فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولنے کہ نہیں قسم کھاتا کوئی میرے اس منبر کے پاس ۱؎جھوٹ پر قسم اگرچہ ہری مسواک پر ہو مگر وہ اپنا ٹھکانہ آگ کا بناتا ہے یا اس کے لیے آگ واجب ہوجاتی ہے ۲؎(مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِيْ هٰذَا عَلٰى يَمِيْنٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلٰى سِوَاكٍ أَخْضَرَ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ". رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3778 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت خریم ابن فاتک ۱؎سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے نماز فجر پڑھی،پھر جب فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہوئے پھر تین بار فرمایا کہ جھوٹی گواہیکے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر کی گئی ہے ۲؎پھر یہ آیت تلاوت کی کہ بچو گندگی یعنی بتوں سے۳؎اور بچو جھوٹی بات سے۴؎کی طرف جھکتے ہوئے اس کے ساتھ شریک نہ کرتے ہوئے ۵؎(ابو داؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ خُرَيْم بْنِ فَاتِكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْح، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: "عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّوْرِ بِالإِشْرَاكِ بِاللِه" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قرَأَ: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ، حُنَفَاءَ للّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3779 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

اور اسے احمدوترمذی نے حضرت ایمن ابن خریم سے ۱؎روایت کیا مگر ابن ماجہ نے تلاوت کا ذکر نہ کیا ۲؎

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ عَنْ أَيْمَنَ ابْنِ خُرَيْمِ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَهْ لَمْ يَذْكُرِ الْقِرَاءَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3780 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی ۱؎اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی۲؎اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی۴؎اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور یزید ابن زیاد دمشقی راوی منکر الحدیث ہے ۶؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَجْلودٍ حَدًّا، وَلَا ذِيْ غِمْرٍ عَلٰى أَخِيْهِ، وَلَا ظَنِيْنٍ فِيْ وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ، وَلَا الْقَانِعِ مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَيَزِيْدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ الرَّاوِيْ مُنْكَرُ الْحَدِيْثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3781 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ تو خیانتی مرد کی گواہی جائز ہے نہ خیانتی عورت کی ۱؎اور نہ زانی مردکی نہ زانیہ عورت کی ۲؎نہ کینے والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎اور رد فرمائی اس کی گواہی جوکسی کے گھر سے گزارہ کرے اسی گھروالوں کے لیے۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهٖ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا زَانٍ، وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَا ذِيْ غِمْرٍ عَلٰى أَخِيْهِ". وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيَتْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3782 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جنگلی(دیہاتی) آدمی کی گواہی بستی والے کے خلاف جائز نہیں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلٰى صَاحِبِ قَرْيَةٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3783 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دوشخصوں کے درمیان فیصلہ فرمایا تو ہارے ہوئے نے جب پیٹھ پھیری تو بولا مجھےکافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہتعالٰی عاجزی پر ملامت فرماتا ہے لیکن تجھ پر احتیاط لازم تھی ۳؎پھر جب تجھ پر کوئی چیز غالب آئے تو کہو کہمجھے کافی ہے، اور وہ اچھا کارسازہے ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى يَلُوْمُ عَلَى الْعَجْزِ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللّٰهُ ونِعْمَ الْوَكِيْلُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3784 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو کسی تہمت میں قید کیا ۲؎(ابوداؤد)اور ترمذی و نسائی نے یہ زیادتی کی پھر اسے چھوڑ دیا ۳؎

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسَ رَجُلًا فِيْ تُهْمَةٍ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَزَادَ التِّرمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ: ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3785 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے قطعی حکم دیا کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بٹھائے جائیں ۱؎(ابو داؤد)

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَضَى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَي الْحَكِم. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3786 ، فیصلوں اورگواہیوں کا بیان