عوض جو وہ بنائے ایک ذات بنائی جائے گی جو اسے دوزخ میں عذاب دے گی ۱∞؎ابن عباس نے فرمایا کہ اگر تم ضرور یہ ہی کرو تو درخت اور وہ چیزیں بناؤ جن میں جان نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول:«كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهٗ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَيُعَذِّبُهٗ فِي جَهَنَّمَ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّفَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَوَمَا لَا رُوحَ فِيهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4498 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ایسی خواب گھڑے جو اس نے دیکھی نہ ہو تو اسے مکلف کیا جاوے گا کہ دو جَو میں گرہ لگائے اور نہ کرسکے گا ۱∞؎اور جو کسی قوم کی بات سنے حالانکہ وہ ناپسند کرتے ہوں یا اس سے بھاگتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالاجائے گا۲؎اور جو تصویر بنائے تو اسے عذاب دیا جاوے گا اور مکلف کیا جاوے گا کہ اس میں روح پھونکے حالانکہ وہ پھونکنے والا نہیں(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهٗ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيْرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلٰى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4499 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نردشیر کھیل کھیلے ۱∞؎تو گویا اس نے اپنے ہاتھ سؤر کے گوشت اور اس کے خون میں رنگ لیے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهٗ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4500 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس جناب جبریل آئے بولے کہ میں آج رات آپ کے پاس آیا تھا ۱∞؎مجھے داخل ہونے سے کسی چیز نے نہ روکا بجز اس کے کہ دروازے پر تصاویر تھیں اور گھر میں باریک کپڑے کا پردہ تھا جس میں تصاویر تھیں ۲؎اور گھر میں کتا تھا ۳؎پس آپ حکم دیجئے کہ ان تصویروں کے سر کاٹ دیئے جاویں جو گھر کے دروازے پر ہیں تاکہ وہ درخت کی طرح رہ جاویں ۴؎اور پردہ کے متعلق حکم دیجئے کہ کاٹ دیا جاوے اورا س کے دو تکیے بنادیئے جاویں جو پھٹکے رہیں ۵؎روندھے جاویں اورحکم دیجئے کہ کتا نکال دیا جاوے ۶؎چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہی کیا۔(ترمذی،ابوداؤد)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّهٗ كَانَ عَلَى البَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي عَلٰى بَابِ الْبَيْتِ فَيُقْطَعْ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ ". فَفَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4501 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن ایک گردن نکلے گی ۱∞؎جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتی ہوگی اور دوکان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہوگی اور زبان ہوگی جس سے بولے گی کہے گی کہ میں تین شخصوں پر مسلط کی گئی ہوں۲؎ہر سرکش جابر ظالم پر اور ہر اس پر جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود پوجے اور تصویر سازوں پر۳؎(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللّٰهِ إِلَهًا آخَرَ، وَبِالْمُصَوِّرينَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4502 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور طبلہ حرام فرمادیا ۱∞؎اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۲؎کہا گیا ہے کہ کوبہ طبلہ ہے۳؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". قِيلَ: الْكُوبَةُ الطَّبْلُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4503 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا شراب اور جوئے اور باجے اور غبیراء سے غبیراء وہ شراب ہے جسے حبشی لوگ جوار سے بناتے ہیں جسے سکرکہ کہا جاتا ہے ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ. وَالغُبَيْرَاءُ: شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الحَبَشَةُ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ: السُّكُرْكَةُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4504 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی نرد کھیلے اس نے اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کی ۱∞؎ٖ(احمد، ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَه. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4505 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ کبوتر کے پیچھے دوڑ رہا ہے تو فرمایا شیطان شیطانہ کا پیچھا کررہا ہے ۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى رَجُلًا يَتَّبِعُ حَمَامَةً فَقَالَ: شَيْطَانٌ يَتَّبِعُ شَيْطَانَةً . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبِيهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4506 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت سعید ابن حسن سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا بولا اے ابن عباس میں ایسا شخص ہوں کہ میری روزی میری ہاتھ کی کاریگری میں ہے اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں ۲؎تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں تم کو نہیں خبر دیتا مگر وہ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی تصویریں بنائے تو اللہ اسے عذاب دے گا۳؎حتی کہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں کبھی نہ پھونک سکے گا تو وہ شخص بہت سخت ہانپا۴؎اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا ۵؎تو آپ نے فرمایا تجھے خرابی ہو اگر اس کے بنانے سے تو باز نہ آئے تو اس درخت کو اور ہر اس چیز کو اختیار کر جس میں جان نہیں ۶؎(بخاری)

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهٗ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هٰذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللّٰهَ مُعَذِّبُهٗ حَتّٰى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا» . فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهٗ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهٰذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4507 ، باب:تصویروں کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی بعض بیویوں نے ایک کنیسہ کا ذکر کیا ۱∞؎جسے ماریہ کہا جاتا تھا اور ام سلمہ ام حبیبہ زمین حبشہ میں پہنچی تھیں ۲؎تو ان دونوں نے اس کی خوبصورتی اور وہاں کی تصویروں کا ذکر کیا ۳؎تو حضور نے اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان میں جب کوئی نیک آدمی مرجاتا ہے اس کی قبر پر مسجد بنالیتے ہیں ۴؎پھر اس میں یہ تصویریں بناتے ہیں یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں بدترین ہیں ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ بَعْضُ نِسَائِهٖ كَنِيسَةً يُقَالُ لَهَا: مَارِيَّةُ وَكَانَتْ أُمُّ سَلِمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَذَكَرَتَامِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا فَرَفَعَ رَأْسَهٗ فَقَالَ: «أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلٰى قَبْرِهٖ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ خَلقِ اللهِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4508 ، باب:تصویروں کا باب