- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- باب: جہاد میں قتل
باب: جہاد میں قتل
جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں جب بدر کا دن تھا تو عتبہ آگے تھا اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور اس کے دونوں بھائی تھے ۱؎پکارا کہ کوئی مقابلہ میں آتا ہے تو اس کے مقابلہ میں انصاری جوانوں نے جواب دیا ۲؎وہ بولا تم لوگ کون ہو انہوں نے بتایا تو بولا ہم کو تمہاری ضرورت نہیں ہم تو اپنے چچا زادوں کو کہتے ہیں۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے حمزہ اٹھو اے علی کھڑے ہو اے عبیدہ ابن حارث اٹھو۴؎چنانچہ حمزہ تو عتبہ کی طرف آئے اور میں شیبہ کی طرف گیا ۵؎اور عبیدہ اور ولید کے درمیان دو چوٹیں ہوئیں ۶؎تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے مقابل کو ٹھنڈا کردیا ۷؎پھر ہم ولید پر ٹوٹ پڑے اسے ہم نے قتل کیا اور ہم عبیدہ کو اٹھالائے ۸؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَقَدَّمَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَتَبِعَهُ ابْنُهٗ وَأَخُوْهُ فَنَادٰى: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَانْتَدَبَ لَهٗ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَأَخْبَرُوْهُ فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكُمْ إِنَّمَا أَرَدْنَا بَنِيْ عَمِّنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُمْ يَا حَمْزَةُ، قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ". فَأَقْبَلَ حَمْزَةُ إِلٰى عُتْبَةَ، وَأَقْبَلْتُ إِلٰى شَيْبَةَ، وَاخْتَلَفَ بَيْنَ عُبَيْدَةَ وَالْوَلِيْدِ ضَرْبَتَانِ،فَأَثْخَنَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهٗ، ثُمَّ مِلْنَا عَلَى الْوَلِيْدِ فَقَتَلْنَاهُ وَاحْتَمَلْنَا عُبَيْدَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3957 ، باب: جہاد میں قتل
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر میں بھیجا تو لوگ پھر گئے پورا پھرنا ۱؎پھر ہم مدینہ پہنچے تو وہاں چھپ گئے اور ہم نے سوچا کہ ہم تو ہلاک ہوگئے ۲؎ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا یارسولﷲہم تو بھگوڑے ہیں۳؎فرمایا بلکہ تم پلٹنے والے ہو اور میں تمہاری پناہ ہوں۴؎ترمذی اور ابوداؤد کی روایت میں اس کی مثل ہے اور فرمایا نہیں بلکہ تم پلٹا لینے والے ہو فرماتے ہیں تو ہم قریب ہوئے ہم نے حضور کے ہاتھ چومے ۵؎پھر فرمایا میں مسلمانوں کی پناہ ہوں ۶؎اور ہم امیہ ابن عبدﷲکی حدیث کہکان یستفتحاور ابوالدرداء کی حدیث کہ مجھے اپنے کمزوروں میں ڈھونڈو۔ان شاءاﷲباب فضل فقراءمیں بیان کریں گے ۷؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، وَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَاخْتَفَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا: هَلَكْنَا، ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ نَحْنُ الفَرَّارُوْنَ. قَالَ: "بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُوْنَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَحْوَهٗ وَقَالَ: "لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُوْنَ". قَالَ: فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا يَدَهٗ فَقَالَ: "أَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ".وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمَيَّةَ اِبْنِ عَبْدِ اللّٰهِ: كَانَ يَسْتَفْتِحُ، وَحَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ: "اَبْغُوْنِي فِي ضُعَفَائِكُمْ" فِي "بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3958 ، باب: جہاد میں قتل
روایت ہے حضرت ثوبان ابن یزید سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف والوں پر گوپھن نصب فرمایا ۲؎(ترمذی مرسلًا) ۳؎
عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمِنْجَنِيْقَ عَلٰى أَهْلِ الطَّائِفِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3959 ، باب: جہاد میں قتل
- 1
- 2