باب:نذروں کابیان

آزادی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور ابن عمر سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نذر نہ مانا کرو ۱؎کیونکہ نذر تقدیر سے کچھ دفع نہیں کرتی بلکہ اس کے ذریعہ کنجوس سے کچھ دلوایا جاتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَنْذُرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ من الْبَخِيلِ". مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3426 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص اکی اطاعت کی نذر مانے وہ اس کی اطاعت کرے ۱؎اور جو اس کی نافرمانی کی نذر مانے وہ نافرمانی نہ کرے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللّٰهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3427 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو نافرمانی کی منت پوری کرنی چاہیے نہ اس کی جس کا بندہ مالک نہ ہو ۱؎(مسلم)اور ایک روایت میں ہے کہ اکی معصیت میں نذر نہیں۔

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ،وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: "لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللّٰهِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3428 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ نذر کا کفارہ قسم کا ہی کفارہ ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3429 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا دیکھا ۱؎حضور نے اس کے متعلق پوچھا لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے ۲؎اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے نہ بیٹھے گا نہ سایہ لے گا نہ کلام کرے گا۳؎اور روزے رکھے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ کلام کرے سایہ لے لے اور بیٹھ جائے ۴؎اور اپنا روزہ پورا کرلے۔ (بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ،وَلَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3430 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلا جارہا تھا ۱؎تو فرمایا اس کا کیاحال ہے لوگوں نے عرض کیا کہ انہوں نے پیدل چلنے کی منت مانی ہے۲؎فرمایا اتعالٰی اس کے اپنے نفس کو عذاب دینے سے غنی ہے اور اسے سوار ہوجانے کا حکم دیا۳؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ: "مَا بَالُ هَذَا؟ " قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ" وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3431 ، باب:نذروں کابیان

اور مسلم کی روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے فرمایا اے بوڑھے سوار ہوجاکہ اتعالٰی تجھ سے اور تیری نذر سے بے نیاز ہے۱؎

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: "ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ، فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3432 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ سعد ابن عبادہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں پرتھی ۱؎پھر وہ نذرپوری کرنے سے پہلے وفات پاگئیں تو انہیں فتویٰ دیا کہ ان کی طرف سے ادا کریں۔(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فتوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3433 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اکہ میری قبول توبہ کے شکریہ سے یہ ہے کہ اپنے مال سے الگ ہوجاؤں ۲؎صدقہ کرتے ہوئے او رسول کی طرف ۳؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنا کچھ مال روک لو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۴؎میں نے عرض کیا کہ میں اپنا وہ حصہ روکتا ہوں جو خیبر میں ہے ۵؎(مسلم،بخاری)یہ بڑی حدیث کا ایک حصہ ہے ۶؎

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللّٰهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَهَذَا طَرَفٌ مِنْ حَدِيثٍ مُطَوَّلٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3434 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ گناہ میں نذرنہیں ۱؎اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۲؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی)۳؎

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ،وَكَفَّارَتُهُ كفَّارَةُ الْيَمِينِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3435 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو نذر مانے اور اسے مقرر نہ کرے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۱؎اور جو گناہ میں منت مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو ایسی نذر مانے جس کی طاقت نہ ہو تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۲؎اور جو ایسی نذر مانے جس کی طاقت رکھتا ہو تو اسے پورا کرے ۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)بعض نے یہ حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف کی۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةٍ فَكَفَّارَتُهُ كفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَا يُطِيقُهُ فَكَفَّارَتُهُ كفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه، وَوَقَفَهُ بَعْضُهُمْ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3436 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت ثابت ابن ضحاک سےفرماتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں نذر مانی کہ مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرے گا ۱؎پھر وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو یہ خبردی۲؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا وہاں جاہلیت کے بتوں سےکوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی لوگوں نے کہا نہیں،فرمایا کیا وہاں ان کے میلوں سے کوئی میلہ لگتا تھا لوگ بولے نہیں۳؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۴؎کیونکہ نہ تو اکے گناہ میں نذر درست ہے اور نہ اس میں جس کا انسان مالک نہ ہو ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَهَلْ كَانَ فِيهِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟ " قَالُوا: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَوْفِ بِنَذْرِك، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللّٰهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3437 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول امیں نے نذر مانی تھی کہ حضور کے سامنے دف بجاؤں ۱؎فرمایا اپنی نذر پوری کرلو ۲؎(ابوداؤد)اور رزین نے یہ اور زیادہ کیا کہ بولی اور میں نے یہ نذر مانی تھی کہ فلاں فلاں جگہ جانور ذبح کروں جہاں جاہلیت والے ذبح کرتے تھے۳؎تو فرمایا کیا اس جگہ جاہلیت کے بتوں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی ہو؟بولی نہیں،فرمایا کیا وہاں ان کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا بولیں نہیں،فرمایا اپنی نذر پوری کرو۴؎

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ قَالَ: "أَوْفِي بِنَذْرِكِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَزَادَ رَزِينٌ: قَالَتْ: وَنَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، مَكَانٌ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: "هَلْ كَانَ بِذَلِكَ الْمَكَانِ وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟ " قَالَتْ: لَا، قَالَ: "هَلْ كَانَ فِيهِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟ " قَالَت: لَا، قَالَ: "أَوْفِي بِنَذْرِكِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3438 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت ابو لبابہ سے ۱؎کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ میری توبہ سے یہ ہے کہ میں اپنی قوم کی جگہ چھوڑ دوں جہاں میں نے یہ گناہ کیا ۲؎اور یہ ہے کہ اپنے سارے مال سے علیٰحدہ ہوجاؤں صدقہ کرتےہوئے فرمایا تمہیں تہائی کافی ہے۳؎(رزین)

وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ: أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً قَالَ: "يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ". رَوَاهُ رَزِينٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3439 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت جابر ابن عبداسے کہ فتح مکہ کے سال ایک شخص کھڑا ہوا عرض کیا یارسول امیں نے اکے لیے نذر مانی تھی کہ اگر اتعالٰی آپ کو فتح مکہ عطا کرے تو میں بیت المقدس میں دو رکعتیں پڑھوں گا ۱؎فرمایا یہاں ہی پڑھ لو۲؎تو انہوں نے پھر سوال دھرایا،فرمایا یہاں ہی پڑھ لو،پھر سوال دہرایا،فرمایا اچھا تو تم جانو ۳؎(ابوداؤد،دارمی)

وَعَن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ: أَنَّ رَجُلًا قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ عزَّ وجلَّ إِنْ فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ: "صَلِّ هَهُنَا" ثم أعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ: "صَلِّ هَهُنَا"، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ: "شَأْنَكَ إِذًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3440 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے کہ عقبہ ابن عامر کی بہن نے نذر مانی کہ پیدل حج کریں ۱؎اور وہ اس کی طاقت نہ رکھتی تھیں تو فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اتعالٰی تمہاری بہن کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے وہ سوار ہوجائیں اور ایک ہدی لے جائیں۲؎(ابو داؤد،دارمی)اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوار ہوجائیں اور ہد ی لے جائیں۳؎اور ان کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اتعالٰی تمہاری بہن کی اس مشقت سے کچھ نہ کرے گا۴؎وہ سوار ہوجائیں،حج کرلیں اور اپنی قسم کا کفارہ دیں ۵؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ ابْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، وَأَنَّهَا لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْي أُخْتِكَ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِأبِي دَاوُدَ: فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ وَتُھدِيَ هَدْيًا، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ اللّٰهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا فَلْتَرْكَبْ ولْتَحُجَّ وَتُكَفِّرْ يَمِينَهَا"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3441 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت عبداابن مالک سے کہ عقبہ ابن عامر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنی بہن کے متعلق دریافت کیا ۱؎جنہوں نے نذر مانی تھی کہ ننگے پاؤں بغیر دوپٹہ حج کریں گی ۲؎فرمایا انہیں حکم دے دو کہ دوپٹہ اوڑھیں اور سوار ہو جائیں اور تین دن روزہ رکھیں۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)

وَعَن عَبْدِ اللَّه بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ: "مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3442 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ دو انصاری بھائی جن کے درمیان کچھ میراث تھی ان میں سے ایک نے دوسرے سےتقسیم کا مطالبہ کیا دوسرا بولا کہ اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال خانہ کعبہ میں صرف ہو۱؎تو ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ کعبہ تمہارے مال سے غنی ہے ۲؎اپنی قسم کا کفارہ دو اور اپنے بھائی سے کلام کرو ۳؎میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہ تم پرقسم ہے اور نہ نذر ہے اکی نافرمانی میں اور نہ قطع رحمی میں اور نہ اس میں جس کا مالک نہ ہو ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ أَخَوينِ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ فَكُلُّ مَالِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكلِّمْ أَخَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَمِينَ عَلَيْكَ وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِم، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3443 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا نذریں دو ہیں ۱؎تو جوکوئی فرمانبرداری کی نذر مانے تو یہ نذر اکے لیے ہے اس میں وفا لازم ہے۲؎اور جو گناہ کی نذر مانے تو یہ نذرشیطان کے لیے ہے اور اس کی وفا نہیں۳؎اس کا کفارہ وہ ہی بنے گا جوقسم کا کفارہ بنتا ہے۴؎(نسائی)

عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي طَاعَةٍ فَذَلِكَ لِلَّهِ فِيهِ الْوَفَاءُ، وَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاء فِيهِ وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3444 ، باب:نذروں کابیان

روایت ہے حضرت محمد ابن منتشر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اتعالٰی اسے دشمن سے نجات دے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کردے گا۲؎پھراس نے حضرت ابن عباس سے پوچھا ۳؎تو آپ نے اس سے فرمایا کہ مسروق سے پوچھو تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے کو ذبح نہ کر کیونکہ اگر تو مؤمن ہے تو تو نے مؤمن جان کو قتل کرلیا ۴؎اور اگر تو کافر ہے توتو نے دوزخ کی طرف جلدی کی ۵؎اور تو ایک دنبہ خرید اسے ذبح کر دے فقراء کے لیے کیونکہ حضرت اسحاق تجھ سے بہتر تھے اوران کا فدیہ دنبہ سے دیا گیا ۶؎اس نے حضرت ابن عباس کو خبر دی آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی تجھے یہ ہی فتویٰ دینا چاہا تھا۷؎(رزین)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ إِنْ نَجَّاهُ اللّٰهُ مِنْ عَدُوِّهِ، فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ: سَلْ مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: لَا تنحَرْ نَفْسَكَ، فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ مُؤْمِنًا قَتَلْتَ نَفْسًا مُؤْمِنَةً، وَإِنْ كُنْتَ كَافِرًا تَعَجَّلْتَ إِلَى النَّارِ، وَاشْتَرِ كَبْشًا فَاذْبَحْهُ لِلْمَسَاكِينِ، فَإِنَّ إِسْحَاقَ خَيْرٌ مِنْكَ، وَفُدِيَ بِكَبْشٍ، فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: هَكَذَا كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أُفْتِيَكَ. رَوَاهُ رَزِينٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3445 ، باب:نذروں کابیان