فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں پر دے دیا جائے ۱؎تو لوگ انسانوں کے خونوں ان کے مالوں کا دعویٰ کردیں ۲؎لیکن قسم مدعیٰ علیہ پر ہے ۳؎(مسلم)اور نووی شرح مسلم میں ہے انہوں نے فرمایا کہ بیہقی کی روایت میں حسن یا صحیح اسناد سے بروایت ابن عباس مرفوعًا یہ زیادتی منقول ہے کہ لیکن گواہ مدعی پر ہے اور قسم انکاری پر۴؎

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى ناسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِيْنَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِيْ "شَرْحِهٖ" لِلنَّوَوِيِّ أَنَّه قَالَ: وَجَاءَ فِيْ رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ، أَوْ صحِيْحٍ، زِيَادَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعًا: "لَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِيْ وَالْيَمِيْنَ عَلٰى مَنْ أَنْكَرَ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3758 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو لزومی قسم پر حلف اٹھائے ۱؎حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو تاکہ کسی مسلمان آدمی کا مال مارے ۲؎تو وہ قیامت کے دنسے اس حالت میں ملے گا۳؎کہ وہ اس پر ناراض ہوگاتونے اس کی تصدیق اتاری کہ بے شک جو لوگکے عہد کے اور اپنی قسموں کے بدلہ تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں۴؎الخ(مسلم،بخاری)۵؎

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ حَلَفَ عَلٰى يَمِيْنِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيْهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللّٰهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَصْدِيْقَ ذٰلِكَ: إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا إِلى آخِرِ الآيَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3759 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولنے جس نے اپنی قسم سے کسی مسلمان کا حق مار لیا ۱؎تونے اس کے لیے آگ لازم کردی اور اس پر جنت حرام کردی ۲؎تو حضور سے ایک شخص نے عرض کیا کہ اگرچہ معمولی چیز ہو یا رسولتو فرمایا اگرچہ پیلو کی شاخ ہی ہو ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِيْنهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللّٰهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ" فَقَالَ لَهٗ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيْرًا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "وَإنْ كَانَ قَضيبًا مِنْ أَرَاكٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3760 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں بشر ہوں ۱؎اور تم میری طرف مقدمہ لاتے ہو اور ممکن ہے کہ تمہارے بعض دوسرے کے مقابل اپنی دلیل میں زیادہ زبان آور ہو ۲؎تو میں اس کے لیے اس جیسا فیصلہ کردوں جو اس سے سنوں۳؎تو میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ کروں تو وہ اسے ہرگز نہ لے کہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهٖ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيْ لَهٗ عَلٰى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهٗ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيْهِ، فَلَا يَأْخُذَنَّهٗ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهٗ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3761 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہکی بارگاہ میں بہت ناپسندیدہ شخص زیادہ سخت جھگڑالو ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللّٰهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3762 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا قسم اور گواہ سے ۱؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِيْنٍ وَشَاهَدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3763 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت علقمہ ابن وائل سے وہ اپنے والد سے ۱؎راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک شخص حضر موت کا اور ایک شخص کندہ کا حاضر ہوا ۲؎حضرمی نے عرض کیا یارسولاس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے(جبرًا قبضہ) پھر کندی بولا وہ زمین میری ہے اور میرے قبضے میں ہے ۳؎اس میں اس شخص کا کچھ حق نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرمی سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں عرض کیا نہیں فرمایا تو تجھے اس کی قسم(ماننا پڑے گی)۴؎وہ بولا یارسولیہ شخص فاسق ہے پرواہ نہیں کرتا کہ کس چیز پر قسم کھائے اور کسی چیز سے یہ احتیاط نہیں کرتا فرمایا تیرے لیے اس کی طرف سے اس کے سوا کچھ نہیں ۵؎وہ دوسرا قسم کھانے اٹھا تو فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جب وہ پھرا ۶؎کہ اگراس نے اس کے مال کی قسم کھالی تاکہ اسے ظلمًا کھالے تو وہسے اس حال میں ملے گاتعالٰی اس سے غیرمتوجہ ہوگا ۷؎(مسلم)

