باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ربیع بنت معوذ عفراء سے ۱؎فرماتی ہیں جب میری رخصت کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جیسے تم میرے پاس بیٹھے ہو ویسے ہی حضور میرے بستر پر بیٹھ گئے ۲؎تو ہماری بچیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ دادے جو بدر کے دن شہید ہوئے تھے ان کا مرثیہ کہنے لگیں ۳؎کہ جب ان میں سے ایک نے یہ شعر کہا کہ ہم میں وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں ۴؎تو حضور نے فرمایا یہ چھوڑو ۵؎وہ ہی کہو جو پہلے کہتی تھیں ۶؎(بخاری)

عَنِ الرُّبَيِّعِ بْنَتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ،وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: "دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3140 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت اپنے انصاری خاوند کے ہاں بھیجی گئی۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ کوئی کھیل نہ تھا کیونکہ انصار کو کھیل پسند ہے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: زُفَّتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ؟ فَإِنَّ الأَنْصَارَ يُعْجبُهُمُ اللَّهْوُ". رَوَاهُ البُخَارِيّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3141 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیااور زفاف بھی ۱؎تو رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوبہ تھی ۲؎(مسلم)

وَعَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3142 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شرطوں میں زیادہ وفاکے قابل وہ شرط ہے جس سے تم نے بیویوں کو حلال کیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3143 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے یہاں تک کہ وہ پہلا یا نکاح کرے یا چھوڑ دے ۱؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَو يَتْرُكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3144 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۱؎تاکہ اس کا پیالہ فارغ کردے ۲؎اور تاکہ خود نکاح کر لے ۳؎کیونکہ اس کے لیے وہ ہی ہے جو اس کے مقدر میں ہے ۴؎(مسلم بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3145 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ۱؎شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح کرے اس شرط پر کہ وہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح کردے ۲؎اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۳؎(مسلم بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا اسلام میں شغار نہیں ۴؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: "لَا شِغَارَ فِي الإِسْلَامِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3146 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے متعہ سے منع فرمایا ۱؎اور پالتو گدھوں کے گوشت سے ۲؎(مسلم بخاری)

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكل لُحُوم الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3147 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے سال متعہ کی تین دن اجازت دی پھر اس سے منع فرمادیا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا. رَوَاهُ مُسْلِم

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3148 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اور حاجات میں تشہد سکھایا ۱؎فرمایا نماز میں تشہد یہ ہے کہ تمام تحیتیں اور نمازیں، خوبیاں اللہ کو ہیں سلام ہو آپ پر اے نبی ۲؎اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر ۳؎میں گواہی دیتا ہوں یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود سوا اللہ کے اور گواہی دیتاہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔اور خطبہ حاجت میں یہ ہے کہ تمام حمد اللہ کو ہے ۴؎ہم اس سے مدد مانگتے ہیں ۵؎اور اس سے معافی مانگتے ہیں ۶؎ا ور اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں ۷؎جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ۸؎اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۹؎اور تین آیتیں پڑھے ۱۰؎اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اس سے ڈرنے کا حق۱۱؎اور ہر گز نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو ۱۲؎اے ایمان والو ۱۳؎اس سے ڈور جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو ۱۴؎اور رحمی رشتوں سے ڈرو۱۵؎بے شک اللہ تم پر حافظ ہے اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو ۱۶؎رب تمہارے کام درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ رسول کی اطاعت کرے وہ بڑا ہی کامیاب ہے ۱۷؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ، دارمی) اور جامع ترمذی میں ہے تینوں آیتوں کی تفسیر ۱۸؎سفیان ثوری نے فرمائی اور ابن ماجہ نےالحمدللّٰہکے بعدنحمدہپڑھا۔اورمن شرور انفسناکے بعدومن سیئات اعمالنازیادہ کیا اور دارمی نے عظیما کے بعد فرمایا ۱۹؎کہ پھر اپنے کام کی بات کرے اور شرح سنہ میں حضرت ابن مسعود سےخطبۃ الحاجۃمیں فرمایا نکاح وغیرہ ۲۰؎

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ: "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ: "أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ونَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" وَيَقْرأُ، ثَلَاثَ آيَاتٍ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا . يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَفِي "جَامِعِ التِّرمِذِيِّ" فَسَّرَ الآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَزَادَ ابْنُ مَاجَهْ بَعْدَ قَوْلِهِ: "أنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ": "نَحْمَدُهُ"، وَبَعْدَ قَوْلِهِ:"مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا": "وَمِنْ سَيِّئاتِ أَعْمَالِنَا"، وَالدَّارِمِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ: "عَظِيمًا": ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِهِ، وَرَوَى فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ مِنَ النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3149 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر وہ خطبہ جس میں کلمہ شہادت نہ ہو وہ کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3150 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شاندار کام ۱؎اللہ کی حمد سے شروع نہ ہو وہ ناقص ہے ۲؎(ابن ماجہ)روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے كه جو شان والا کام اللہ کی حمد سے شروع نہ ہو وہ ناقص ہے ۳؎(ابن ماجہ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُبِالحَمْدِ لِلَّهِ فَهُوَ أَقْطَعُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ فَهُوَ أَقْطَعُ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3151 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان نکاحوں کا اعلان کرو ۱؎اور کرو مسجد میں ۲؎ان پر دف بجاؤ۳؎(ترمذی) اور یہ فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۴؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3152 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت محمد ابن حاطب جمحی سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق نکاح میں آواز اور دف ہے ۲؎(احمد،ترمذی، نسائی،ا بن ماجہ)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "فَصْلُ مَا بَينَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ: الصَّوْتُ وَالدُّفُّ فِي النِّكَاحِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3153 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میرے پاس انصار کی ایک لڑکی تھی ۱؎جس کا میں نے نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے عائشہ تم گیت کیوں نہیں گاتیں ۲؎کیونکہ یہ قبیلہ انصار گیت گانا پسند کرتے ہیں ۳؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي جَارِيَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا عَائِشَةُ! أَلَا تُغَنِّينَ؟ فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ". رَوَاهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3154 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جناب عائشہ نے اپنے ایک قرابت دار انصاری کا نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا ۱؎عرض کیا ہاں فرمایا کیا اس کے ساتھ اس کو بھیجا جو گیت گائے بولیں نہیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار ایسی قوم ہے جس میں غزل خوانی کا رواج ہے ۲؎تم اس کے ساتھ بھیجتیں جو کہتا ہم آگئے ہم آگئےہم کو بھی اور تم کو بھی زندگی دے ۳؎(ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أنكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الأَنْصَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَهَدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟ " قَالُوا: نعم قَالَ: "أرْسَلْتُم مَعهَا مَن تُغَنِّي قَالَتْ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ، فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3155 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت سمرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عورت کا نکاح دو ولی کردیں تو وہ ان دونوں میں سے پہلے کے لیے ہوگی۱؎اور دو شخصوں کے ہاتھ چیز فروخت کردے تو وہ ان دونوں میں پہلے کی ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی، دارمی)۳؎

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْن فَهُوَ للأَوَّلِ مِنْهُمَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3156 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے ساتھ بیویاں نہ تھیں تو ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی ہوجائیں ۱؎اس سے ہم کو منع فرمایا ۲؎پھر ہم کو متعہ کرلینے کی اجازت دی ۳؎تو ہم میں سے ایک کسی عورت سے کپڑے کے عوض ایک وقت تک نکاح کرلیتا تھا ۴؎پھر عبداللہ نے یہ آیت پڑھی اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ جانو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں ۵؎(مسلم بخاری)

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ فَنَهَانَا عَن ذَلِكَ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ،فَكَانَ أَحَدُنَا يَنْكِحُ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللّٰهِ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3157 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ متعہ شروع اسلام تھا کہ کوئی شخص کسی شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی ۱؎تو کسی عورت سے اس وقت تک کے لیے نکاح کر لیتا کہ سمجھتا میں اتنا ٹھہروں گا وہ عورت اس کے سامان کی حفاظت کرتی اس کا کھانا درست کرتی ۲؎حتی کہ یہ آیت کریمہ اتری مگر اپنی بیویوں پر یا ان پر جن کے وہ مالک ہیں ۳؎فرمایا حضرت ابن عباس نے کہ دو کے سوا تمام شرمگاہیں حرام ہیں ۴؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلَام كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ، لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ، فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يُرَى أَنَّهُ يُقِيمُ، فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ شَيَّهُ، حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَاهُمَا فَهُوَ حَرَامٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3158 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان

روایت ہے حضرت عامر ابن سعد سے فرماتے ہیں میں قرظہ ابن کعب اور ابو مسعود انصاری کے پاس ایک شادی میں گیا ۱؎تو ناگاہ کچھ بچیاں گا رہی تھیں میں نے کہا اے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیو اور اے بدر والو! تمہارے پاس یہ کام کیا جارہا ہے ۲؎تو وہ دونوں صاحب بولے اگر تم چاہو بیٹھو اور ہمارے ساتھ سنو اور اگر چاہو چلے جاؤ ہم کو شادی کے موقع پر لہو و لعب کی اجازت دی گئی ہے ۳؎(نسائی)

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ فِي عُرْسٍ، وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ فَقُلْتُ: أَيْ صَاحِبَيْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلَ بَدْرٍ يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ؟ فَقَالَا: اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا، وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ، فَإِنَّهُ قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3159 ، باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان