- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت قبیصہ ابن مخارق سے فرماتے ہیں کہ میں ایک قرض کا ضامن بن گیا تھا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے لیے کچھ مانگنے کو حاضر ہوا ۲؎ تو حضور نے فرمایا ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے تو ہم اس کا تمہارے لیے حکم دے دیں گے۳؎ پھر فرمایا اے قبیصہ تین شخصوں کے سواء کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جوکسی قرض کا ضامن ہوگیا ہو اسے مانگنا جائز ہے حتی کہ بقدر قرض پالے پھر باز رہے ۴؎ ایک وہ جس پر آفت آجائے جو اس کا مال برباد کردے اسے مانگنا حلال ہے ۵؎ حتی کہ زندگانی کا قیام پائے یا فرمایا کہ زندگی کی درستی پائے ۶؎ اور ایک وہ جسے فاقہ پہنچ جائے حتی کہ اس کی قوم کے تین عقل والے اٹھ کر کہہ دیں کہ فلاں فاقہ کو پہنچا ہے تو اسے مانگنا حلال ہے ۷؎ حتی کہ زندگی کا قیام یا زندگی کی درستی پائے،اے قبیصہ ان کے سواء مانگنا حرام ہے کہ مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۸؎(مسلم)
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: "أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأمُرَ لَكَ بِهَا". ثُمَّ قَالَ: "يَا قَبِيصَةُ! إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيْبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ. أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِن ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ, لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ -أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-، فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحُتًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1837 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتكْثِرَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1838 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتی کہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں گوشت کا پارہ نہ ہوگا ۱؎ (مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ" متَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1839 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مانگنے میں زاری(ضد)نہ کرو ۱؎ اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا تم میں سے کوئی مجھ سے کچھ مانگے اسکا مانگنا مجھ سے کچھ نکلوائے حالانکہ میں ناخوش ہوں تو اسے میرے عطیہ میں برکت دی جائے ۲؎ (مسلم)
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فوَاللّٰهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1840 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت زبیر ابن عوام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنی رسی لے پھر اپنی پیٹھ پرلکڑیوں کا گٹھا لادے اسے بیچے جس سے اللہ اس کی عزت بچائے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگے لوگ اسے دیں یا نہ دیں ۱؎ (بخاری)
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1841 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا حضور نے دیا میں نے پھر مانگا حضور نے مجھے اور دیا۲؎ پھر مجھ سے فرمایا اے حکیم یہ مال خوش نما خوش ذائقہ ہے۳؎ جو اسے دلی لاپرواہی سے لے گا اسے اس مال میں برکت ہوگی اور جو اسے نفسانی طمع سے لے گا اسے برکت نہ ہوگی۴؎ اور وہ اس کی طرح ہوگا جو کھائے اور سیر نہ ہو۵؎ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۶؎ حضرت حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا کہ میں آپ کے سوا کسی سے کچھ نہ مانگوں گا حتی کہ دنیا چھوڑ دوں ۷؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ حَكِيم بْنِ حِزَامٍ قَالَ: سَأَلَتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأْلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثمَّ قَالَ لِي: "يَا حَكِيمُ! إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُوْرِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ. وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى". قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1842 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا جب کہ آپ صدقہ کا اور مانگنے سے باز رہنے کا ذکر فرمارہے تھے ۱؎ کہ اونچا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے،اونچا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچا ہاتھ مانگنے والا ۲؎ (مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسَأَلَةِ: "الْيَدُ الْعُلْيَا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1843 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ کچھ انصاری لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا ۱؎ حضور نے انہیں دیا پھر مانگا حضور نے پھر دیا حتی کہ جو آپ کے پاس تھا ختم ہوگیا ۲؎ پھر فرمایا جو کچھ مال میرے پاس ہوگا وہ تم سے ہرگز بچا نہ رکھوں گا۳؎ جو سوال سے بچنا چاہے اللہ اسے بچائے گا اور جو غنا چاہے گا اللہ اسے غنا دے گا اور جو صبر چاہے گا اللہ اسے صبر دے گا ۴؎ اورکسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: إِنَّ أُناسًا مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: "مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1844 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دینا چاہتے تو میں عرض کرتا کہ یہ مجھ سے زیادہ حاجت مندکو عطا فرمائیے ۱؎ تو آپ فرماتے یہ لے لو اسے مال بنا لو اس کو صدقہ کرو تمہیں جو مال بغیر طمع اور بغیر مانگے ملے اسے لے لیا کرو اور جو نہ ملے اس کے پیچھے اپنے کو نہ لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي. فَقَالَ: "خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، ومَا لَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1845 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سوال کھرونچے ہیں جن سے آدمی اپنا منہ کھرچتا ہے تو جو چاہے اپنے منہ پر یہ کھرونچے رکھے اور جو چاہے اس سے بچے ۲؎ مگر یہ کہ آدمی حکومت والے سے کچھ مانگے یا ایسی چیز کہ اس کے بغیر چارہ نہ پائے ۳؎ (ابوداؤد، ترمذی،نسائی)
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ،فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلِى وَجْهِهِ، وَمَن شَاءَ تَرَكَهُ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنهُ بُدًّا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1846 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو لوگوں سے مانگے حالانکہ اس کے پاس بقدر دفع حاجت ہے ۱؎ تو قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے سوال اس کے چہرے میں کھروچن یا خارش یا زخم ہوں گے۲؎ عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدر غنا کیا ہے فرمایا پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا ۳؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "من سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ, جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: "خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1847 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مانگے حالانکہ اس کے پاس بقدرغنا ہو تو وہ آگ بڑھاتا ہے ۱؎ نفیلی نے فرمایا جو دوسری جگہ اس حدیث کے ایک راوی ہیں ۲؎ وہ غنا کیا ہے جس کے ہوتے سوال مناسب نہیں فرمایا اس قدر کہ صبح شام کھائے اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کے پاس ایک دن یا ایک دن و رات کی سیری ہو۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ". قَالَ النُّفَيْلِيُّ -وَهُوَ أَحَدُ رُوَاتِهِ- فِي مَوْضع آخَرَ: وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا يَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟قَالَ: "قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ". وَقَالَ فِي مَوْضعٍ آخَرَ: "أَنْ يَكُونَ لَهُ شَبَعُ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1848 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت عطاءابن یسار سے وہ بنی اسد کے ایک شخص سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جو مانگے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر ہوں تو وہ زاری سے مانگتا ہے ۲؎(مالک ، ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1849 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت حبشی ابن جنادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو غنی کو سوال جائز ہے نہ درست اعضاء والے کو مگر زمین سے ملے ہوئے فقیر یا رسوائی والے مقروض کو ۲؎ اور جو لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگے تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے کے کھرونچے ہوں گے اور دوزخ کے انگارے جسے وہ کھائے گا اب جو چاہے وہ کم کرے جو چاہے بڑھائے ۳؎ (ترمذی)
وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيِّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ،فَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1850 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مانگنے کے لیے آیا ۱؎ آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے گھر میں کچھ نہیں ۲؎ عرض کیا ہاں ایک ٹاٹ ہے جو ہم کچھ بچھالیتے ہیں کچھ اوڑھ لیتے ہیں ۳؎ اور ایک پیالہ جس میں پانی پیتے ہیں اور فرمایا وہ دونوں ہمارے پاس لے آؤ وہ یہ دونوں چیزیں حاضر لائے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا یہ کون خریدتا ہے ۴؎ ایک شخص نے کہا ایک درہم میں مَیں لیتا ہوں آپ نے دو یا تین بار فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے ۵؎ ا یک صاحب بولے کہ میں دو درہم میں لیتا ہوں آپ نے فرمایا یہ دونوں چیزیں انہیں دے دو ۶؎ اور دو درہم ان انصاری کو دیئے اور فرمایا ان میں سے ایک کا غلہ خریدکر اپنے گھر میں ڈال دے اور دوسرے کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لا ۷؎ وہ حضور کے پاس کلہاڑی لائے حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے اس میں دستہ ڈالا۸؎ پھر فرمایا جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور اب میں تمہیں پندرہ دن نہ دیکھوں۹؎ پھر وہ صاحب لکڑیاں کاٹتے اور بیچتے رہے پھرحاضرہوئے اور دس درہم کما چکے تھے اس نے کچھ درہموں سے کپڑا اور کچھ سے غلہ خریدا ۱۰؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ اس سے بہتر ہے کہ سوالات قیامت کے دن تمہارے منہ میں داغ بن کر آئیں ۱۱؎ تین شخصوں کے سواء کسی کو سوال جائز نہیں کمر توڑ فقیری یا رسوا کن قرض یا تکلیف دہ خون سے ۱۲؎(ابوداؤد)اور ابن ماجہ نے یوم القیامت تک روایت کی۔
