- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
اور احمد نے حضرت براء سے روایت کی۔
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ الْبَرَاءِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2401 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت حفصہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسارہ کے نیچے رکھتے ۱؎پھر تین بار عرض کرتے خدایا مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَن حَفصةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهٖ ثُمَّ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2402 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت علی سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم اپنے لیٹتے وقت کہتے تھے الٰہی میں تیری ذات کریم کی اور تیرے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ۱؎اس کے شرارت سے تو جس کی پیشانی پکڑے ہے۲؎الٰہی تو ہی قرض اور گناہ کو دور کرتا ہے ۳؎الٰہی تیرا لشکر کبھی شکست نہیں پا تا تیرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۴؎اور تیرے مقابل بختاور کو بخت نفع نہیں دیتا۵؎توپاک ہے اور تیری ہی حمد ہے ۔(ابوداؤد)
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهٖ : «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهٖ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ اَللّٰهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2403 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بستر پر جاتے وقت یہ کہہ لے میں اس اللّٰه سے معافی مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۱؎وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے اور اس بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۲؎(تین بار کہے)تو اللّٰه اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ سمندر کے جھاگ یا ریگ رواں یا درختوں کے پتوں یا دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلٰى فِرَاشِهٖ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰه الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، غَفَرَ اللّٰهُ لَهٗ ذُنُوبَهٗ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ، أَوْ عَدَدَ رَمْلِ عَالَجٍ، أَوْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ، أَوْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2404 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت شداد بن اوس ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو بستر پر لیٹے قرآن شریف کی کوئی سورۃ پڑھ لے۲؎مگر اللّٰه تعالٰی اس پر فرشتہ مقرر فرمادیتا ہے پھر کوئی ایذا دہ چیز اس کے پاس نہیں پھٹکتی حتی کہ بیدار ہو جب بھی ۳؎(ترمذی)
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَأْخُذُ مَضْجَعَهٗ بِقِرَاءَةِ سُورَةٍ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ إِلَّا وَكَّلَ اللّٰهُ بِهٖ مَلَكًا فَلَا يَقْرَبُهٗ شَيْءٌ يُؤْذِيهِ حَتّٰى يَهُبَّ مَتٰى هَبَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2405 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دو خصلتیں ایسی ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار نہیں کرتا مگر جنت میں ضرور جائے گا ۱؎وہ ہیں تو آسان مگر ان پر عامل تھوڑے ہیں۲؎ہر نماز کے بعد دس بار اللّٰه کی تسبیح کہے،دس بار اس کی حمد کرے،دس بار تکبیر کہے ۳؎راوی فرماتے ہیں پھر میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے عقد انامل فرما کر فرمایا کہ یہ زبان میں تو ڈیڑھ سو ہیں ۴؎مگر میزان یعنی ترازو میں ڈیڑھ ہزار ہوں گے ۵؎اور جب اپنا بستر لے تو سو بار تسبیح تکبیر اور حمد کرے ۶؎تو یہ زبان میں ایک سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار۷؎بتاؤ تو تم میں سے کون ہے جو ایک دن و رات میں ڈھائی ہزار گناہ کرے۸؎لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ان کلمات کی کیوں نہ پابندی کریں گے ۹؎فرمایا جب کوئی نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس پہنچ کر کہتا ہے فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو حتی کہ نمازی کو باز رکھ دیتا ہے تو شاید وہ یہ عمل نہ کرسکے ۱۰؎اور شیطان اس کے خوابگاہ پر پہنچ کر اسے سلاتا رہتا ہے حتی کہ وہ سوجاتا ہے ۱۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جن کی کوئی بندہ مسلمان حفاظت نہیں کرتا۱۲؎الخ اسی طرح ابوداؤد کی روایت میں اس کلام کے بعد کہ میزان میں ڈیڑھ ہزار میں یہ ہے کہ فرمایا ۳۴ بار تکبیر کہے جب اپنا بستر لے اور ۳۳ بارالحمدللّٰہپڑھے اور ۳۳ بارسُبْحَانَ اللّٰهِکہے ۱۳؎اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں عبداللّٰه بن عمر سے روایت ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ يُسَبِّحُ اللّٰه فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُهٗ عَشْرًا وَيُكبِّرهُ عَشْراً» قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهٖ قَالَ: «فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَان وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ وَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ يُسَبِّحُهٗ وَيُكَبِّرُهٗ وَيَحْمَدُهٗ مِائَةً فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صِلَاتِهٖ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتّٰى يَنْفَتِلَ فَلَعَلَّهٗ أَنْ لَا يَفْعَلَ وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهٖ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهٗ حَتّٰى يَنَامَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «خَصْلَتَانِ أَوْ خلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ» . وَكَذَا فِي رِوَايَتِهٖ بَعْدَ قَوْلِهٖ : «وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ» قَالَ: «وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ» وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ".وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ "الْمَصَابِيحِ" عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عُمَرَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2406 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن غنام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو صبح کے وقت یہ پڑھے الٰہی تیری جو نعمت مجھے یا تیری کسی مخلوق کو ملی وہ صرف تیرے اکیلے کی طرف سے ہے ۱؎تیرا کوئی شریک نہیں لہذا تیری ہی حمد ہے اور تیرا ہی شکر۲؎تو اس نے آج کے دن کا شکریہ ادا کردیا۳؎اور جو اسی طرح شام کے وقت کہہ لے تو اس نے اس رات کا شکریہ ادا کر دیا ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ غَنَّامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " من قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اَللّٰهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهٖ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَلَيْلَتِهٖ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2407 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ حضور جب اپنے بستر پر جاتے تو عرض فرماتے ۱؎اے اللّٰه اے آسمانوں کے رب اے زمین کے رب اے ہر چیز کے رب ۲؎اے دانہ اور گٹھلی کو پھاڑ نکالنے والے ۳؎اے توریت انجیل اور قرآن کو اتار نے والے ۴؎میں ہر اس کی شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیری گرفت میں ہے ۵؎تو ہی اول ہے کہ تجھ سے پہلے کچھ نہیں اور تو ہی آخر ہے کہ تیر ے پیچھے کچھ نہیں ۶؎تو ہی ظاہر ہے کہ تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی چھپا ہے کہ تیرے پیچھے کچھ نہیں ۷؎میرا قرض ادا کردے اور مجھے فقیری سے غنا بخش ۸؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)اسے مسلم نے کچھ تھوڑے فرق کے ساتھ روایت کیا۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوٰى إِلٰى فِرَاشِهٖ: «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرآنِ، وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهٖ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَاغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مَعَ اخْتِلَافٍ يَسِيرٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2408 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت ابو ازہر انماری سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب رات کو اپنی خوابگاہ قبول فرماتے ۱؎تو کہتے اللّٰه کے نام پر اللّٰه کے لیے میں نے اپنی کروٹ رکھ دی ۲؎الٰہی میرے گناہ بخش دے اور میرے شیطان کو دور فرمادے میرا رہن چھوڑا دے ۳؎اور مجھے اعلٰی مجلس میں داخل فرما ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الأَزْهَرِ الأَنْمَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «بِسْمِ اللّٰهِ وَضَعْتُ جَنْبِي لِلّٰهِ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَاخْسَأْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2409 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب رات کو بستر اختیار فرماتے تو فرماتے شکر ہے اس اللّٰه کا جو میرے لیے کافی ہوا اور جس نے مجھے کھلایا اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان پھر فضل کیا ۱؎اور جس نے مجھے دیا تو بہت زیادہ دیا۲؎ہر حال میں اللّٰه کا شکر ہے ۳؎اے اللّٰه ہر چیز کے رب اور بادشاہ اے ہر چیز کے معبود میں آگ سے تیری پناہ لیتا ہوں ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ اَللّٰهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهٗ وَإِلٰهَ كُلِّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2410 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ خالد ابن ولید نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں شکایت کی عرض کیا یارسولاللّٰهمیں بے خوابی کے باعث رات کو سوتا نہیں ۱؎تب نبی کر یم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یوں کہو اے اللّٰه اسے سات آسمانوں کے اور جن پر یہ آسمان سایہ فگن ہیں ان کے رب اور زمینوں کے اور جنہیں زمین اٹھائے ہے ان کے رب۲؎اور اے شیطانوں کے اور جنہیں وہ گمراہ کریں ان کے رب ۳؎تو اپنی ساری مخلوق کی شر سے میری پناہ ہو جا کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی یا ظلم کرے ۴؎تیری پناہ غالب ہے،تیری ثنا شاندار ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں صرف تو ہی معبود ہے ۵؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد قوی نہیں اور حکیم ابن ظہیر راوی کی حدیث کو بعض محدثین نے چھوڑ دیا ہے ۶؎
