- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب:ارکان حج
باب:ارکان حج
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ہم پر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خطبہ پڑھا ۱؎تو فرمایا اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا لہذا حج کرو ۲؎ایک شخص نے عرض کیا ۳؎یا رسول اللّٰه کیا ہر سال حضور خاموش رہے حتی کہ اس شخص نے تین بار کہا ۴؎تو فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے ۵؎پھر فرمایا مجھے چھوڑے رہو جس میں میں تم کو آزادی دوں ۶؎کیونکہ تم سے اگلے لوگ اپنے نبیوں سے زیادہ پوچھ گچھ اور زیادہ جھگڑنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے ۷؎لہذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک ہوسکے کر گزرو اور جب تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑدو ۸؎(مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَسَكَتَ حَتّٰى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: " لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ " ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلٰى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2505 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل بہتر ہے فرمایا اللّٰه رسول پر ایمان لانا ۱؎عرض کیا گیا پھر کون سا فرمایا اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرنا،عرض کیا گیا پھر کون سا فرمایا مقبول حج۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللّٰهِ وَرَسُولِهٖ قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ» . قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مَبْرُورٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2506 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اللّٰه کے لیے حج کرے تو نہ فحش کلامی کرے نہ فسق کی باتیں تو ایسا لوٹے گا جیسے اسے ماں نے آج جنا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2507 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عمرہ سے دوسرے عمرہ تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ۱؎اور مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهٗ جَزاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2508 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ ماہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2509 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم مقام روحاء میں ایک قافلہ سے ملے ۱؎تو فرمایا یہ کون قوم ہے وہ بولے ہم مسلمان ہیں،پھر بولے آپ کون ہیں فرمایا اللّٰه کا رسول ۲؎تب آپ کی خدمت میں کسی عورت نے ایک بچہ آپ کی طرف اٹھایا بولی کیا اس کا بھی حج ہوسکتا ہے۳؎فرمایا ہاں تجھے ثواب ہے ۴؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللّٰهِ فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهٰذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ لَكِ أَجَرٌ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2510 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا ۱؎یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم اللّٰه کے فریضہ نے جو حج کے متعلق بندوں پر ہے میرے باپ کو بہت بڑھاپے میں پایا ہے جو سواری پر بیٹھ نہیں سکتاتھا۲؎تو کیا میں اس کی طرف سے حج کردوں فرمایا ہاں یہ واقعہ حجۃ الوداع میں ہوا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ فَرِيضَةَ اللّٰهِ عَلٰى عِبَادِهٖ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، وَذٰلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2511 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کہ میری بہن نے حج کی منت مانی تھی اور وہ مر گئی ۱؎تو نبی کر یم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر اس پر قرض ہوتا تو تو ادا کرتا بولا ہاں ضرور فرمایا تو اللّٰه کا قرض بھی ادا کر ۲؎وہ تو زیادہ ادا کے لائق ہے۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: أَتٰى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهٗ؟قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاقْضِ دَيْنَ اللّٰهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِالقَضَاءِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2512 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی شخص کسی عورت سے خلوت نہ کرے ۱؎اور کوئی عورت اس کے بغیر سفر نہ کرے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۲؎ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللّٰه میں فلاں جہاد میں لکھ لیا گیا ہوں اور میری بیوی حج کو جارہی ہے فرمایا جا اپنی بیوی کے ساتھ حج کر ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَخَرَجَتْ امْرَأَتِي حَاجَّةً قَالَ: اذهبْ فاحجُجْ مَعَ امرأتِكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2513 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے جہاد کے متعلق اجازت مانگی ۱؎تو فرمایا عورتوں کا جہاد حج ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ. فَقَالَ: «جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2514 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی عور ت ایک دن و رات کا سفر اس کے بغیر نہ کرے ۱؎کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2515 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مدینہ والوں کے لیے جو ذوالحلیفہ کو (میقات) احرام گاہ بنایا اور شام والوں کے لیے حجفہ کو ۱؎اور نجدیوں کے لیے قرن منازل کو ۲؎اور یمن والوں کے لیے یلملم کو ۳؎یہ میقات ان کے باشندوں کے لیے بھی ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان کا باشندہ نہ ہو مگر ان پر سے گزرے ۴؎جو حج یا عمرہ کا ارادہ کرتا ہو۵؎پھر جو ان میقاتوں کے اندر کا باشندہ ہو تو اس کا احرام اپنے گھر سے ہے اور اسی طرح حتی کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھیں ۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ: ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ: الْجُحْفَةَ وَ لِأَهْلِ نَجْدٍ: قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ: يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَ لِمَنْ أَتٰى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهٗ مِنْ أَهْلِهٖ وَكَذَاكَ وَكَذَاكَ حَتّٰى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2516 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت جابر سے وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مدینہ والوں کا احرام گاہ ذوالحلیفہ سے ہے اور ان کا دوسرا راستہ حجفہ ہے ۱؎اور عراق والوں کا احرام گاہ ذات عرق سے ہے ۲؎اور نجد والوں کا احرام گاہ قرن ہے اور یمن والوں کا احرام گاہ یلملم ہے۔(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2517 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے چار عمرے کیے ۱؎جو سب ذیقعد میں تھے سوائے اس عمرہ کے جو آپ کے حج کیساتھ تھا ۲؎حدیبیہ کا عمرہ ذیقعدہ میں سال آئیندہ کا عمرہ ذیقعدہ میں ہی۳؎اور جعرانہ کا عمرہ جہاں حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں وہ بھی ذیقعدہ میں ۴؎اور ایک عمرہ آپ کے حج کے ساتھ والا ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهٖ : عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهٖ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2518 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حج سے پہلے ذیقعدہ میں دوبار عمرے کیے ۱؎(بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ مَرَّتَيْنِ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2519 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اے لوگو اللّٰه نے تم پر حج فرض کیا تو اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے ۱؎عر ض کیا یارسول اللّٰه کیا ہر سال فرمایا اگر ہم ہاں کہہ دیتے تو اسی طرح فرض ہوجاتا ۲؎اور اگر یہ فرض ہوتا تو تم نہ عمل کرتے اور نہ کرسکتے پس حج تو ایک بار ہی ہے جو زیادہ کیا تو نفل کیا ۳؎(احمد،نسائی، دارمی)۴؎
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» . فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: " لَوْ قُلْتُهَا: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا وَالْحَجُّ مَرَّةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوَّعَ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2520 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص توشہ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللّٰه تک پہنچا سکے ۱؎پھر حج نہ کرے تو اس میں فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر ۲؎اور یہ اس لیے ہے کہ اللّٰه تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ لوگوں پر اللّٰه کے لیے بیت اللّٰه کا حج فرض ہے جو وہاں تک کا راستہ طے کرسکے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جس کی اسناد میں کچھ گفتگو ہے،ہلال ابن عبداللّٰه مجہول آدمی ہے اور حارث حدیث میں ضعیف مانا جاتا ہے۴؎
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهٗ إِلٰى بَيْتِ اللّٰه وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذٰلِكَ أَنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى يَقُولُ: (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِهٖ مَقَالٌ وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ مَجْهُولٌ وَالْحَارِثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2521 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ اسلام میں ترک دنیا نہیں ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَرُورَةَ فِي الإِسْلَامِ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2522 ، باب:ارکان حج
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو حج کا ارادہ رکھتا ہو تو جلدی کرے ۱؎(ابوداؤد،دارمی)۲؎
وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيُعَجِّلْ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2523 ، باب:ارکان حج
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ حج و عمرہ ملا کر کرو ۱؎کہ یہ دونوں غریبی اور گناہوں کو ایسے مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کو۲؎ا ور مقبول حج کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ۳؎(ترمذی،نسائی)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خُبْثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2524 ، باب:ارکان حج
- 1
- 2