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: "أَمَا فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ؟ " فَقَالَ: بَلَى، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ، وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ، وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَ: "ائْتِنِي بِهِمَا" قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمَا، فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِيَدِهِ، وَقَالَ: "مَنْ يَشْتَرِيْ هَذَيْنِ؟ " قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمِ، قَالَ: "مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ، فَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ، وَقَالَ: "اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا، فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ، وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا، فَائْتِنِي بِهِ"،فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عُودًا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: "اذْهَبْ، فَاحْتَطِبْ، وَبِعْ, وَلَا أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا" فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ، فَجَاءَهُ، وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْلِهِ: "يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1851 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے فاقہ پہنچے وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو اس کا فاقہ بند نہ ہوگا ۱؎ اور جو اسے اللہ پر پیش کرے اسے بہت جلد غنی کر دے گا یا فوری موت سے یا آئندہ غنا سے۲؎ (ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّه أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى، إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى آجِلٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1852 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے ابن فراسی ۱؎ سے کہ فراسی فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ میں مانگ سکتا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور اگر مانگنا پڑ جائے تو نیکیوں سے مانگو ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)
عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا، وَإِنْ كنْتَ لَا بُدَّ فَسَلِ الصَّالِحِينَ" رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1853 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت ابن ساعدی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر نے صدقہ پر عامل بنایا۲؎ جب میں اس سے فارغ ہوا اور صدقہ آپ کی خدمت میں ادا کردیا تو مجھے اجرت کا حکم دیا میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ کے لیے کام کیا ہے میری اجرت اللہ پر ہے ۳؎ فرمایا جو تمہیں دیا جائے وہ لے لو میں نے بھی زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ عمل کیا تھا مجھے حضور انور نے اجرت دی تھی تو میں نے بھی تمہارے جیسی عرض کی تھی تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو کچھ تمہیں بغیر مانگے ملے وہ کھالو اور صدقہ کرو ۴؎ (ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، وَأجْرِي عَلَى اللّٰهِ، فَقَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ، فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أُعْطِيْتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَہ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1854 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ نے عرفہ کے دن ایک شخص کو سنا کہ لوگوں سے مانگتا ہے تو فرمایا کہ کیا اس دن میں اور اس جگہ غیر خدا سے مانگتا ہے آپ نے اسے کوڑے لگائے ۱؎ (رزین)
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ يَوْمَ عَرَفَةَ رَجُلًا يَسْأَلُ النَّاسَ فَقَالَ: أَفِي هَذَا الْيَوْمِ؟ وَفِي هَذَا الْمَكَانِ تَسْأَلُ مِنْ غَيْرِ اللّٰهِ؟ فَخَفَقَهُ بِالدِّرَّةِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1855 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
روایت ہے حضرت عمر سے کہ آپ نے فرمایا اے لوگو یقین رکھو کہ طمع فقیری ہے اور نا امیدی غنا ہے اور انسان جب کسی چیز سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس سے لاپرواہ ہو جاتاہے ۱؎ (رزین)
وَعَن عُمَرُ قَالَ: تَعْلَمُنَّ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ الطَّمَعَ فَقْرٌ، وَأَنَّ الإِيَاسَ غِنًى، وَأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا يَئِسَ عَن شَيْءٍ اسْتَغنَى عَنْهُ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1856 ، باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے
- 1
- 2