وَعَنْ عَلْقَمَةَ اِبْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُل مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ هٰذَا غَلَبَنِيْ عَلٰى أَرْضٍ لِيْ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِيْ وَفِيْ يَدِيْ، لَيْسَ لَهٗ فِيْهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: "ألكَ بَيِّنةٌ" قَالَ: لَا، قَالَ: "فَلَكَ يَمِيْنُهٗ"، قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ، لَا يُبَالِيْ عَلٰى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: "لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذٰلِكَ"، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: "لَئِنْ حَلَفَ عَلٰى مَالِهٖ لِيَأْكُلَهٗ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللّٰهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3764 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے انہوں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جو کوئی اس چیز کا دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے تو وہ ہم میں سے نہیں وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں ڈھونڈے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ أَنَّهٗ سَمعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهٗ، فَلَيْسَ مِنَّا، وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3765 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تم کو بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں ۲؎وہ گواہ ہے جو طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے دے ۳؎(مسلم)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِيْ يَأْتِيْ بِشَهَادتِهٖ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3766 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بہترین لوگ میرے ہم زمانہ ہیں ۱؎پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے پھر وہ جو ان سے ملے ہوں گے۲؎پھر ایسی قوم آئے گی جن میں ہر ایک کی گواہی اسی کی قسم پر پہل کرے گی اور اس کی قسم اس کی گواہی پر۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ يَجيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِيْنَهٗ، وَيَمِيْنُهُ شَهَادتَهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3767 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک قوم پر قسم پیش فرمائی تو انہوں نے جلد بازی کی تو حضور نے حکم دیا کہ قسم میں ان کے درمیان قرعہ ڈالاجائے کہ کون قسم کھائے ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلٰى قَوْمٍ الْيَمِيْنَ، فَأَسْرَعُوْا، فَأَمْرَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِيْنِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3768 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا گواہی مدعی پر ہے اور قسم مدعیٰ علیہ پر ۱؎(ترمذی)

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِى وَالْيَمِيْنُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3769 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ان دو شخصوں کے بارے میں جو حضور کی طرف میراث کا مقدمہ لائے ۱؎کہ اس کا ان کے پاس سوا ءدعویٰ کے کوئی گواہ نہ تھا تو فرمایا کہ میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو میں اس کے لیے آگ کے ایک حصہ کا فیصلہ کرتا ہوں۲؎اس پر ان دونوں شخصوں میں سے ہر ایک نے عرض کیا یارسولﷲ(صلی اللہ علیہ و سلم )میرا حق میرے اس صاحب کے لیے ہے ۳؎تو فرمایا یوں نہیں لیکن جاؤ پھرتقسیم کرو اور حق کی تلاش کرو۴؎پھر قرعہ ڈالو پھر تم میں سے ہر ایک اپنے ساجھی سے معافی مانگ لے ۵؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں ان چیزوں میں جن میں مجھ پر نزول وحی نہیں ہوا ۶؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِيْ مَوَارِيْثَ لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاهُمَا فَقَالَ: "مَنْ قَضَيْتُ لَهٗ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيْهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهٗ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ"، فَقَالَ الرَّجُلَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ (صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ )! حَقِّيْ هٰذَا لِصَاحِبِيْ، فَقَالَ: "لَا، وَلَكِنِ اذْهَبَا، فَاقْتَسِمَا، وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لْيُحَلِّلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهٗ" وَفِيْ رِوَايَةٍ: قَالَ: "إِنَّمَا أَقْضِيْ بَيْنَكُمَا بِرَأْيِيْ فِيْمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيْهِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3770 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر ابن عبدسے کہ دو شخصوں نے ایک گھوڑی کے متعلق دعویٰ کیا تو ان میں سے ہر ایک نے گواہی قائم کی کہ یہ جانور میری ہے اس سے بچے لیے ہیں ۱؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا جس کے قبضہ میں وہ تھی ۲؎(شرح سنہ)۳؎

