باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ہشام ابن عروہ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ اسامہ ابن زید سے پوچھا گیا کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم حجۃ الوداع میں جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو کس چال سے چلتے رہے فرمایا آپ قدرے تیز چلتے رہے(دلکی)پھر جب کھلا راہ پاتے تو زیادہ تیز چلتے(میدانی)۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2604 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ واپس ہوئے ۱؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے اونٹوں کو سخت ڈانٹ ڈپٹ اور مار سنی ۲؎تو انہیں اپنے کوڑے سے اشارہ فرمایا اور حکم دیا کہ اے لوگو اطمینان اختیار کرو تیز دوڑنے میں خوبی نہیں ۳؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهٗ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهٖ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالإِيضَاعِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2605 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے ان ہی سے کہ حضرت اسامہ ابن زید عرفہ سے مزدلفہ تک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ردیف (پیچھے سوار)رہے پھرحضور انور نے مزدلفہ سے منٰی تک حضرت فضل کو پیچھے بٹھالیا ۱؎ان دونوں صاحبوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے تک تلبیہ کہتے رہے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زِيدٍ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلٰى مِنًى فَكِلَاهُمَا قَالَ: لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتّٰى رَمٰى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2606 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھیں ۱؎کہ ان میں سے ہر نماز علیحدہ تکبیر سے ادا کی اور نہ ان کے درمیا ن نفل پڑھے اور نہ ان میں سے کسی نماز کے پیچھے ۲؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلٰى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2607 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو کبھی نہ دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز غیر وقت میں پڑھی ہو ۱؎سواء دو نمازوں کے مزدلفہ میں تو مغرب و عشاء ۲؎اور اس دن نماز فجر اپنے وقت معہود سے پہلے پڑھ لی ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ: صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2608 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مزدلفہ کی رات ضعیف بال بچوں کے ساتھ آگے بھیج دیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهٖ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2609 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے انہی سے وہ حضرت فضل ابن عباس سے راوی وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ردیف تھے کہ حضور انور نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کے سویرے جب لوگ روانہ ہوئے تو ان سے فرمایا سکون اختیار کرو حضور خود بھی اپنی اونٹنی کی لگام کھینچے ہوئے تھے ۱؎حتی کہ وادی محسر میں داخل ہوگئے جو منٰی کا ہی حصہ ہے ۲؎فرمایا کنکریاں چن لو ٹھیکریوں کی طرح جن سے جمرہ کو مارا جائے ۳؎اور فرمایا کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جمرہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔(مسلم)

وعَنْهُ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهٗ حَتّٰى دَخَلَ مُحَسَّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمٰى بِهِ الجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتّٰى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2610 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم مزدلفہ سے یوں روانہ ہوئے کہ آپ پر نہایت سکون و اطمینان تھا اور لوگوں کو بھی سکون کا ہی حکم دیا اور وادی محسر میں سواری کچھ تیز کی ۱؎اور انہیں حکم دیا کہ ٹھیکریوں کی سی کنکریوں سے رمی کریں اور فرمایا شاید تمہیں اس سال کے بعد نہ دیکھوں گا۲؎میں نے یہ حدیث مسلم،بخاری میں نہ پائی صرف ترمذی میں پائی وہ بھی کچھ تقدیم و تاخیر سے۳؎

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ: «لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هٰذَا». لَمْ أَجِدْ هٰذَا الْحَدِيثَ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا فِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ مَعَ تَقْدِيمِ وَتَأْخِيرٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2611 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت محمد ابن قیس ابن مخرمہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا کہ جاہلیت والے جب عرفہ سے چلتے تھے ۱؎جب کہ سورج ایسا ہوجاتا تھا جیسے لوگوں کی پگڑیاں ان کے چہروں میں ۲؎غروب سے پہلے اور مزدلفہ سے آفتاب چمکنے کے بعد جب کہ دھوپ ایسی ہوتی جیسے لوگوں کی پگڑیاں ان کے چہروں میں اور ہم عرفہ سے سورج ڈوبنے تک روانہ ہوں گے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلیں گےہمارا طریقہ بت پرستوں اور مشرکوں کے خلاف ہوگا ۳؎(بیہقی) وہاں یہ بھی روایت کی کہ ہم پر حضور نے خطبہ ارشاد کیا پھر اس کی مثل روایت کی ۴؎

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ عَرَفَةَ حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بَعْدَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ حِينَ تَكُونُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ . وَإِنَّا لَا نَدْفَعُ مِنْ عَرَفَةَ حَتّٰى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَنَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالشِّرْكِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ: "خَطَبَنَا" وَسَاقَهٗ بِنَحْوِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2612 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہم بنی عبدالمطلب کے بچوں کو خچروں پر سوار کرکے آگے روانہ کردیا حضور انور ہماری رانوں کو ہاتھ لگاتے ۱؎اور فرماتے تھے بچو سورج نکلنے سے پہلے جمرہ کو کنکر نہ ماریو ۲؎(ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلٰى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2613 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت ام سلمہ کو بقر عید کی رات بھیج دیا ۱؎انہوں نے فجر سے پہلے جمرہ کے کنکر مارلیے ۲؎پھر وہ چلی گئیں تو طواف زیارت کرلیا ۳؎یہ دن وہ تھا جس دن میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ان کے پاس قیام فرما ہوتے تھے ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَقَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ، فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَالْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2614 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہی کہ مقیم یا عمرہ کرنے والا حجر اسود چومنے تک تلبیہ کہے۱؎(ابوداؤد) ابوداؤد نے فرمایا یہ حضرت ابن عباس سے موقوفًا مروی ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: يُلَبِّي الْمُقِيمُ، أَوِ الْمُعْتَمِرُ حَتّٰى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ: وَرُوِيَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2615 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت ہے حضرت یعقوب ابن عاصم ابن عروہ سے کہ انہوں نے حضرت شرید کو فرماتے سنا ۱؎کہ میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ عرفات چلا تو آپ کے قدم شریف زمین سے نہ لگے حتّٰی کہ مزدلفہ میں پہنچ گئے ۲؎(ابوداؤد)

عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهٗ سَمِعَ الشَّرِيدَيَقُولُ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتّٰى أَتٰى جمْعاً. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2616 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی

روایت حضرت ابن شہاب سے فرماتے ہیں مجھے سالم نے خبر دی کہ جس سال حجاج ابن یوسف نے حضرت زبیر پر حملہ کیا ۱؎تو اس نے حضرت عبداللّٰه سے پوچھا کہ ہم عرفہ کے دن قیام گاہ میں کیا کریں سالم نے فرمایا کہ اگر تو سنت پر عمل چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز ظہر دوپہری میں ہی پڑھ ۲؎اس پر عبداللّٰه ابن عمر نے فرمایا یہ سچے ہیں صحابہ کرام بطریق سنت ظہر و عصر جمع کر کے پڑھتے ۳؎تھے تو میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بھی یہ عمل کیا ہے تو سالم نے فرمایا کہ صحابہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سنت ہی کی پیروی کرتے تھے۴؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰهِ: كَيْفَ نَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذٰلِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: وَهَلْ يَتَّبِعُونَ ذٰلِكَ إِلَّا سُنَّتَهٗ؟ رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2617 ، باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی