- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- قصاص کابیان
- باب:دیتوں کا بیان
باب:دیتوں کا بیان
قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں یہ اور یہ برابر ہیں یعنی چھنگلی اور انگوٹھا ۱؎(بخاری)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ" يَعْنِي الخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3486 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے کچے بچے کے متعلق جو کچا گر گیا تھا ۱؎ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا ۲؎پھر وہ عورت جس پر غلام کا فیصلہ کیا گیا تھا مرگئی ۳؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور خاوند کی ہے ۴؎اور دیت ۵؎اس کے وارثوں کی ہے۔(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ،ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنيِهَا وَزَوْجِهَا، وَالْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3487 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے ان سے ہی فرماتے ہیں کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑیں تو ایک نے دوسری کو پتھر مارا ۱؎تو اس کو اور اس کے پیٹ کے بچہ کو قتل کردیا تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے اورعورت کی دیت کا فیصلہ اس کے وارثوں پر فرمایا ۲؎اور دیت کا وارث اس کے بچہ کو اور ساتھیوں کو بنایا ۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3488 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے کہ دو عورتیں سوکنیں تھیں تو ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمہ کی چوب ماری ۱؎تو اس نے اپنے پیٹ کا بچہ ڈال دیا۲؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کچے بچے کے متعلق غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا اور اسے عورت کے وارثوں پر مقرر فرمایا ۳؎یہ ترمذی کی روایت ہے۴؎مسلم کی روایت یوں ہے کہ فرمایا ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ چوب ماری وہ تھی حاملہ اسے قتل کردیا فرمایا ان میں سے ایک بنی لحیان کی تھی ۵؎فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ عورت کے وارثوں پر لازم کی اور پیٹ کے بچہ پر غلام ۶؎
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الجَنينِ غُرَّةً: عبْدًا أَوْ أَمَةً، وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ، هَذِهِ رِوَايَةُ التِّرْمِذِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمِ: قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ، وَهِيَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا، قَالَ: وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَۃِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ،وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3489 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمرو سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خبردار کہ خطا شبہ عمد کی دیت ۱؎جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو ۲؎ایک سو اونٹ ہیں جن میں چالیس وہ ہوں جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں ۳؎(نسائی،دارمی)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِئَةٌ مِنَ الإِبلِ: مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونهَا أَوْلَادُهَا". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3490 ، باب:دیتوں کا بیان
اور اسے ابوداؤد نے ان ہی سے اور حضرت ابن عمر سے روایت کیا اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ حضرت ابن عمر سے مروی ہیں۔
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنهُ وَعَن ابْنِ عُمَرَ، وَفِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" لَفْظُ "الْمَصَابِيحِ" عَنِ ابْنِ عمر.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3491 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوبکر ابن محمد ابن عمرو ابن حزم سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے یمن والوں کو فرمان عالی لکھا اور اس کتاب میں تھا کہ جس نے کسی مسلمان کو بلاقصورقتل کیا ۲؎یا تو وہ اپنے ہاتھ کے قصاص میں گرفتار ہوگا مگر یہ کہ مقتول کے وارثوں کو راضی کرے۳؎اور اس میں یہ تھا کہ مرد عورت کے عوض قتل کیا جائے گا۴؎اور اس میں یہ تھا کہ جان میں دیت ہے سو اونٹ ۵؎اور سونے والوں پر ہزار دینار ۶؎اور ناک میں جب پوری کاٹ دی جائے پوری دیت سو اونٹ ہیں ۷؎اور دانتوں میں دیت ہے ۸؎اور ہونٹوں میں دیت ہے اور فوطوں میں دیت ہے اور آلہ تناسل میں دیت ہے ۹؎اور پیٹھ میں دیت ہے ۱۰؎اور آنکھوں میں دیت ہے ۱۱؎اور ایک پاؤں میں آدھی دیت ہے ۱۲؎اور مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت ہے او رپیٹ میں پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت ہے ۱۳؎اور ہڈی منتقل کردینے والے زخم میں پندرہ اونٹ ہیں۱۴؎اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں ۱۵؎اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں ۱۶؎(نسائی،دارمی) اور امام مالک کی روایت میں ہے کہ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں اور ہاتھ میں پچاس اونٹ اور پاؤں میں پچاس اونٹ ۱۷؎اور ہڈی کھول دینے والے زخم میں پانچ ۱۸؎
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ: "أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا؛ فَإِنَّهُ قَوَدُ يَدِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ"، وَفِيهِ: "أَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ"، وَفِيهِ: "فِي النَّفْسِ الدِّيَةُ مِئَةٌ مِنَ الإِبِلِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ، وَفِي الأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ مِئَةٌ مِنَ الإِبِلِ، وَفِي الأَسْنَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنَ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الجَائفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقَّلَةِ خَمسَ عَشَرَةَ مِنَ الإِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ: "وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3492 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے ہڈی کھول دینے والے زخم میں ۱؎پانچ پانچ اونٹوں کا اور دانتوں میں پانچ پانچ اونٹوں کا فیصلہ فرمایا ۲؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی )اور ترمذی و ابن ماجہ نے پہلی صورت بیان فرمائی ۳؎
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، وَفِي الأَسْنَانِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وابنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الأَوَّلَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3493 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے ہاتھوں پاؤں کی انگلیاں برابر قرار دیں ۱؎(ابوداؤد، ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3494 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ انگلیاں برابر ہیں ۱؎اور دانت برابر ہیں چنانچہ کچلی اور داڑھ برابر ہیں ۲؎یہ اوریہ برابر ہے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الأَصَابِعُ سَوَاءٌ، وَالأَسْنَانُ سَوَاءٌ، الثَنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ، هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3495 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا تو فرمایا اے لوگو اسلام میں حلیف بنانا کچھ نہیں ۱؎اور جو حلف زمانہ جاہلیت میں ہوچکا ہو تو اسلام اس کی پختگی ہی بڑھائے گا ۲؎مگرمسلمان آپس میں دوسرے کے مقابل مددگار ہیں ۳؎کہ ان پر ان کا ادنی آدمی امان دے سکتا ہے ۴؎اور ان کا دور کا آدمی غنیمت واپس کرسکتا ہے ۵؎ان کے لشکر ان کے بیٹھے ہوؤں پر رد کریں گے ۶؎نہ قتل کیا جائے مؤمن کافر کے عوض ۷؎اور کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے۸؎نہ منگانا ہے اور نہ دور لے جانا ان کے صدقات نہ وصول کیے جائیں مگر ان کے گھروں میں ۹؎اور ایک روایت میں ہے فرمایا کہ ذمی کی دیت آزاد کی دیت سے آدھی ہے ۱۰؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَا حِلْفَ فِي الإِسْلَامِ، وَمَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الإِسْلَامَ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا شِدَّةً، الْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يُجيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِم أَقْصَاهُمْ، يَردُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعِيدَتِهِمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ،لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ،وَلَا تُؤْخَذُ صدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ" وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3496 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت حضرت خشف ابن مالک سے ۱؎وہ حضرت ابن مسعود سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے خطاء کی دیت میں یہ فیصلہ فرمایا کہ بیس یک سالہ اونٹنیاں۲؎اور بیس یک سالہ نر اونٹ اور بیس دو سالہ اونٹنیاں اور بیس تین سالہ اور بیس چار سالہ ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن مسعود پر موقوف ہے ۴؎اور خشف مجہول آدمی ہیں صرف اس حدیث سے پہچانے گئے ہیں۵؎اور شرح سنہ میں یوں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے مقتول کی دیت صدقہ سے سو اونٹ دیئے اور صدقہ کے اونٹوں کی عمروں میں کوئی ایک سالہ نر اونٹ نہیں ہوتا اس میں دو سالہ اونٹ ہی ہوتے ہیں۶؎ ۔
وَعَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ ذُكُورٍ، وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ حِقَّةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ،وَخِشْفٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَرُوِيَ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ": أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَى قَتِيلَ خَيْبَرَ بِمِئَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَلَيْسَ فِي أَسْنَانِ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ابْنُ مَخَاضٍ، إِنَّمَا فِيهَا ابْنُ لَبُونٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3497 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں دیت کی قیمت آٹھ سو اشرفیاں یا آٹھ ہزا درہم تھے ۱؎اور اس زمانہ میں اہلِ کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے آدھی تھی ۲؎فرماتے ہیں کہ یوں ہی رہا حتی کہ حضرت عمر خلیفہ بنے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے فرمایا کہ اونٹ مہنگے ہوگئے ۳؎فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے سونے والوں پر ایک ہزار اشرفیاں اور چاندی والوں پر بارہ ہزار۴؎اور گائے والوں پر دوسو گائیں اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریاں اور جوڑے والوں پر دوسو جوڑے مقرر فرمائے ۵؎فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ذمیوں کی دیت یونہی چھوڑدی جیسے اور دیت بڑھائی تھی ان کی نہ بڑھائی ۶؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ مِئَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمِ، وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ،قَالَ: فَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّ الإِبِلَ قَدْ غَلَتْ قَالَ: فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْبقَرِ مِئتيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِئَتَيْ حُلَّةٍ، قَالَ: وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ من الدِّيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3498 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے دیت بارہ ہزار فرمائی ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،درامی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَۃ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3499 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم گاؤں والوں پر خطاء کی دیت کی قیمت چار سو اشرفیاں یا ان کے برابر چاندی لگاتے تھے ۱؎اور یہ قیمت اونٹ کی قیمت پرتھی پھر جب اونٹ مہنگے ہوجاتے تو ان کی قیمت میں زیادتی فرمادیتے اور جب سستے ہوجاتے ۲؎تو ان کی قیمت میں کمی فرمادیتے۳؎اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں قیمت چار سو اشرفیوں سے آٹھ سو اشرفیوں کے درمیان رہی اور اس کے برابر چاندی آٹھ ہزار درہم فرماتے ہیں۴؎کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے گائے والوں پر دو سو گائیں اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریوں کا فیصلہ فرمایا ۵؎اور فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دیت مقتول کے وارثوں کے درمیان میراث ہے ۶؎اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کی دیت اس کے عصبہ وارثوں کے درمیان ہے ۷؎اور قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ۸؎(ابوداؤد، نسائی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَأِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِئَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ، وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الإِبِلِ، فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، وإِذَا هاجَتْ رُخْصٌ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا، وَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِئَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِئَةِ دِينَارٍ، وَعِدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلافِ دِرْهَمٍ قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاث بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ"، وَقَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا، وَلَا يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو دَاودَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3500 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے ان ہی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ شبہ عمدکی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے ۱؎اور قاتل کو قتل نہ کیا جائے گا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3501 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے ان ہی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اس آنکھ کے بارے میں جو اپنی جگہ قائم رہے تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا ۱؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا بِثُلُثِ الدِّيَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3502 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت محمد ابن عمرو سے ۱؎وہ ابوسلمہ سے ۲؎وہ ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کچے بچے کے متعلق ۳؎غلام یا لونڈی ۴؎یا گھوڑے یا خچر ۵؎کا فیصلہ فرمایا۔(ابوداؤد) فرمایا یہ حدیث حماد ابن سلمہ اور خالد واسطی نے محمد ابن عمرو سے ۶؎روایت کی اور گھوڑے کا ذکر نہ فرمایا ۷؎
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الجَنينِ بغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَذْكُرْ: أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3503 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو علاج کرے اور اس کو علم طب معلوم نہ ہو تو وہ ضامن ہے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3504 ، باب:دیتوں کا بیان
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ فقیروں کے ایک غلام ۱؎نے امیروں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا اس کے والی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎بولے ہم لوگ تو فقیر ہیں تو ان پرحضور نے کچھ نہ مقرر فرمایا ۳؎(ابوداؤد،نسائی)۴؎
وَعَنْ عِمْرانَ بْنِ حُصَينٍ: أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِمْ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3505 ، باب:دیتوں کا بیان
- 1
- 2