- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
باب:غصہ اورغرور کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے وصیت فرمایئے فرمایا غصہ نہ کیا کرو اس نے یہ سوال بار بار دہرایا حضور نے یہ ہی فرمایا غصہ نہ کیا کرو ۱∞؎(بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: أَوْصِنِيْ. قَالَ: لَا تَغْضَبْ . فَرَدَّ ذٰلِكَ مِرَارًا قَالَ: لَا تَغْضَبْ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5104 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص کشتی سے پہلوان نہیں ہوتا ۱∞؎پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے کو قابو میں رکھے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهٗ عِنْدَ الْغَضَبِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5105 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
حضرت حارثہ ابن وہب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں جنتی لوگ نہ بتاؤں ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاوے ۱∞؎اگر وہ الله پر قسم کھا جاوے تو الله اس کی قسم پوری کردے ۲؎کیا میں تمہیں آگ والے نہ بتاؤں ہر سخت دل بدکار متکبر۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ہر سخت دل حرامی۴؎غرور والا۔
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيْفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللّٰهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) . وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيْمٍ مُتَكَبِّرٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5106 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ وہ شخص آگ میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو ۱∞؎اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر غرور ہو ۲؎(مسلم)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبَهٖ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهٖ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5107 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں وہ نہ جاوے گا جس کے دل میں ذرہ برابر غرور ہو ۱∞؎تو ایک شخص نے عرض کیا کہ کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اس کا جوتا اچھا ہو۲؎فرمایا کہ الله تعالٰی جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۳؎غرور حق کو جھٹلانا لوگوں کو ذلیل سمجھنا ہے(مسلم)۴؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهٖ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ كِبْرٍ . فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَّكُونَ ثَوْبهٗ حَسَنًا وَنَعْلُهٗ حَسَنًا.قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ. الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5108 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن الله تعالٰی نہ کلام کرے گا ۱∞؎اور نہ انہیں پاک کرے گا۲؎اور ایک روایت میں ہےکہ نہ ان کی طرف نظر کرے گا ۳؎اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بڈھا زانی ۴؎اور جھوٹا بادشاہ ۵؎اور فقیر غرور والا ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ . وَفِي رِوَايَةٍ: "وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: شَيْخٌ زَانٍ وَمَلِكٌ كَذَّابٌ وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5109 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله تعالٰی نے فرمایا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہبند ہے ۱∞؎جو ان دونوں میں سے ایک مجھ سے چھیننا چاہے گا ۲؎میں اسے آگ میں داخل کروں گا۳؎اور ایک روایت میں ہے میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۴؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللّٰهُ تَعَالٰى: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَدْخَلْتُهُ النَّارَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: قَذَفْتُهٗ فِي النَّارِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5110 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ آدمی اپنے آپ کو اونچا لے جاتا رہتا ہے حتی کہ وہ جبارین میں لکھ دیا جاتا ہے ۱∞؎تو اسے وہ ہی عذاب پہنچتا ہے جو جبارین کو پہنچتا ہے ۲؎ترمذی کی روایت ہے
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهٖ حَتّٰى يُكْتَبَ فِي الْجَبَّارِينَ فَيُصِيبَهٗ مَا أَصَابَهُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5111 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے عمرو بن شعب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے مردوں کی صورت میں جنہیں ہر جگہ سے ذلت چھا جائے گی ۱∞؎ہانکے جائیں گے دوزخ کے ایک قید خانہ کی طرف جسے بولس کہا جاتا ہے ۲؎ان پر آگوں کی آگ چھا جائے گی۳؎اور وہ دوزخیوں کی پیپ یعنی طینہ سے پلائے جائیں گے۴؎(ترمذی)
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُحْشُرُ الْمُتَكَبِّرُونَ أَمْثَالَ الذَّرِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ يُسَاقُونَ إِلٰى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمّٰى: بُولَسُ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5112 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت عطیہ ابن عروہ سعدی سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے ۲؎اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے۳؎اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وہ وضو کرے۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا يُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5113 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے ابوذر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سےکسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اگر غصہ دفع ہوجائے تو فبہا ورنہ لیٹ جاوے ۱∞؎(احمد،ترمذی)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5114 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورواکڑ کرے ۱ ∞ ؎اونچی شان والے کو بھول جائے ۲؎برا بندہ وہ بندہ ہے جو ظلم اور زیادتی کرے ۳؎اور قہار اعلیٰ کو بھول جائے ۴؎برا بندہ وہ بندہ ہے جو بھول جاوے کھیل میں لگ جاوے اور قبرستان اور گل جانے کو بھول جائے ۵؎برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورکرے اور حد سے بڑھ جائے ۶؎اور اپنی ابتداء و انتہاء کو بھول جاوے۷؎وہ بندہ برا بندہ ہے جو دنیا کو دین کے لیے دھوکہ دے ۸؎وہ بندہ برا بندہ ہےجو شبہات سے دین کو بگاڑ دے ۹؎وہ بندہ برا بندہ ہے جسے ہوس کھینچے پھرے ۱۰؎وہ بندہ برا بندہ ہے جسے نفسانی خواہش گمراہ کردے ۱۱∞؎وہ بندہ برا بندہ ہے جسے خواہشیں ذلیل کر دیں۱۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی نے کہا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ۱۳؎ترمذی نے بھی کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۱۴؎
