باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے چوپایہ کا زخم باطل ہے ۱؎اور کان باطل ہے اور کنواں باطل ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْعَجْمَاءُ جرْحُهَا جُبَارٌ،وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3510 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیّہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوۂ تبوک کیا ۲؎اور میرا ایک مزدور تھا۳؎وہ ایک شخص سے لڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا ۴؎جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کی ثنیہ گرادی ۵؎وہ گر گئی تو یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۶؎آپ نے اس کی ثنیہ باطل فرمادی اور فرمایا کہ کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اونٹ کی طرح چباتا ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ،فَقَاتَلَ إِنسانًا فَعَضَّ أَحَدُهمَا يَدَ الآخَرَ، فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: "أَيَدَع يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَالْفَحْلِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3511 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت عبداابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص اپنے مال کی وجہ سے مار دیا جائے وہ شہید ہے ۱؎(مسلم،بخاری)۲؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3512 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص حاضر ہوا بولا یارسول افرمایئے اگر کوئی شخص آئے اور میرا مال لینا چاہے ۱؎تو فرمایا اسے اپنا مال نہ دے ۲؎وہ بولا حضور فرمادیں اگر وہ مجھ سے جنگ کرے فرمایاتو اس سے جنگ کر۳؎عرض کیا فرمایئے اگر وہ مجھے قتل کردے فرمایا تو تو شہید ہے ۴؎عرض کیا فرمایئے اگر میں اسے قتل کردوں فرمایا وہ دوزخ میں ہوگا۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: "فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ" قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: "قَاتِلْهُ" قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: "فَأَنْتَ شَهِيدٌ" قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: "هُوَ فِي النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3513 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اگر کوئی تیرے گھر میں جھانکے ۱؎اور تو نے اسے اجازت نہ دی ۲؎پھر تو اسے کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّهُ سَمعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ، ولمْ تَأذَنْ لَهُ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3514 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎کہ ایک شخص سوراخ سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے دروازے میں جھانکا اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سلائی تھی ۲؎جس سے آپ اپنا سر مبارک کھجارہے تھے تو فرمایا اگر میں جانتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ سلائی تیری آنکھ میں گھونپ دیتا۳؎طلب اجازت نگاہ کی حفاظت ہی کے لیے تو مقرر کی گئی ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي لطَعَنْتُ بهِ فِي عَيْنيكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3515 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت عبداابن مغفل سے ۱؎کہ انہوں نے ایک شخص کو کنکر پھینکتے دیکھا۲؎تو فرمایا کنکر نہ پھینک کیونکہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کنکر پھینکنے سے منع فرمایااور فرمایا کہ نہ تو اس سے شکار ہوتا ہے نہ دشمن زخمی ہوتا ہے ۳؎لیکن یہ کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: "إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3516 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں گزرے ۱؎اور اس کے پاس تیر ہوں۲؎اس کے پیکان(نوک)کو تھام لے ۳؎ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس سے کچھ لگ جائے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا وَفِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ،فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْءٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3517 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی پر ہتھیار سے اشارہ نہ کرے ۱؎کیا خبر شاید شیطان اس کے ہاتھ میں کھینچے ۲؎تو یہ آگ کے گڑھے میں گر جائے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3518 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کرے ۱؎تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۲؎حتی کہ اسے رکھ دے اگرچہ اس کا سگا بھائی ہو ۳؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَضَعَهَا، وَإِنْ كَانَ أَخاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3519 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت ابن عمر اور ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا ۱؎وہ ہم میں سے نہیں ۲؎(بخاری)اور مسلم نے یہ زیادہ کیا کہ جو ہم سے ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۳؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ. وَزَادَ مُسْلِمٌ: "وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3520 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو ہم پر تلوار سونتے وہ ہم میں سے نہیں ۲؎(مسلم)

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيفَ فَلَيْسَ مِنَّا رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3521 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت ہشام ابن عروہ سے ۱؎وہ اپنے باپ سے راوی ۲؎کہ ہشام ابن حکیم ۳؎شام میں کچھ کسان آدمیوں پر گزرے ۴؎جو دھوپ میں کھڑے کیے گئے تھے اور ان کو سروں پر تیل ڈالا گیا تھا ۵؎تو آپ نے کہا یہ کیا ہے ؟ کہا گیا یہ لوگ ٹیکس کے بارے میں عذاب دیئے جارہے ہیں تو ہشام نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یقینًا اتعالٰی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔۶؎(مسلم)۷؎

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ هشامَ بنَ حَكِيمٍ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الأَنْبَاطِ، وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ وَصُبَّ عَلَى رُؤوسِهِمُ الزَّيْتُ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قِيلَ: يُعَذَّبُونَ فِي الخَراجِ فَقَالَ هِشَامٌ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ اللّٰهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3522 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قریب ہے اگر تمہاری عمر دراز ہوئی ۱؎تم ایسی قوم دیکھو گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسی چیز ہوگی۲؎صبح کریں گے اکے غضب میں اور شام کریں گے اکے غضب میں۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ شام کریں گے اکی پھٹکار میں ۴؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَىَ قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللّٰهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللّٰهِ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3523 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو قسم کے دوزخی لوگ وہ ہیں جنہیں ہم نے دیکھا نہیں ۱؎ایک وہ قوم جن کے ساتھ گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے ۲؎جن سے لوگوں کو ماریں گے اور دوسری وہ عورتیں جو پہن کر ننگی ہوں گی ۳؎مائل کرنے والیاں مائل ہونے والیاں ۴؎ان کے سر موٹی اونٹنیوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے ۵؎وہ نہ جنت میں جائیں نہ اس کی ہوا پائیں ۶؎حالانکہ اس کی ہوا اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۷؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا: قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ، وَلَا يجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3524 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے لڑے تو چہرے سے بچے ۱؎کہ اتعالٰی نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ؛ فَإِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُوْرَتِهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3525 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جس نے پردہ کھولا پھر گھر میں نظر ڈالی اس سے پہلے کہ اسے اجازت دی جائے پھر گھر والوں کا ستر دیکھ لیا تو اس نے ایسی سزا کا کام کیا جو کرنا اسے درست نہ تھا ۱؎اور جب کہ اس نے نظر ڈالی تو کوئی سامنے آگیا اور کسی نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو میں اسے شرم نہ دلاؤں گا۲؎اور اگر کوئی شخص بے پردہ دروازے کھلے پر گزرے پھر دیکھ لے تو اس پر گناہ نہیں ۳؎خطاء تو صرف گھر والوں پر ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۵؎

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ؛ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، وَلَوْ أَنَّهُ حِينَ أَدْخَلَ بَصَرَهُ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فَفَقَأَ عَيْنَهُ، مَا عَيَّرْتُ عَلَيْهِ،وَإِنْ مَرَّ الرَّجُلُ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ غَيْرَ مُغْلَقٍ، فَنَظَرَ؛ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا الْخَطِيئة عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3526 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا کہ ننگی تلوار لی دی جائے ۱؎(ترمذی، ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3527 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ دو انگلیوں کے درمیان تسمہ کاٹا جائے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَن الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقَدَّ السَّيْرُ بَيْنَ أُصْبُعَينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3528 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو اپنے دین کے لیے شہید کیا گیا تو وہ شہید ہے ۱؎اور جو اپنے خون کے لیے قتل کیا گیا تو وہ شہید ہے اور جو اپنے مال کے لیے قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے گھر والوں کے لیے قتل کیا گیا وہ شہید ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3529 ، باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا