باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت عبداللّٰه بن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب شام پاتے تو فرماتے ہم نے شام پائی اور اللّٰه کے ملک نے شام پائی سب تعریفیں اللّٰه کو ہیں ۱؎اس اکیلے کے سواء کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اس کا ملک ہے،اس کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۲؎الٰہی میں تجھ سے اس رات کی اور جو اس رات میں ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس رات کی اور جو اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ لیتا ہوں۳؎خدایا میں سستی،بڑھاپے اور زیادتی عمر کی برائیوں سے۴؎اور دنیا کے فتنوں سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ لیتا ہوں ۵؎اور جب سویرا پاتے تو ساتھ یہ بھی کہتے ہم نے سویرا پایا اور اللّٰہ کے ملک نے سویرا پایا ۶؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ یارب میں آگ میں عذاب اورقبر میں عذاب سے تیری پناہ لیتا ہوں۷؎(مسلم)

عَن عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسٰى قَالَ: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسٰى الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هٰذِهٖ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ»وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّار وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2381 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب رات میں اپنا بستر لیتے تو اپنا ہاتھ ر خسار کے نیچے رکھتے ۱؎پھر کہتے الٰہی میں تیرے نام پر مروں گا اور جیوں گا ۲؎اور جب بیدار ہوتے تو کہتے شکر ہے اس اللّٰه کا جس نے ہمیں مر جانے کے بعد زندہ کیا اسی کی طرف اٹھنا ہے ۳؎(بخاری)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهٗ تَحْتَ خَدِّهٖ ثُمَّ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» . وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: « الْحَمْدُ للّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2382 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

اور مسلم نے حضرت براء سے۔

وَ مُسْلِمٌ عَنِ الْبَرَاءِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2383 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر جائے تو اپنے تہبند کے داخلی پلو سے بستر جھاڑ دے ۱؎اسے کیا خبر کہ بستر پر کیا چیز پڑی ہے۲؎پھر کہے یارب میں تیرے نام پر اپنا پہلو رکھ رہا ہوں ۳؎اور تیرے نام پر ہی اٹھاؤں گا۴؎اگر آج میری جان تو قبض کرے تو اس پر رحم فرمانا ۵؎اور اگر واپس بھیجے تو اس کی اس ہی سے حفاظت فرمانا جس سے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۶؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر اپنے داہنی کروٹ پر لیٹ جائے پھر کہےبِاسْمِكَ،الخ(مسلم،بخاری)۷؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر اپنے کپڑے کے پلو سے بستر تین بار جھاڑے ۸؎اور یوں کہے کہ اگر تو میری جان قبض فرمالے تو اسے بخش دیجیو۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَوٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى فِرَاشِهٖ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهٗ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهٖ فَإِنَّهٗ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهٗ عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهٗ ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَابِمَا تَحْفَظُ بِهٖ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ". وَفِي رِوَايَةٍ:"ثُمَّ لْيَضْطَجِعْ عَلٰى شِقِّهٖ الأَ يْمَنِ ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِك"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ:«فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2384 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب اپنے بستر پر جاتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹتے پھر یوں کہتے الٰہی میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا ۱؎اور اپنا کام تیرے سپرد کیا تیرے کرم پر ٹیک لگائی تیری طرف رغبت کرتے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ۲؎تجھ سے نہ کہیں پناہ ہے نہ رہائی سواء تیری طرف کے ۳؎میں تیری اتاری کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے رسول پر ایمان لایا ۴؎فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو یہ کلمات کہہ لے پھر اسی رات مرجائے تو ایمان پر مرے گا ۵؎اور ایک روایت میں ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ اے فلاں جب تو اپنے بستر پر جائے تو نماز کا سا وضو کرے ۶؎پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے پھر کہے الٰہی میں نے اپنے کو تیرے سپرد کیا،آخر کلامارسلتتک۷؎اور فرمایا کہ اگر تم اسی رات میں مر گئے تم اسلام پر مرو گے اور اگر تم صبح پاؤ گے تو بہت بھلائی حاصل کرو گے۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوٰى إِلٰى فِرَاشِهٖ نَامَ عَلٰى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» . وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَهُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَيْلَتِهٖ مَاتَ عَلَى الفِطْرَةِ»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلٰى فِرَاشِكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قُلِ: اَللّٰهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ إِلٰى قَوْلِهٖ : أَرْسَلْتَ " وَقَالَ: «فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَى الفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2385 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب اپنے بستر پر جاتے تو فرماتے خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا بچایا اور ہمیں پناہ دی ۱؎کیونکہ بہت وہ ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے نہ پناہ دینے والا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوٰى إِلٰى فِرَاشِهٖ قَالَ: « اَلْحَمْدُ للّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهٗ وَلَا مُؤْوِيَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2386 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت علی سے کہ جناب فاطمہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس تکلیف کی شکایت کرنے جوان کے ہاتھ کو چکی سے پہنچتی تھی ۱؎انہیں جب خبر لگی تھی کہ حضور کے پاس غلا م آئے ہیں انہوں نے حضور کو نہ پایا تو حضرت عائشہ سے کہہ آئیں ۲؎جب حضور تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے یہ قصہ عرض کیا۳؎فرماتے ہیں کہ حضور ہمارے پاس تشریف لائے جب کہ ہم بستر پکڑ چکے تھے تو ہم اٹھنے لگے تو فرمایا اپنی جگہ رہو تشریف لائے میرے اور فاطمہ زہرا کے درمیان بیٹھ گئے حتی کہ میں نے حضور کے قدم کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی ۴؎فرمایا میں تمہیں تمہارے سوال سے بہتر چیزنہ بتادوں۵؎جب تم اپنے بستر لو تو ۳۳ بارسُبْحَانَ اللّٰهِپڑھ لو اور ۳۳ بارالحمداللّٰہاور۳۴ باراللّٰهاکبر یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى وَبَلَغَهَا أَنَّهٗ جَاءَهٗ رَقِيقٌ فَلَمْ تُصَادِفْهُ فَذَكَرَتْ ذٰلِكَ لِعَائِشَةَ فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ: عَلٰى مَكَانِكُمَا فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهٖ عَلٰى بَطْنِي فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلٰى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2387 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہراء نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں خادم مانگنے آئیں ۱؎تو فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دو جو خادم سے بہتر ہے ۳۳ بارسُبْحَانَ اللّٰهِپڑھا کرو اور ۳۳ بارالحمداللّٰہاور ۳۴ باراللّٰهاکبر ہر نماز کے وقت اور سوتے وقت پڑھ لیا کرو۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهٗ خَادِمًا فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكِ عَلٰى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ خَادِمٍ؟ تُسَبِّحِينَ اللّٰه ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ اللّٰه ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرِينَ اللّٰه أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَعِنْدَ مَنَامِكِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2388 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو کہتے الٰہی ہم نے تیری مہربانی سے صبح پائی اور تیری مہربانی سے ہی شام کریں گے اور تیری مہربانی سے جئیں گے اور تیرے فضل سے مریں گے ۱؎اور تیری ہی طرف رجوع ہے اور جب شام پاتے تو کہتے الٰہی تیرے فضل سے ہم نے شام پالی اور تیرے فضل سے ہی صبح کریں گے اور تیری مہربانی سے جئیں مریں گے تیری ہی طرف اٹھنا ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» . وَإِذَا أَمْسٰى قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2389 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت ابوبکر نے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں صبح شام کے وقت پڑھ لیا کروں ۱؎فرمایا یوں کہا کرو اے اللّٰه اے کھلی،چھپی چیزوں کے جاننے والے،اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے،اے ہر چیز کے رب و مالک۲؎میں گواہی دیتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں اپنے نفس کی شرارت اور شیطان کی شرارت اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۳؎جب صبح پاؤ جب شام پاؤ جب اپنے بستر پر لیٹو یہ پڑھ لیا کرو۔ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)

وَعنهُ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهٗ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ قَالَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهٗ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهٖ قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2390 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ابان ابن عثمان سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا ایسا کوئی بندہ نہیں جو ہر دن صبح شام اور ہر رات تین بار یہ کہہ لیا کرے میں نے اس کے نام سے صبح و شام کی جس کے نام کی برکت سے نہ زمین کی کوئی چیز نقصان دے نہ آسمان کی اور وہ سنتا جانتا ہےپھر اسے کوئی چیز نقصان بھی دے دے۲؎حضرت ابان کو کچھ فالج ہوگیا تو ایک شخص انہیں غور سے دیکھنے لگا۳؎آپ نے اس سے فرمایا کہ تو مجھے کیا دیکھتا ہےحدیث ویسی ہے جیسی میں نے تجھے سنائی لیکن اس دن میں یہ دعا نہ پڑھ سکا کہ اللّٰه مجھ پر اپنی قضا قدر نافذ کردے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ،ابواؤد)ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ اسے صبح بلاء ناگہانی نہ پہنچے گی اور جو صبح کو یہ پڑھے تو اسے شام تک آفت ناگہانی نہ پہنچے گی ۵؎

وَعَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهٖ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهٗ شَيْءٌ» . فَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهٗ طَرَفُ فَالَجٍ فَجَعَلَ الرَّجُلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهٗ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا حَدَّثْتُكَ وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللّٰه عَلَيَّ قَدَرَهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَبُوْ دَاوُدَ وَفِي رِوَايَتِهٖ: «لَمْ تُصِبْهُ فَجَاءَةُ بَلَاءٍ حَتّٰى يُصْبِحَ وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ تُصِبْهُ فَجَاءَةُ بَلَاءٍ حَتّٰى يُمْسِيَ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2391 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ۱؎سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم شام کے وقت یہ پڑھتے تھے ہم نے اور اللّٰه کے سارے ملک نے شام پالی۲؎اللّٰه کا شکر ہے،اکیلے اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اس کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے ۳؎اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔الٰہی میں تجھ سے اس رات کی بھلائی،اس کے بعد کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس رات کی شر اور اس کے بعد کی شر سے پناہ مانگتا ہوں ۴؎یارب میں سستی اور بڑھاپے برے ۵؎یا کفر سے اور ایک روایت ہے کہ برے بڑھاپے اور تکبر سے تیر ی پناہ مانگتا ہوں ۶؎یارب میں آگ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتاہوں ۷؎اور جب سویرا پاتے تو بھی کہتے کہ ہم نے اور اللّٰه کے سارے ملک نے صبح پالی۔(ابوداؤد،ترمذی)اور ایک روایت میں کفر کی ہر بر ائی کا ذکر نہ فرمایا۔

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمْسٰى: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسٰى الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هٰذِهٖ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هٰذِهٖ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ أَوِ الْكُفْرِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ وَالْكِبْرِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» . وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذٰلِكَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَتِهٖ لَمْ يَذْكُرْ: "مِنْ سُوءِ الْكُفْرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2392 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بعض صاحبزادیوں سے ۱؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم انہیں سکھاتے تھے کہ فرماتے تھے صبح کے وقت یہ کہہ لیا کرو اللّٰه پاک ہے اسی کا شکر ہے اللّٰه کے بغیر قوت نہیں جو اللّٰه نے چاہا ہوا اور جو نہ چاہا نہ ہوا ۲؎میں جانتا ہوں کہ اللّٰه ہر چیز پر قادر ہے اور اللّٰه کا علم ہر چیز کو گھیرے ہے جوصبح کے وقت یہ کہہ لے گا تو شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی اور جو شام کے وقت یہ کہے گا تو صبح تک اس کی حفاظت ہوگی ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ بَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلّٰى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ: " قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ مَا شَاءَ اللّٰه كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهٗ مَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ حَتّٰى يُمْسِيَ وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ حَتّٰى يُصْبِحَ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2393 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو صبح کے وقت کہہ دے کہ اللّٰه کی پاکی ہے شام و سویرا پاتے وقت اس کی حمد ہو رہی ہے آسمانوں اور زمین میں اور عصر اور ظہر کو بھی تسبیح پڑھو،الخ ۱؎کذلك تخرجونتک۔تو اس دن میں جو نیکی چھوٹ گئی ہو اسے پالے گا اور جو شام کے وقت یہ پڑھ لے گا تواس رات میں چھوٹی نیکیاں پائے گا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: {فَسُبْحَانَ اللّٰهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ} إِلٰى قَوْلِهٖ {وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُونَ}، أَدْرَكَ مَا فَاتَهٗ فِي يَوْمِهٖ ذٰلِكَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي أَدْرَكَ مَا فَاتَهٗ فِي لَيْلَتِهٖ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2394 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ابو عیاش سے ۱؎کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کہہ لیا کرے کہ اکیلے اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں اس کاکوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے،اسی کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اسے اولاد اسمعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے۲؎اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس گناہ معاف ہوں گے اوراس کے دس درجے بلند ہوں گے ۳؎اور اس کے لیے شام تک شیطان سے حفاظت ہوگی ۴؎اور اگریہ کلمات شام کے وقت کہہ لے تو صبح تک اسے یہ ہی ملے گا،ایک شخص نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو خواب میں دیکھا ۵؎عرض کیا یارسول اللّٰه ابو عیاش آپ سے ایسی ایسی حدیث روایت کرتے ہیں،فرمایا ابو عیاش سچے ہیں ۶؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)۷؎

وَعَنْ أَبِي عَيَّاشٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَانَ لَهٗ عَدْلُ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ وَكُتِبَ لَهٗ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتّٰى يُمْسِيَ وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسٰى كَانَ لَهٗ مِثْلُ ذٰلِكَ حَتّٰى يُصبحَ فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يُحَدِّثُ عَنْكَ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ: «صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2395 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت حارث بن مسلم تمیمی سے وہ اپنے والد سے وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے خبر دی کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں خفیۃً ۱؎فرمایا کہ جب تم نماز مغرب سے فارغ ہو تو کسی سے کلام کرنے سے پہلے سات بار یہ پڑھ لو الٰہی مجھے آگ سے بچالے۲؎جب تم یہ کہہ لو گے پھر اگر تم اس رات مرجاؤ گے تو تمہیں آگ سے گزر لکھی جائے گی اور جب تم فجر پڑھو تو یہ ہی کہہ لو پھر اگر تم اس دن فوت ہوجاؤ تو تمہارے لیے آگ سے گزر جانا لکھا جائے گا ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ أَسَرَّ إِلَيْهِ فَقَالَ: «إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا اَللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذٰلِكَ ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جَوَازٌ مِنْهَا وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ كَذٰلِكَ، فَإِنَّكَ إِذَا مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جَوَازٌ مِنْهَا » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2396 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرمایا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم صبح و شام کے وقت یہ کلمات پڑھنا کبھی نہ چھوڑتے تھے ۱؎الٰہی میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں دنیاو آخرت کی ۲؎الٰہی میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور گھر بار و مال میں معافی اور عافیت مانگتا ہوں ۳؎الٰہی میرے عیبوں کو چھپالے اور مجھے خوفوں سے امن دے ۴؎الٰہی مجھے آگے پیچھے اور دائیں بائیں اور اوپر سے محفوظ رکھ ۵؎میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس لیے کہ نیچے سے ہلاک کیا جاؤں یعنی زمین میں دھنسا کر ۶؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي". يَعْنِي الْخَسْفَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2397 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو صبح کے وقت یہ کہہ لے الٰہی ہم نے سویرا پالیا ۱؎ہم تجھے اور تیرا عرش اٹھانے والوں اور دیگر فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتے ہیں ۲؎کہ تو اللّٰه ہے،تجھ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں،تیرا کوئی ساجھی نہیں اور یہ کہ محمد تیرے بندہ اور تیرے رسول ہیں مگر اللّٰه اس کے اس دن کے سارے گناہ معاف کردے گا اور اگر یہ کلمات شام کے وقت کہہ لے گا تو اللّٰه اس رات کے اس کے سارے گناہ معاف کردے گا۔۳؎(ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اَللّٰهُمَّ أَصْبَحْنَا نُشْهِدُكَ وَنُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللّٰه لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ إِلَّا غَفَرَ اللّٰهُ لَهُمَا أَصَابَهٗ فِي يَوْمِهٖ ذٰلِكَ مِنْ ذَنْبٍ وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي غَفَرَ اللهٗ لَهُمَا أَصَابَهٗ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِنْ ذَنْبٍ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2398 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ ایسا کوئی بندہ مسلمان نہیں جو شام اور صبح تین بار یہ کہہ لیا کرے میں اللّٰه کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفٰے صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے نبی ہونے سے راضی ہوا ۱؎مگر اللّٰه کے ذمہ کرم ہوگا کہ قیامت میں اسے راضی فرمالے ۲؎(احمد،ترمذی)

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَمْسٰى وَإِذَا أَصْبَحَ ثَلَاثًا رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا وَبِالإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُرْضِيَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2399 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے

روایت ہے حضرت حذیفہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سونا چاہتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے ۱؎پھر فرماتے الٰہی مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے یا اپنے بندوں کو اٹھائے ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهٗ تَحْتَ رَأْسِهٖ ثُمَّ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2400 ، باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے