قسموں اورمنتوں کا بیان

آزادی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں زیادہ قسم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے یہ تھی ۱؎کہ قسم ہے دلوں کو بدلنے والے کی ۲؎(بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَكْثَرُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ: "لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3406 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے انہی سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتعالٰی تم کو اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے ۱؎جو قسم کھانا چاہے تو اکی قسم کھائے یا خاموش رہے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللّٰهِ أَوْ لِيَصْمُتْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3407 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے نہ قسم کھاؤ بتوں کی اور نہ اپنے باپ دادوں کی ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلَا بِآبَائِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3408 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ جو قسم کھائے اپنی قسم میں کہدے کہ لات و عزیٰ کی قسم تو کہے کہ نہیں ہے کوئی معبود اکے سو ا؎اور جو اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں تو وہ خیرات کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى؛ فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ". مُتَفَقٌ عَلَيهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3409 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ثابت ابن ضحاک سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جو اسلام کے سوا کسی دین پر جھوٹی قسم کھائے ۲؎تو وہ ایسا ہے جیسا کہے ۳؎اور کسی انسان پر اپنی غیر مملوک میں نذر نہیں ۴؎اور جو کسی چیز سے اپنے کو قتل کرے دنیا میں تو اسے اسی چیز سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ۵؎اور جوکسی مسلمان پر لعنت کرے تو وہ اس کے قتل کی طرح ہے ۶؎اور جو کسی مسلمان کو کفر کی تہمت لگائے تو وہ اس کے قتل کی طرح ہے ۷؎اور جو جھوٹا دعوی کرے تاکہ اس سے مال بڑھائے تو انہ بڑھائے گا مگر کمی ۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ عيْرِ الإِسْلَامِ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ وَلَيْسَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَذْرٌ فیمالَا يَمْلِكُ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَن لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كقَتْلِهِ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا، لَمْ يَزِدْهُ اللّٰهُ إِلَّا قِلَّةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3410 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میںان شاءاﷲکوئی قسم نہ کھاؤ ں گا ۱؎کہ اس کے سوائے کسی کو اس سے اچھا دیکھو ں،مگر اپنی قسم کا کفارہ دوں گا ۲؎اور وہ کام کروں گا جو بہتر ہو ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إنِّي وَاللّٰهِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3411 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اے عبدالرحمن ابن سمرہ امیر ہونا نہ مانگو ۱؎کیونکہ اگر تمہیں حکومت مانگ کردی گئی تو تم اس کی طرف سپرد کردیئے جاؤ گے ۲؎اور اگر بغیر مانگے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ۳؎اور جب تم کسی چیز پر قسم کھالو پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے لو اور جو بہتر ہے وہ کرلو۴؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو اچھا ہے وہ کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے لو۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ! لَا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" وَفِي رِوَايَةٍ: "فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3412 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی پر قسم کھالے پھر اس سے بہتر کچھ دیکھے،تو اپنی قسم کا کفارہ دے، اور وہ کام کرے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3413 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ بات کہ اڑا رہے تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اپنے گھر والوں کے متعلق ۱؎زیادہ گناہ ہے اکے نزدیک اس سے کہ اس کا کفارہ ادا کردے جو انے اس پر فرض کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "وَاللّٰهِ لأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللّٰهُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3414 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے تیری قسم اس پر ہے جس پر تیرا ساتھی تیری تصدیق کرے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيهِ صَاحِبُكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3415 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے انہی سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قسم قسم لینے والے کی نیت پر ہے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَخلِفِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3416 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نازل ہوئی یہ آیت کہ اتعالٰی تمہاری پکڑ نہیں فرماتا،تمہاری لغو قسموں پر انسان کے اس قول کے متعلق نہیں، واہاں وا۱؎(بخاری)اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۲؎اور فرمایا کہ بعض راویوں نے اسے حضرت عائشہ سے مرفوع کیا ۳؎

وعَن عَائِشَةَ قَالَتْ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: لَا وَاللّٰهِ، وَبَلَى وَاللّٰهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَفِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" لَفْظُ "الْمَصَابِيحِ" وَقَالَ: رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَائِشَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3417 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ اپنے باپ دادوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنی ماؤں کی اور نہ بتوں کی ۱؎اور اکی قسم نہ کھاؤ مگر جب کہ تم سچے ہو ۲؎( ابوداؤد،نسائی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللّٰهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3418 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی غیر خدا کی قسم کھائے اس نے شرک کیا ۱؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللّٰهِ فَقَدْ أَشْرَكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3419 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کوئی امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ حَلَفَ بِالأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3420 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کہے میں اسلام سے بری ہوں تو اگر وہ جھوٹا ہو ۱؎تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ۲؎اور اگر سچا ہو تو اسلام کی طرف سلامت نہ پھرے گا۳؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ قَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الإِسْلَامِ؛ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الإِسْلَامِ سَالِمًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3421 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم قسم میں مبالغہ فرماتے تو یوں فرماتے اس کی قسم،جس کے قبضہ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: "لَا، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِم بِيَدِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3422 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم قسم فرماتے تو آپ کی قسم یہ ہوتی تھی اور خدا سے معافی چاہتا ہوں ۱؎(ابوداؤد، ابن ماجہ)

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ: "لَا، وَأَستَغْفِرُ اللَّه". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْنُ مَاجَه.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3423 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی چیز پر قسم کھائے ۱؎فورًا کہہ دےΑان شاءاﷲتو اس پر حنث نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ،دارمی) اور ترمذی نے ایک جماعت کا ذکر فرمایا جنہوں نے یہ حدیث ابن عمر پر موقوف کی۳؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللّٰهُ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3424 ، قسموں اورمنتوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالاحوص عوف ابن مالک سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول افرمایئے کہ میں اپنے چچازاد کے پاس کچھ مانگنے جاتا ہوں وہ مجھے نہیں دیتا،نہ صلہ رحمی کرتا ہے ۲؎پھر اسے میری ضرورت پڑتی تو میرے پاس آتا ہے مجھ سے کچھ مانگتا ہے ۳؎میں قسم کھا چکتا ہوں کہ نہ اسے کچھ دوں گا نہ صلہ رحمی کروں گا۴؎تو مجھے حضور نے حکم دیا کہ جو کام اچھا ہے وہ کروں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں ۵؎(نسائی،ابن ماجہ)اور اس کی ایک روایت میں یوں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول امیرا چچا زاد آتا ہے تو میں قسم کھاتا ہوں کہ نہ اسے کچھ دوں گا نہ صلہ رحمی کروں گا تو فرمایا کہ اپنی قسم کا کفارہ دو ۶؎

عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي آتِيهِ أَسْأَلُهُ فَلَا يُعْطِينِي وَلَا يَصِلُنِي، ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَيَّ فَيَأْتِينِي فَيَسْأَلُنِي، وَقَدْ حَلَفْتُ أَن لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ قَالَ: "كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3425 ، قسموں اورمنتوں کا بیان