باب:دعوت کا بیان

کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اللہ تعالیٰ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا احترام کرے ۱؎اور جو اللہ تعالیٰ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے ۲؎اور جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے۳؎ایک روایت میں پڑوسی کے بجائے یوں ہے کہ جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ صلہ رحمی کرے ۴؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهٗ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهٗ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: بَدَلَ «الْجَارِ» وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رحِمَهٗ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4243 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوشریح کعبی سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتاہو وہ اپنے مہمان کا احترام کرے ۲؎اس کی مہمانی ایک دن رات ہے۳؎اور دعوت تین دن ہے اس کے بعد وہ صدقہ ہے مہمان کو یہ حلال نہیں کہ اس کے پاس ٹھہرا رہے حتی کہ اسے تنگ کردے۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهٗ جَائِزَتُهٗ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا بَعْدَ ذٰلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهٗ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهٗ حَتّٰى يُحَرِّجَهٗ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4244 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ ہم کو بھیجتے ہیں ۱؎توہم ایسی قوم پراترے ہیں جو ہماری مہمانی نہیں کرتی تو حضور کیا حکم دیتے ہیں ۲؎تب ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم پر اترو پھر وہ تمہارے لیے وہ دیں جو مہمانوں کے لیے مناسب ہے تو قبول کرلو ۳؎اگر نہ کریں تو ان سے مہمان کا وہ حق لے لو جو مہمانوں کو مناسب ہے۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يُقْرُونَنَا فَمَا تَرٰى؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَانْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّالضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُم»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4245 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن یا ایک رات باہر تشریف لائے تو اچانک ابوبکروعمر تھے ۱؎فرمایا اس گھڑی تم دونوں کو اپنے گھروں سے کس چیز نے نکالا عرض کیا بھوک نے ۲؎فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے بھی اس نے نکالا جس نے تم کو نکالا ۳؎اٹھو چنانچہ وہ حضور کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ۴؎ایک انصاری صاحب کے ہاں گئے ۵؎تو وہ اپنے گھر میں نہ تھے جب حضور کو ان کی بیوی نے دیکھا بولیں خوش آمدید اھلًا ۶؎ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں کہاں ہیں ۷؎بولیں ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ۸؎اتنے میں انصاری صاحب آگئے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا بولے اللہ کا شکر ہے ۹؎آج مجھ سے بہتر مہمانوں والا کوئی نہیں ۱۰؎پھر وہ چلے تو ان کی خدمت میں ایک بڑا خوشہ لائے جس میں کچے خشک و ترکھجوریں تھیں عرض کیا اس سے کھائیے ۱۱؎اور چھری لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ والی سے الگ رہنا۱۲؎پھر انہوں نے ان حضرات کے لیے بکری ذبح کی ان صاحبوں نے بکری اور اس خوشہ سے کھایا پانی پیا ۱۳؎پھر جب سیر ہوگئے اور پانی سے سیراب ہوئے ۱۴؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوبکروعمر سے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا قیامت کے دن ۱۵؎کہ تم کو تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم واپس نہ ہوئے حتی کہ تم کو یہ نعمتیں مل گئیں ۱۶؎(مسلم) ۱۷؎اور حضرت ابو مسعود کی حدیثکان رجل من الانصار باب الولیمۃمیں ذکر کی گئی ۱۸؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هٰذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَا: الْجُوعُ قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا» فَقَامُوا مَعَهٗ فَأَتٰى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهٖ فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرأَةُ قَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هٰذِهٖ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذٰلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هٰذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتّٰى أَصَابَكُمْ هٰذَا النَّعِيمُ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي "بَابِ الْوَليمَةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4246 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جوکسی قوم کا مہمان ہو پھر مہمان محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا لازم ہے ۱∞؎یہاں تک کہ وہ اپنی مہمانی اس کے مال اور کھیت سے حاصل کرے۲؎دارمی اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جو شخص کسی قوم کا مہمان بنے پھر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کرے تو اسے حق ہے کہ اپنی مہمانی کی مقدار لے لے۔