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدٰى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلٰى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهٰى وَلَهٰى وَ نَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلٰى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتٰى وَطَغٰى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَأَ وَالْمُنْتَهٰى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبَهَاتِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهٗ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهٗ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ . وَقَالَا: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5115 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی بندے نے الله کے نزدیک کوئی گھونٹ اس غصہ کے گھونٹ سے بہتر نہ پیا جسے بندہ الله کی رضا جوئی کے لیے پی لے ۱∞؎(احمد)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جُرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ تَعَالٰى».رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5116 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے الله تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق کہ بھلائی کے ذریعہ دفع کرو،فرمایا وہ بھلائی کے غصہ کے وقت صبر ہے اور برائی کے وقت معافی ہے ۱∞؎لوگ جب کریں گے تو الله تعالٰی ان کی حفاظت فرمائے گا اور ان کا دشمن ان کے سامنے پست ہوجاوے گا گویا وہ قریبی دوست ہے۲؎(بخاری تعلیقًا)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهٖ تَعَالٰى: (ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ) قَالَ: الصَّبْرُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَالْعَفْوُ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمَهُمُ اللّٰهُ وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيمٌ قَرِيبٌ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ تَعْلِيقًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5117 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت بہز ابن حکیم سے ۱∞؎وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ غصہ ایمان کو ایسا بگاڑ دیتا ہے۲؎جیسے ایلوا(تمہ)شہد کو۳؎
وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ الْغَضَبَ لَيُفْسِدُ الْإِيمَانَ كَمَا يُفْسِدُ الصَّبْرُ الْعَسَلَ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5118 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت عمر رضی الله عنہ سے آپ نے منبر پر فرمایا ۱∞؎اے لوگو انکساری اختیار کرو ۲؎کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کے لیے انکسار و عجز کرتا ہے الله اسے اونچا کردیتاہے۳؎تو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں بڑا۴؎اور جوغرورکرتا ہے الله تعالٰی اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا۵؎حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور سؤر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے ۶؎
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰهِ رَفَعَهُ اللّٰهُ فَهُوَ فِي نَفْسِهٖ صَغِيرٌ وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللّٰهُ فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ وَفِي نَفْسِهٖ كَبِيرٌ حَتّٰى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خنزيرٍ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5119 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے رب تیرے نزدیک تیرے بندوں سے کون زیادہ عزت والا ہے فرمایا کہ جب قدرت پائے بخش دے ۱∞؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ مُوسٰى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ مَنْ أَعَزُّ عِبَادِكَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: مَنْ إِذَا قَدَرَ غَفَرَ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5120 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنی زبان کی حفاظت کرے الله تعالٰی اس کے عیب چھپالے گا ۱∞؎اور جو اپنا غصہ روکے الله تعالٰی اس سے قیامت کے دن اپنا عذاب روک لے گا ۲؎اور جو الله تعالٰی کی بارگاہ میں معذرت کرے الله تعالٰی اس کے عذر قبول کرلے گا۳؎
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَزَنَ لِسَانَهٗ سَتَرَ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهٗ كَفَّ اللّٰهُ عَنْهُ عَذَابَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللّٰهِ قَبِلَ اللّٰهُ عُذْرَهٗ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5121 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں ۱∞؎اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی لیکن نجات دینے والی تو وہ الله سے ڈرنا ہے خفیہ اور علانیہ ۲؎اور سچی بات کہنا ہے خوشی اور ناخوشی میں اور درمیانی چال ہے امیری اور فقیری ۳؎میں لیکن ہلاک کرنے والی چیزیں تو وہ نفسانی خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے ۴؎اوربخل ہے جس کی اطاعت ہو ۵؎اور انسان کا اپنے کو اچھا جاننا ۶؎یہ ان سب میں سخت تر ہے ۷؎ان پانچوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَتَقْوَى اللّٰهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، وَالْقَوْلُ بِالْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ وَالْقَصْدُ فِي الْغِنٰى وَالْفَقْرِ. وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَهَوًى مُتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُطَاعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهٖ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ« رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي» شُعَبِ الإِيمَانِ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5122 ، باب:غصہ اورغرور کا بیان