باب:ارکان حج

کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

اور احمد،ابن ماجہ نے حضرت عمر سے لوہے کے میل تک روایت کی

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ عُمَرَ إِلٰى قَوْلِهٖ: خُبْثَ الْحَدِيدِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2525 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عر ض کیا یارسول اللّٰه کون چیز حج فرض کرتی ہے فرمایا توشہ اور سواری ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟ قَالَ: الزَّادُ وَالرَّاحِلَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2526 ، باب:ارکان حج

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھاعرض کیا حاجی کون ہے فرمایا میلا بُو والا ۱؎پھر دوسراکھڑا ہوا عرض کیا یارسولاللّٰہصلی اللّٰہ علیہ و سلم کون سا حج افضل ہے ۲؎فرمایا خون بہانا شور مچانا ۳؎پھر دوسرا اٹھا عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سبیل کیا چیز ہے ۴؎فرمایا توشہ اور سواری ۵؎اسے شرح سنہ میں روایت کیا اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں مگر انہوں نے آخری چیز بیان نہ کی۔

وَعَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْحَاجُّ؟ قَالَ: "الشَّعِثُ التَّفِلُ"، فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْعَجُّ وَالثَّجُّ» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: «زَادٌ وَ رَاحِلَةٌ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهٖ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرِ الْفَصْلَ الأَخِيرَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2527 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے کہ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج و عمرہ کی طاقت رکھتے ہیں نہ سوار ہونے کی ۱؎فرمایا اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو ۲؎(ترمذی،ابو داؤد،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهٗ أَتٰى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2528 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو یوں کہتے سنالبیك(حاضر ہوں) شبرمہ کی طرف سے ۱؎فرمایا شبرمہ کون،عرض کیا میرا بھائی ہے یا عزیز ہے فرمایا کیا تم اپنا حج کرچکے ہو عرض کیا نہیں فرمایا اپنا حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو۲؎(شافعی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ قَالَ: «مَنْ شُبْرُمَةُ» قَالَ: أَخٌ لِي أَوْ قَرِيبٌ لِي قَالَ: «أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وابنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2529 ، باب:ارکان حج

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پورب والوں کے لیے عقیق کو میقات بنایا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْهُ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2530 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت عائشہ سےکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عراق والوں کے لئے ذات عراق کو میقات بنایا ۱؎(ابو داؤد،نسائی)۲؎

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2531 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک حج یا عمرہ کا احرام باندھے ۱؎تو اسکے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں یا اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُمَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَأَخَّرَ أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2532 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ یمن کے لوگ حج کرنے آتے تو توشہ ساتھ نہ لاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم متوکل لوگ ہیں ۱؎پھر جب مکہ معظمہ پہنچے تو لوگوں سے سوال کرتے تھے۲؎اس پر اللّٰه تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ توشہ ساتھ لو کیونکہ بہترین توشہ سوال سے بچنا ہے۳؎(بخاری)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ فَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: (وتزَوَّدُوا فإِنَّ خيرَ الزَّادِ التَّقْوٰى)رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2533 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللّٰه کیا عورتو ں پر جہاد ہے فرمایا ہاں ان پر وہ جہاد ہے جس میں جنگ نہیں ۱؎یعنی حج و عمرہ۔(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2534 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حصرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جس کو حج سے کوئی ظاہری ضرورت ہے یا ۱؎ظالم بادشاہ ۲؎یا روکنے والی بیماری نہ روکے ۳؎پھر وہ حج کئے بغیر مرجائے تو چاہے یہودی ہو کر مرے اور چاہے عیسائی ہوکر مرے ۴؎(دارمی)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2535 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا حج و عمرہ کرنے والے اللّٰه کی جماعت ہیں ۱؎اگر یہ خدا سے دعا کریں تو رب ان کی قبول کرلے اور اگراس سے مغفرت مانگیں تو انہیں بخش دے ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللّٰهِ إِنْ دَعَوْهُ أجابَهمْ وَإِنِ اسْتَغْفَرُوهُ غَفَرَ لَهُمْ". » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2536 ، باب:ارکان حج

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللّٰه کی جماعتیں تین ہیں ۱؎غازی حاجی اور عمرہ کرنے والا ۲؎(نسائی،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَفْدُ اللّٰهِ ثَلَاثَةٌ الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2537 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم حاجی سے ملو ۱؎تو اسے سلام کرو اور اس سے مصافحہ کرو۲؎اور اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنی دعائے مغفرت کے لیے کہو کیونکہ وہ بخشا ہوا ہے ۳؎(احمد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهٗ فَإِنَّهٗ مَغْفُورٌ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2538 ، باب:ارکان حج

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو حاجی یا غازی یا عمرہ کرنے والا ہو کر نکلا پھر راستہ میں مر گیا ۱؎تو اس کے لیے غازی،حاجی اور عمرہ والے کا ثواب لکھ دیا گیا ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهٖ كَتَبَ اللّٰهُ لَهٗ أَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاجِّ والمعتمِرِ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2539 ، باب:ارکان حج