- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی شخص کو یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین شب سے زیادہ چھوڑے رہے کہ جب دونوں ملیں تو یہ اس سے وہ اس سے منہ پھیرلے ۱∞؎ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هٰذَا وَيُعْرِضُ هَذٰاوَخَيْرُهُمَا الَّذِي يبْدَأ بِالسَّلَامِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5027 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ ۱∞؎کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے ۲؎اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو ۳؎اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو۴؎نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ۵؎اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا . وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5028 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۱∞؎تو ہر اس بندے کی بخشش کردی جاتی ہے جو کسی چیز کو الله کا شریک نہ جانے سواء اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو ۲؎تو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو حتی کہ آپس میں صلح کرلیں ۳؎(مسلم)۴؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلٌ كَانَتْ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءٌ فَيُقَالُ: اَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتّٰى يَصْطَلِحَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5029 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دوبار پیش کیے جاتے ہیں ۱∞؎پیر کے دن اور جمعرات کے دن تو ہر بندہ مؤمن کی بخشش کردی جاتی ہے سواء اس بندے کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں چھوڑو حتی کہ رجوع کرلیں ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهٗ بَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ: اُتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتّٰى يَفِيئَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5030 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرادے ۲؎بات بھلی کہے اور بھلی بات پہنچائے ۳؎(مسلم،بخاری)مسلم نے یہ زیادتی کی کہ فرماتی ہیں میں نے انہیں یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کو نہیں سنا کہ آپ لوگ جو جھوٹ بولتے ہیں ان میں سے کسی چیز کی اجازت دیتے ہوں سوا تین جھوٹ کے ۴؎جنگ ۵؎لوگوں کے درمیان صلح اور مرد کی اپنی بیوی سے بات اور بیوی کی اپنی خاوند سے بات ۶؎
وَعَنْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) . وَزَادَ مُسْلِمٌ قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5031 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
حضرت جابر کی حدیث کہ شیطان مایوس ہوچکا باب الوسوسہ میں ذکر کردی گئی ۱∞؎
وَذُكِرَ حَدِيْثُ جَابِرٍ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ فِي بَابِ الْوَسْوَسَةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5032 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین مقامات کے سواء کہیں جھوٹ جائز نہیں خاوند کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا تاکہ اسے راضی کرے اور جھوٹ بولنا جنگ میں ۱ ∞ ؎اور جھوٹ بولنا تاکہ لوگوں کے درمیان صلح کرائے ۲؎(احمد،ترمذی)
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيْدَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ لِيُرْضِيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5033 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو یہ جائز نہیں کہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے ۱∞؎تو جب اس سے ملے تو اسے تین بار سلام کرے ۲؎ہر بار میں وہ دوسرا اسے جواب نہ دے تو وہ اس کا گناہ لے کر لوٹا ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثَۃٍ فَإِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذٰلِكَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِإِثْمِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5034 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلم کو یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے تو جو تین دن سے زیادہ چھوڑے ۱∞؎پھر مرجاوے تو آگ میں داخل ہوگا ۲؎(احمد،ابو داؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5035 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابو خراش سلمی سے ۱∞؎انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے بھائی کو ایک سال چھوڑے رہے وہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5036 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی مسلمان کو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے ۱∞؎تو اگر اس پر تین دن گزر جاویں تو یہ اس سے ملے اسے سلام کرے پھر اگر وہ اسے سلام کا جواب دے دے تو دونوں ثواب میں شریک ہوگئے ۲؎اور اگر جواب نہ دے تو وہ گناہ کے ساتھ لوٹا سلام کرنے والا چھوڑنے سے نکل گیا ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهٖ ثَلَاثٌ فَلْيَلْقِهٖ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ وَخَرَجَ المُسلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5037 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابو الدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں روزے صدقہ اور نماز سے بڑھ کر درجہ والی چیز نہ بتاؤں ۱∞؎فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا آپس کے معاملہ کی درستی ۲؎اور آپس کے معاملہ کا بگاڑ وہ ہی مونڈ دینے والی ہے۳؎(ابوداؤد اور ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَالصَّلَاةِ؟ قَالَ قُلْنَا: بَلٰى. قَالَ: إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5038 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ۱∞؎حسد اور بغض ۲؎یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۳؎(احمد،ترمذی)
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5039 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا حسد سے بچو کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5040 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا آپس کے فساد سے بچو ۱∞؎کیونکہ یہ مونڈ دینے والی چیز ہے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5041 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابو صرمہ سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نقصان پہنچائے گا اسے الله نقصان دے گا ۲؎اور جوکسی سے مخالفت کرے گا الله اس سے مخالفت کرے گا ۳؎(ا بن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي صِرْمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللّٰهُ بِهٖ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللّٰهُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5042 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ لعنتی ہے وہ جو کسی مسلمان کو نقصان پہنچائے یا اسے فریب دے ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۲؎
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَكَرَ بِهٖ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5043 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم منبر پر چڑھے پھر بلند آواز سے ندا کی فرمایا اے ان لوگوں کے ٹولو جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور ان کے دل تک ایمان نہ پہنچا ۱∞؎مسلمانوں کو نہ تو ایذا دو نہ انہیں عار دلاؤ نہ ان کے خفیہ عیوب ڈھونڈھو۲؎کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کے خفیہ عیوب کی تلاش کرے گا تو الله اس کے عیب ظاہر کردے گا اگرچہ اسکے گھر میں ہوں۳؎اور اسے رسوا کردے گا اگرچہ وہ اپنی منزل میں کرے۔(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادٰى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهٖ وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلٰى قَلْبِهٖ لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهٗ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهٖ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5044 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے ۱∞؎وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ بدترین سود مسلمان کی آبرو میں ناحق دست درازی ہے ۲؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ .رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5045 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب مجھے میرے رب نے معراج دی ۱∞؎تو میں اس قوم پرگزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے کہ وہ اپنے چہرے اور سینے کھرچ رہے تھے ۲؎تو میں نے پوچھا اے جبریل یہ کون لوگ ہیں عرض کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں اور ان کی آبرؤوں میں مشغول ہوتے ہیں ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: " لَمَّا عَرَجَ بِي ربِّي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوْهَهُمْ وَصُدُوْرَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5046 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- 1
- 2