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْ كَرِبَ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهٗ حَتّٰى يَأْخُذَ لَهٗ بِقِرَاهُ مِنْ مَالِهٖ وَزَرْعِهٖ ». رَوَاهُ الدَّارمِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ: «وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يُقْرُوهُ كَانَ لَهٗ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4247 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالاحوص جشمی سے ۱؎وہ اپنے باپ سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ فرمایئے تو اگر میں کسی شخص پرگزروں تو نہ وہ میری مہمانی کرے نہ مجھے دعوت دے پھر وہ مجھ پر اس کے بعد گزرے تو میں اسے مہمان بناؤں یا بدلہ لوں فرمایا بلکہ مہمان بناؤ ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُقِرْنِي وَلَمْ يُضِفْنِي ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذٰلِكَ أَأَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ: « بَلْ أَقْرِهِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4248 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت انس یا ان کے سوا سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد ابن عبادہ کے ہاں اجازت چاہی تو فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو حضرت سعد نے کہا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ سنایا حتی کہ حضور نے تین بار سلام کیا ۲؎اور حضور کو سعد نے جواب دیا سنایا نہیں ۳؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے ۴؎تو جناب سعد حضور کے پیچھے گئے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ۵؎حضور نے کوئی سلام نہ کیا مگر وہ میرے کان میں پہنچا اور میں نے حضور کا جواب دیا آپ کو نہ سنایا میں نے چاہا کہ آپ کا سلام اور برکت زیادہ حاصل کرلوں ۶؎پھر وہ سب گھر میں آئے حضور کی خدمت میں کشمش پیش کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھالی ۷؎پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا کھانا نیکوں نے کھایا ۸؎تم پر فرشتوں نے دعاء رحمت کی ۹؎اور تمہارے پاس روزہ داروں نے افطاری کی ۱۰؎(شرح السنہ)

وَعَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلٰى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهٗ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي: وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهٗ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4249 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ مؤمن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی سی ہے اپنی رسی میں جو گھومتا ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے ۱؎اور مؤمن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے ۲؎تو تم اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور نیکو کار مؤمنوں کو ۳؎(بیہقی شعب الایمان)ابو نعیم فی الحلیۃ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهٖ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلٰى آخِيَّتِهٖ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الْأَتْقِيَاءَ وَأُوْلُوا مَعْرُوفَكُمُ الْمُؤْمِنِينَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4250 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے جسے غراء کہا جاتا تھا ۲؎تو جب چاشت پڑھ لیتے تو یہ پیالہ لایا جاتا تھا اس میں ثرید بنایا ہوا ہوتا تھا۳؎لوگ اس پر جمع ہوجاتے تھے پھر جب زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکڑوں بیٹھ گئے ۴؎تو ایک بدوی نے کہا یہ بیٹھک کیسی ہے ۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے کرم والا بندہ بنایا ہے اور مجھے سرکش متکبر نہیں بنایا ۶؎پھر فرمایا کہ اس کے کناروں سے کھاؤ درمیان کو چھوڑ دو اس میں برکت دی جائے گی ۷؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحٰى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَاهٰذِهِ الجِلْسَةُ؟فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا» ثُمَّ قَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4251 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت وحشی ابن حرب سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کھاتے ہیں اور سیرنہیں ہوتے ۲؎فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہو عرض کیا ہاں۳؎فرمایا اپنے کھانے پر جمع ہوجایا کرو اور اللہ کا نام لو تم کو اس میں برکت دی جائے گی ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ : إِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلٰى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيْهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4252 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابو عسیب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہرتشریف لائے مجھ پرگزرے تو مجھے بلایا میں نکل آیا پھر جناب ابوبکر پر گزرے انہیں بلایا وہ بھی آپ کے پاس آگئے پھر حضرت عمر پرگزرے تو انہیں بلایا وہ بھی نکل آئے تب چلے۲؎حتی کہ کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ۳؎تو باغ والے سے فرمایا ۴؎ہم کو کچی کھجوریں کھلاؤ ۵؎وہ ایک خوشہ لائے اس کو رکھ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا پھر ٹھنڈا پانی منگایا وہ پیا ۶؎پھر فرمایا ان نعمتوں کے متعلق تم سے قیامت کے دن سوال ہوگا ۷؎راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے خوشہ لیا اسے زمین پر مارا حتی کہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھڑگئیں پھر عرض کیایارسول اللہ ہم قیامت کے دن اس کے متعلق پوچھے جائیں گے۸؎فرمایا ہاں بجز تین چیزوں کے ۹؎وہ چیتھڑا جس سے انسان اپنا ستر لپیٹ لے،وہ ٹکڑا روٹی کا جس سے اپنی بھوک دفع کرے،وہ سوراخ جس میں سردی گرمی سے بہ تکلف داخل ہوجائے ۱۰؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)۱۱؎

عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتّٰى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: «أَطْعِمْنَا بُسْرًا» فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهٗ فَأَكَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هٰذَا النَّعِيمِ يَوْمَ القِيَامَةِ » قَالَ: فَأَخَذَ عُمَرُ العِذْقَ فَضَرَبَ فِيهِ الْأَرْضَ حَتّٰى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَمَسْؤُولُونَ عَنْ هٰذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ لَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهٗ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهٗ أَوْ حُجْرٍ يَتَدخَّلُ فِيهِ مَنِ الْحَرِّ وَالْقُرِّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الإِيمَانِ» . مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4253 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب دسترخوان رکھا جائے تو کوئی شخص نہ اٹھے تاآنکہ دسترخوان اٹھالیا جائے اور نہ اپنا ہاتھ اٹھائے اگرچہ سیر ہوجائے ۱؎حتی کہ قوم فارغ ہوجائے اور معذرت کردے ۲؎کیونکہ یہ کام اپنے ساتھی کو شرمندہ کرے گا کہ وہ بھی اپنے ہاتھ سمیٹ لے گا ممکن ہے کہ ابھی اسے کھانے کی ضرورت ہو۳؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ حَتّٰى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلَا يَرْفَعْ يَدَهٗ وَإِنْ شَبِعَ حَتّٰى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ ذٰلِكَ يُخَجِّلُ جَلِيسَهٗ فَيَقْبِضُ يَدَهٗ وَعَسٰى أَنْ يَكُونَ لَهٗ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4254 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی ۲؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے ساتھ کھاتے تو ان سب میں آخر تک کھاتے ۳؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ مَعَ قَوْمٍ كَانَ آخِرَهُمْ أَكْلًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4255 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہیں حضرت اسماء بنت یزید سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو حضور نے ہم پر پیش فرمایا ہم نے عرض کیا ہم کو خواہش نہیں ۲؎فرمایا بھوک اور جھوٹ جمع نہ کرو ۳؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَعَرَضَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ. قَالَ: «لَا تَجْتَمِعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4256 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اکٹھے ہوکر کھایا کرو الگ الگ نہ ہوؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے ۱؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4257 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت سے ہے انسان اپنے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک جائے ۱؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ مَعَ ضَيْفِهٖ إِلٰى بَابِ الدَّارِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4258 ، باب:دعوت کا بیان

اور بیہقی نے شعب الایمان میں انہیں سے اور ابن عباس سے روایت کی اور فرمایا اس کی اسناد میں ضعف ہے ۱؎

وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ عَنْهُ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهٖ ضُعْفٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4259 ، باب:دعوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس گھر میں کھایا جائے ۱؎اس میں خیروبرکت زیادہ تیزی سے آتی ہے بمقابلہ چھری کے جو اونٹ کے کوہان تک جائے ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى البَيْتِ الَّذِيْ يُؤْكَلُ فِيهِ مِنَ الشَّفْرَةِ إِلٰى سَنَامِ الْبَعِيرِ". ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4260 ، باب:دعوت کا بیان