باب: جہاد میں قتل

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے احد کے دن عرض کیا فرمایئے کہ اگر میں قتل کردیا جاؤں میں کہاں ہوں گا فرمایا جنت میں ۱؎تو اس نے اپنے ہاتھ میں سے چھوارے پھینک دیئے ۲؎پھر جنگ کی حتی کہ قتل کردیا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ:أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ " قَالَ: "فِي الْجَنَّةِ" فَأَلْقٰى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهٖ، ثُمَّ قَاتَلَ حتّٰى قُتِلَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3937 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نہیں ارادہ فرماتے تھے کسی جہاد کا مگر آپ اس کی دوسری طرف کا توریہ فرماتے تھے ۱؎حتی کہ یہ جہاد یعنی غزوہ تبوک ہوا جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت گرمی میں جہاد کیا اور دور دراز سفر کا رخ فرمایا اور بڑے جنگل بہت دشمنوں پر رخ کیا ۲؎لہذا مسلمانوں کے لیے ان کا معاملہ کھول دیا تاکہ وہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں چنانچہ آپ نے ان سب کو اس طرف کی خبر دیدی جدھر کا ارادہ تھا ۳؎(بخاری)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرّٰى بِغَيْرِهَا، حتّٰى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ، يَعْنِيْ: غَزْوَةَ تَبُوْكَ، غَزَاهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيْدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيْدًا، وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيْرًا،فَجَلّٰى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ، لِيَتَأَهَّبُوْا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3938 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لڑائی دھوکا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْحَرْبُ خُدَعَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3939 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ام سلیم ۱؎اور کچھ انصاری بیبیوں کو لے کر جہاد فرماتے تھے جب جہاد کرتے تھے تو یہ بیبیاں پانی پلاتی تھیں زخمیوں کی دوا دارو کرتی تھیں ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُوْ بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ مَعَهٗ، إِذَا غَزَا يَسْقِيْنَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3940 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات جہاد کیے میں غازیوں کی منزلوں میں ان کے پیچھے رہتی تھی ان کا کھانا پکاتی تھی زخمیوں کی دوا دارو کرتی تھی ۲؎اور بیماروں کا انتظام کرتی تھی ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحٰى وَأَقُوْمُ عَلَى الْمَرْضٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3941 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3942 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت صعب ابن جثامہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مشرکین کے گھر والوں کے متعلق پوچھا گیا جن پر شب خون مارا جائے تو ان کی عورتیں اور بچے بھی قتل ہوجائیں فرمایا وہ سب ان سے ہی ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے باپوں سے ہیں۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَتُّوْنَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، فَيُصَابَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيهِمْ، قَالَ: "هُمْ مِنْهُمْ"وَفِي رِوَايَةٍ: "هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3943 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے درخت کٹوائے اور جلوا دیئے ۱؎اس کے متعلق حضرت حسّان کہتے ہیں ۲؎بنی لوی کے سرداروں پر وہ آگ آسان ہوگئی جو بویرہ میں پھیل گئی۳؎اور اسی کی بارے میں یہ آیت اتری کہ تم نے جو درخت کھجور کے کاٹ ڈالے اور جو ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیئے وہکے حکم سے ہے۴؎(بخاری،مسلم)

وَعَن عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ، وَلَهَا يَقُوْلُ حَسَّانٌ:وَهَانَ علٰى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بالبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيْرُ وَفِي ذٰلِكَ نَزَلَتْ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَائِمَةً عَلٰى أُصُوْلِهَا فَبِإِذْنِ اللّٰهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3944 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت عبدابن عون سے ۱؎کہ نافع نے انہیں خبر دیتے ہوئے لکھا کہ حضرت ابن عمر نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی مصطلق پر حملہ فرمایا جب کہ وہ مقام مریسیع میں اپنے جانوروں میں مشغول و غافل تھے ۱؎تو لڑنے والوں کو قتل کیا اور بچوں کو قید کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ اِبْنِ عَوْنٍ أَنَّ نَافِعًا كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهٗ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهٗ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلٰى بَنِي الْمُصْطَلِقِ غَارِّيْنِ فِي نَعَمِهِمْ بِالْمُرَيْسِيعِ،فَقَتَلَ الْمُقَاتَلَةَ وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3945 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت ابی اسید سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم سے بدر کے دن فرمایا ۲؎جب کہ ہم نے قریش کے مقابل صفیں باندھیں ۳؎اور انہوں نے ہمارے مقابل صف آرائی کی کہ جب تم سے قریب ہوں تو تم تیر لو۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ تم سے قریب ہوں تو انہیں تیرمارو اور اپنے تیر باقی رکھو ۵؎(بخاری)اور حضرت سعد کی حدیثھل تنصرونالخباب فضل الفقراءمیں ہم بیان کریں گے اور حضرت براء کی حدیث بعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الخ(ان شاءالله)باب المعجزاتمیں ہم بیان کریں گے ۶؎

