باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے خوشبو تیار کررہی تھی آپ کے احرام کے لیے احرام باندھنے سے پہلے ۱؎اور آپ کے کھولنے کے لیے طواف بیت اللّٰه سے پہلے ایسی خوشبو جس میں مشک ہوتا تھا ۲؎گویا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک بحالت احرام دیکھ رہی ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهٖ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهٖ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2540 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بال چمٹائے تلبیہ کہتے سنا ۱؎کہ فرماتے تھے حاضر ہوں یا اللّٰه حاضر ہوں،حاضر ہوں ۲؎تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں،یقینًا حمد و نعت تیری ہے اور ملک تیرا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ان کلمات پر زیادتی نہ فرماتے تھے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . لَا يَزِيدُ عَلٰى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2541 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب اپنا پاؤں شریف رکاب میں داخل فرمایا اور آپ کو لے کر آپ کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہوئی ۱؎تو آپ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس بآواز تلبیہ کہا ۲؎(مسلم،بخاری)۳؎

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهٗ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهٖ نَاقَتُهٗ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2542 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے کہ حج کا خوب شور مچاتے تھے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالحَجِّ صُرَاخًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2543 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں میں حضرت ابو طلحہ کا ردیف تھا ۱؎تمام صحابہ حج و عمرہ دونوں کا شور مچاتے تھے۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2544 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ۱؎اور ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے حج و عمرہ کا احرام باندھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حج کا احرام باندھا تھا ۲؎تو جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تو کھل گئے ۳؎لیکن جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ جمع کیا تھا وہ دسویں تاریخ تک نہ کھلے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتّٰى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2545 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں عمرہ کا حج کے ساتھ تمتع کیا ۱؎ابتداء عمرہ کا احرام باندھا پھر حج کا احرام باندھ لیا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ بَدَأَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2546 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے احرام کے لیے کپڑے اتارے اور غسل کیا ۱؎(دارمی،ترمذی)

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهٗ رَاٰى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهٖ وَاغْتَسَلَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2547 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے احرام کے لیے اپنے سر کے بال شریف خطمی سے چپکائے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهٗ بِالغِسْلِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2548 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت خلاد ابن سائب سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میرے پاس جبریل آئے مجھے حکم پہنچایا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں ۱؎کہ احرام یا تلبیہ اونچی آواز سے کریں ۲؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلَالِ أَو التَّلبيَةِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2549 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو تلبیہ کہے مگر انتہا زمین تک ادھر ادھر یعنی دائیں بائیں کے تمام پتھر درخت ڈھیلے تلبیہ کہتے ہیں ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهٖ وَشِمَالِهٖ : مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتّٰى تَنْقَطِعَ الأَرْضُ مِنْ هٰهُنَا وهٰهُنَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2550 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم ذوالحلیفہ میں دورکعت نفل پڑھتے تھے ۱؎پھر جب مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی تو ان کلمات سے تلبیہ کہتے کہ فرماتے ۲؎حاضر ہوں میں یا اللّٰه حاضر ہوں حاضر ہوں خدمت میں حاضر ہوں اور ساری بھلائی تیرے قبضہ میں ہے ۳؎حاضر ہوں رغبت و اعمال تیرے لیے ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں ۵؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهٖ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِمُسْلِمٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2551 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت عمارہ ابن خزیمہ ابن ثابت سے وہ اپنے والد سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ جب تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللّٰه سے اس کی رضا اور جنت مانگتے اور اس کی رحمت کے وسیلہ سے آگ سے پناہ مانگتے تھے ۲؎(شافعی)

وَعَنْ عِمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهٖ سَأَلَ اللّٰهَ رِضْوَانَهٗ وَالْجَنَّةَ وَاسْتَعْفَاهُ بِرَحْمَتِهٖ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2552 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب حج کا ارادہ فرمایا تو لوگوں میں اعلان فرمایا ۱؎پھر لوگ جمع ہوگئے پھر جب میدان میں پہنچے تو احرام باندھا ۲؎(بخاری)

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2553 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے تمہیں خرابی ہو بس کرو بس کرو ۱؎وہ کہتے مگر تیرا ایک شریک ہے کہ تو اس کا اور اس کی ملک کا مالک ہے ۲؎یہ کہتے جاتے تھے اور بیتاللّٰهکا طواف کرتے تھے۔(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ قَدٍْ قَدٍ» إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهٗ وَمَا مَلَكَ. يَقُولُونَ هٰذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالبَيْتِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2554 ، باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب