- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت مستورد سے ۱∞؎وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو کسی مسلمان آدمی مشغول ہو کر کچھ لقمے کھائے ۲؎تو الله اسے اس کی مثل دوزخ میں کھلائے گا۳؎اور جوکسی مسلمان آدمی کی وجہ سے کپڑا پہنایا جاوے تو الله اسے اس کی مثل دوزخ سے پہنائے گا۴؎اور جوکسی شخص کی وجہ سے سنانے اور دکھانے کی جگہ میں کھڑا ہو تو الله اسے قیامت کے دن سنانے اور دکھانے کی جگہ کھڑا کرے گا ۵؎(ابوداؤد)
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أُكْلَةً فَإِنَّ اللّٰهَ يُطعِمُهٗ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ كَسَا ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللّٰهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهٗ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللّٰهَ يَقُومُ لَهٗ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَ رِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5047 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اچھا گمان ۱∞؎اچھی عبادت سے ہے ۲؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ العِبَادَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5048 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت جناب عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں کہ حضرت صفیہ ۱∞؎کا اونٹ بیمار ہوگیا اور حضرت زینب ۲؎کے پاس بچی ہوئی سواری تھی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت زینب سے کہا کہ یہ اونٹ انہیں دے دو ۳؎وہ بولیں میں اس یہودیہ کو دوں۴؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ناراض ہوئے تو انہیں بقر عید محرم اور صفر کا کچھ حصہ چھوڑے رکھا ۵؎(ابوداؤد)اور حضرت معاذ ابن انس کی حدیث میںمن حمی مؤمناالخ شفقت و رحمت کے باب میں ذکر کردی گئی ۶؎
وَعَنْ عائشةَ قَالَتْ: اِعْتَلَّ بَعِيْرٌ لِصَفِيَّةَ وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ: أَعْطِيهَا بَعِيرًا . فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَرَهَا ذَا الْحُجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ وَبَعْضَ صَفَرٍ.رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ: مَنْ حَمٰى مُؤْمِنًا فِي بَابِ الشَّفَقَة وَالرَّحْمَة
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5049 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو اس سے فرمایا تونے چوری کی ۱∞؎وہ بولا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے سواء کوئی معبود نہیں تو حضرت عیسیٰ نے فرمایا میں الله پر ایمان لایا اور میں نےاپنے کو جھٹلایا۲؎(مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم:"رَأى عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهٗ عِيسٰى:سَرَقْتَ؟ قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. فَقَالَ عِيسٰى: آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَكَذَّبْتُ نَفْسِيْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5050 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فقیری قریب ہے کہ کفر ہوجاوے ۱∞؎اور حسد قریب ہے کہ تقدیر پر غالب آجاوے ۲؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَّغْلِبَ الْقَدرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5051 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
روایت ہے حضرت جابر سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جو اپنے بھائی سے معذرت کرے ۱∞؎وہ اس کی معذرت نہ مانے ۲؎یا اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس والے کا سا گناہ ہوگا۳؎ان دونوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا اور فرمایامکاسٹیکس لینے والا ہے۴؎
وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اعْتَذَرَ إِلٰى أَخِيهِ فَلَمْ يَعْذِرْهُ أَوْ لَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهٗ كَانَ عَلَيْهِ مثلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي«شُعَبِ الإِيمَانِ» وَقَالَ: الْمَكَّاسُ: الْعَشَّارُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5052 ، باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- 1
- 2