وَعَن أبي أُسَيْدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمَ بَدْرٍ حِيْنَ صَفَفْنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوْا لَنَا: "إِذَا أَكْثَبُوْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "إِذَا أَكْثَبُوْكُمْ فَارْمُوْهُمْ وَاسْتَبْقُوْا نَبْلَكُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَحَدِيثُ سَعْدٍ: "هَلْ تُنْصَرُوْنَ" سَنَذْكُرُهٗ فِي "بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ". وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِي "بَابِ الْمُعْجزَاتِ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3946 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن عوف سے فرماتے ہیں کہ بدر میں رات کے وقت ہم کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تیار فرمایا ۱؎(ترمذی)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: عَبَّأَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ لَيْلًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3947 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت مہلب سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر دشمن تم پر شب خون مارے تو تمہارا نشان ۲؎حم لاینصرونہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنِ الْمُهَلَّبِ أنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنْ بَيَّتَكُمُ الْعَدُوُّ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ: حم لَا يُنْصَرُوْنَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3948 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ مہاجرین کا نشان عبداور انصار کا نشان عبد الرحمن تھا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَمُرةَ اِبْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ شِعَارُ الْمُهَاجِرِيْنَ: عَبْدُ اللّٰهِ، وَشِعَارُ الأَنْصَارِ: عَبدُ الرَّحْمٰنِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3949 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ابوبکر صدیق کے ساتھ جہاد کیا ۱؎تو ہم نے ان پر شب خون مارا ہم انہیں قتل کرتے تھے اور اس رات ہمارا نشان تھاأمِتأمِت۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيَّتْنَاهُمْ نَقْتُلُهُمْ، وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ: أَمِتْ أَمِتْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3950 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت قیس ابن عبادہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ جنگ کے وقت شور ناپسند کرتے تھے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَكْرَهُوْنَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3951 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مشرکوں کے بڈھوں کو قتل کرو ۱؎اور ان سے چھوٹوں یعنی بچوں کو زندہ چھوڑ دو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اُقْتُلُوْا شُيُوْخَ الْمُشْرِكِيْنَ وَاسْتَحْيُوْا شَرْخَهُمْ" أَيْ: صِبْيَانَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3952 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت عروہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت اسامہ نے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سےعہدلیا فرمایا اُبنا پر جہاد کرو صبح کے وقت ۲؎اور آگ لگا دو۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْهِ قَالَ: "أَغِرْ عَلٰى أُبْنٰى صَبَاحًا وَحَرِّقْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3953 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت ابو اسید سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن فرمایا کہ جب کفار تم سے قریب ہوں تو ان پر تیر چلاؤ اور تلواریں نہ سونتو حتی کہ وہ تم سے قریب تر ہوجائیں ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: "إِذَا أَكْثَبُوْكُمْ فَارْمُوْهُمْ، وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوْفَ حتّٰى يَغْشَوْكُمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3954 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت رباح ابن ربیع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد میں تھے تو حضور نے لوگوں کو کسی چیز پر جمع دیکھا ۲؎تو حضور نے بھی ایک شخص کو فرمایا دیکھو یہ لوگ کس چیز پر جمع ہوئے ہیں وہ آیا بولا ایک مقتولہ عورت پر۳؎تو فرمایا کہ یہ عورت تو جنگ نہ کرتی تھی۴؎اور مقدمہ پر خالد ابن ولید تھے تو حضور نے ایک شخص کو بھیجا فرمایا خالد سے کہو کہ نہ تو کسی عورت کو قتل کریں نہ مزدور کو ۵؎(ابو داؤد)۶؎

وَعَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِيْنَ عَلٰى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: "اُنْظُرُوْا عَلٰى مَنِ اجْتَمَعَ هٰؤُلَاءِ" ۔۔۔فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيْلٍ، فَقَالَ: "مَا كَانَتْ هٰذِهٖ لِتُقَاتِلَ"، وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيْدِ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: "قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلِ امْرَأَةً وَلَا عَسِيْفًا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3955 ، باب: جہاد میں قتل

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۱؎چلوکے نام پرکی مدد پر رسول اللہ کے دین پرکسی قریب موت بڈھے کو قتل نہ کرو۲؎نہ چھوٹے بچے کو ۳؎نہ عورت کو اور خیانت نہ کرنا اپنی غنیمتیں ملالینا اصلاح اور بھلائی کرنا۴؎کیونکہبھلائی والوں سے محبت کرتا ہے ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اِنْطَلِقُوْا بِاسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰهِ وعَلٰى مِلِّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ، لَا تَقْتُلُوْا شَيْخًا فَانِيًا، وَلَا طِفْلًا صَغِيْرًا، وَلَا اِمْرَأَةٍ، وَلَا تَغُلُّوْا، وَضُمُّوْا غَنَائِمَكُمْ،وَأَصْلِحُوْا، وَأَحْسِنُوْا فَإِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3956 ، باب: جہاد میں قتل