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَا أَنامُ اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ فَقَالَ نَبِيُّ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَوَيْتَ إِلٰى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالقَوِيِّ وَالْحَكِيمُ بْنُ ظُهَيْرٍ الرَّاوِي قَدْ تَرَكَ حَدِيثَهٗ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2411 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت ابو مالک سے ۱؎کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سویرا پالے تو کہہ لے ہم نے صبح کی اور اللّٰه رب العلمین کے ملک نے صبح پائی۲؎اے اللّٰه میں تجھ سے اس دن کی بھلائی اس کی کشادگی اس کا نور اس کی برکت اور اس کی ہدایت مانگتاہوں ۳؎اور جو اس دن میں ہے اس کی اور اس کے بعد کی شر سے پناہ مانگتا ہوں ۴؎پھر جب شام پائے تو اس طرح کہہ لے ۵؎(ابوداؤد)
وَعَن أَبِي مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هٰذَا الْيَوْمِ فَتْحَهٗ وَنَصْرَهٗ وَنُورَهٗ وَبِرْكَتَهٗ وَهُدَاهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَمِنْ شَرِّ مَا بَعْدَهٗ ثُمَّ إِذَا أَمْسٰى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذٰلِكَ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2412 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابوبکرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے عرض کیا ابا جان میں آپ کو ہر صبح یہ کہتے سنتا ہوں۲؎الٰہی مجھے میرے بدن میں عافیت دے،الٰہی مجھے میر ے کانوں میں عافیت دے،الٰہی مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے۳؎تیرے سوا کوئی معبود نہیں اسے تین بار مکرر کرتے جب سویرا ہوتا اور تین بار جب شام ہوتی ۴؎فرمایا اے بیٹے میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ دعائیں مانگتے سنا تو میں بھی چاہتا ہوں کہ اس سنت کی پیروی کرو ں۵؎(ابوداؤد)
وَعَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ أَسْمَعُكَ تَقُولُ كُلَّ غَدَاةٍ: «اَللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي اَللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي اَللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» تُكَرِّرُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي فَقَالَ: يَا بُنَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2413 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو یوں کہتے ہم نے اور اللّٰه کے ملک نے سویرا پالیا اللّٰه کی ہی حمد اور بڑائی ہے اور عظمت اللّٰه کے لیے ہے ۱؎اور خلق،حکم اور رات دن اور جو ان میں رہیں سب اللّٰه کے لیے ہیں۲؎الٰہی اس دن کا اول درستی بنا اور درمیان کو کامیابی اور آخر کو چھٹکارا بنا اے تمام رحم والوں سے بڑے ۳؎اسے امام نووی نےکتاب الاذکارمیں ابن سنی کی روایت سے بیان کیا۔
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَالْكِبْرِيَاءُ وَالْعَظَمَةُ لِلّٰهِ وَالْخَلْقُ وَالْأَمْرُ وَاللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلّٰهِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هٰذَا النَّهَارِ صَلَاحًا وَأَوْسَطَهٗ نَجَاحًا وَآخِرَهٗ فَلَاحًا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» . ذَكَرَهٗ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السِّنِّيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2414 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابزی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو کہتے ہم نے اللّٰہ کے دین پر اور اخلاص کے کلمے پر ۱؎ اور محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے دین پر۲؎ اور اپنے والد حضرت ابراہیم کی ملت پر سویرا پایا حضرت ابراہیم ہر برائی س∞روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابزی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو کہتے ہم نے اللّٰہ کے دین پر اور اخلاص کے کلمے پر ۱؎اور محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے دین پر۲؎اور اپنے والد حضرت ابراہیم کی ملت پر سویرا پایا حضرت ابراہیم ہر برائی سے دورتھے مشرکوں سے نہ تھے ۳؎(دارمی)ے دورتھے مشرکوں سے نہ تھے ۳؎ (دارمی)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: «أَصْبَحْنَا عَلٰى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَعَلٰى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ عَلٰى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2415 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے
- 1
- 2