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ: أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَاعَيَا دابَّةً، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا دابَّتُهٗ نَتَجَهَا، فَقَضَى بِهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِيْ فِيْ يَدِهٖ. رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3771 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہ دو شخصوں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک اونٹ کا دعویٰ کیا پھر ان میں سے ہر ایک نے دو گواہ قائم کردیئے ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ۲؎(ابوداؤد)اور ابوداؤد کی دوسری روایت اور نسائی اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ دوشخصوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا جن میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھے۳؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ اونٹ ان دونوں کے درمیان کردیا ۴؎

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيْرًا عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَسَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهٗ وَللنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ: أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيْرًا لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنةٌ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3772 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ دو شخصوں نے ایک جانور میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس گواہ نہ تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں سے فرمایا قسم پر قرعہ ڈالو ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِيْ دابَّةِ، وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِيْنِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3773 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شخص سے فرمایا جس سے قسم لی کہ اسکی قسم کھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۱؎کہ تیرے پاس اس مدعی کی کوئی چیز نہیں ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ حَلَّفَهٗ: "احْلِفْ بِاللّٰهِ الَّذِيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهٗ عِنْدَكَ شَيْءٌ" يَعْنِيْ لِلْمُدَّعِيْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3774 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت اشعث ابن قیس سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان زمین تھی ۲؎اس نے انکار کردیا میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لے گیا تو حضور نے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں میں نے عرض کیا نہیں تو یہودی سے فرمایا تو قسم کھا ۳؎میں نے عرض کیا یارسولتب تو یہ قسم کھا جائے گا اور میرا مال لے جائے گا۴؎تبنے یہ آیت اتاری بے شک وہ لوگ جوکے عہدوپیمان اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں ۵؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنِيْ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُوْدِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِيْ، فَقَدَّمْتُهٗ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَلَكَ بَيِّنةٌ؟ " قُلْتُ: لَا قَالَ لِلْيَهُوْدِيِّ: "احْلِفْ" قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِذَنْ يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِيْ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا الآيَةَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3775 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے انہی سے کہ ایک شخص کندہ کا اور ایک شخص حضرموت کا یہ دونوں اپنا مقدمہ یمنی زمین کے متعلق رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لائے تو حضرمی بولا یارسولصلی اللہ علیہ و سلم زمین میری ہے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلی تھی ۱؎اور وہ زمین اسی کے قبضہ میں ہے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں ۲؎عرض کیا نہیں لیکن میں اس سے قسم لوں گا اس پر کہکی قسم وہ نہیں جانتا کہ وہ میری زمین ہے۳؎کہ اس کے باپ نے وہ مجھ سے غضب کی ہے تب کندی قسم کے لیے تیارا ہوا ۴؎تب رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی کا مال جھوٹی قسم سے نہیں مارے گا مگر وہتعالٰی سے کوڑھی ہوکر ملے گا۵؎تو کندی بولا وہ زمین اسی کی ہے ۶؎(ابوداؤد)

وَعَنْهُ: أَنْ رَجُلًا مَنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيْهَا أَبُوْ هٰذَا، وَهِيَ فِيْ يَدِهٖ، قَالَ: "هَلْ لَكَ بَيِّنةٌ؟ " قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهٗ، وَاللّٰهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيْهَا أَبُوْهُ فتهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِيْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَقْطَعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِيْنٍ، إِلَّا لَقِيَ اللّٰهَ وَهُوَ أَجْذَمُ"، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضُهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3776 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدابن انیس ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بڑے سے بڑا گناہکا شریک ٹھہرانا ہے۲؎اور ماں باپ کی نافرمانی ۳؎اورگزشتہ پر جھوٹی قسم۴؎اور نہیں قسم کھاتا کوئی روکنے والی قسم ۵؎پھر اس میں مچھر کے پر برابر ملاوٹ کرے مگر وہ تاقیامت اس کے دل میں داغ بنادی جاتی ہے ۶؎(ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے ۷؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكَ بِاللّٰهِ، وَعُقُوْقَ الْوَالِدَيْنِ، وَالْيَمِيْنَ الْغَمُوْسَ، وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللّٰهِ يَمِيْنَ صَبْرٍ، فَأَدْخَلَ فِيْهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوْضَةٍ، إِلَّا جُعِلَتْ نُكْتَةً فِيْ قَلْبِهٖ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3777 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان