باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جبنے مخلوق پیدا فرمانے کا فیصلہ کیا ۱؎تو ایک تحریر لکھی جو رب کے پاس عرش کے اوپر ہے ۲؎کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے اور ایک روایت میںغلبتہے ۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَمَّا قَضَى اللّٰهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا، فَهُوَ عِنْدَهٗ فَوْقَ عَرْشِهٖ: إِنَّ رَحْمَتِيْ سَبَقَتْ غَضَبِيْ". وَفِي رِوَايَةٍ: "غَلَبَتْ غَضَبِيْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2364 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ کی سو رحمتیں ہیں ۱؎جن میں سے ایک رحمت جن انسان،جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اتاری جس سے یہ آپس میں ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم کرتے ہیں ۲؎اس رحمت سے وحشی جانور اپنے بچے پر مہربان ہوتے ہیں ۳؎اور ننانوے رحمتیں محفوظ رکھ چھوڑی ہیں جن سے اللہ تعالٰی قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۴؎مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ للَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُوْنَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُوْنَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلٰى وَلَدِهَا، وَأَخَّرَ اللّٰهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2365 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

اور مسلم کی روایت میں حضرت سلمان سے اسی کی مثل ہے اس کے آخر میں ہے کہ فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا توتعالٰی اس رحمت کو اس سے کامل فرمادے گا ۱؎

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ سَلْمَانَ نَحْوُهٗ، وَفِي آخِرِهٖ قَالَ: فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهٰذِهِ الرَّحْمَةِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2366 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر مؤمن جان لیتا کہ اللہ تعالٰی کے پاس کتنا عذاب ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اور اگر کافر جان لیتا کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الْعُقُوْبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2367 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت تم سے تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور آگ بھی ایسی ہی ہے ۱؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلٰى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهٖ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذٰلِكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2368 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص جس نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی اس نے اپنے گھر والوں سے کہا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص نے اپنی جان پر زیادتی کی تھی جب اسے موت آئی تو اس نے اپنی اولاد کو وصیت کی۱؎کہ جب وہ مرجائے تو اسے جلادو پھر اس کو آدھا جنگل میں اور آدھا دریا میں اڑا دو ۲؎رب کی قسم اگرنے اس پرتنگی کی تو اسے وہ عذاب دے گا جو جہانوں میں کسی کو نہ دے۳؎پھر جب وہ مرگیا جو اس نے کہا تھا وہ ان لوگوں نے کیا،نے دریا کو حکم دیا تو اس نے اپنے اندر کا سب جمع کردیا اور جنگل کو حکم دیا تو اس نے اپنے اندر کا جمع کر دیا پھر اس سے فرمایا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی وہ بولا یا رب تیرے ڈر سے تجھے تو خود خبر ہے اسے رب نے بخش دیا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ لِأهْلِهٖ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلٰى نَفْسِهٖ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصٰى بَنِيْهِ: إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوْهُ، ثُمَّ اذْرُوْا نِصْفَهٗ فِي الْبَرِّ، وَنِصْفَهٗ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللّٰهِ لَئِنْ قَدَرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهٗ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوْا مَا أَمَرَهُمْ، فَأَمَرَ اللّٰهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهٗ: لِمَ فَعَلْتَ هٰذَا ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2369 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر کچھ قیدی آئے تو قیدیوں میں ایک عورت کی چھاتیاں دودھ سے چھلک رہی تھیں ۱؎وہ دوڑ رہی تھی جب قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی اسے پکڑتی اپنے پیٹ سے چمٹا لیتی اور اسے دودھ پلادیتی ۲؎تب ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں پھینک دے ہم نے عرض کیا اگر وہ پھینکنے پر قادر ہو تو کبھی نہ پھینکے فرمایاتعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ اپنے بچے پر۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: "قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ؛ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْي قَدْ تَحَلَّبَ ثَدْيُهَا تَسْعٰى، إِذْ وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْي، أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَتُرَوْنَ هٰذِهٖ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ فَقُلْنَا: لَا،وَهِيَ تَقْدِرُ عَلٰى أَنْ لَا تَطْرَحَهٗ، فَقَالَ: لَلّٰهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهٖ مِنْ هٰذِهٖ بِوَلَدِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2370 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے سکے گا۱؎لوگوں نے عرض کیا نہ آپ کو یارسول اللہ ۲؎فرمایا نہ مجھے مگر یہ کہ اللہ مجھے مہربانی سے اپنی رحمت میں چھپالے ۳؎لہذا ٹھیک رہو میانہ رو رہو اور صبح شام اور کچھ اندھیری رات میں نیکیاں کرلیا کرو میانہ رو رہو میانہ رو رہو پہنچ جاؤ ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهٗ، قَالُوْا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهٖ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا،وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2371 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل نہ تو جنت میں پہنچا سکے گا نہ آگ سے بچا سکے گا اور نہ مجھے مگر اللہ کی رحمت سے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُجِيرُهٗ مِنَ النَّارِ، وَلَا أَنَا إِلَّا بِرَحْمَةِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2372 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےجب بندہ مسلمان ہو اور اس کا اسلام اچھا ہو۱؎توتعالٰی اس کے سارے کئے ہوئے گناہ مٹا دیتا ہے ۲؎اس کے بعد قصاص ہوتا رہتا ہے ۳؎کہ نیکی تو دس گنے سے لے کرسات سو گنا بلکہ بہت زیادہ گنا تک ہے ۴؎اور گناہ اس کے برابر مگر یہ کہتعالٰی معافی دیدے ۵؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهٗ يُكَفِّرُ اللّٰهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَّفَهَا،وَكَانَ بَعْدُ الْقِصَاصُ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلٰى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلٰى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللّٰهُ عَنْهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2373 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہتعالٰی نے نیکیاں اور گناہ تحریر فرما دیئے ہیں ۱؎تو جو نیکی کا ارادہ کرے مگر کرے نہیں تو اسےاپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھتا ہے ۲؎پھر اگر قصد کرے اور نیکی کرے تو اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا تک بلکہ بہت زیادہ گنا تک لکھ لیتا ہے ۳؎اور جو گناہ کا ارادہ کرے پھر کرے نہیں تو اس کے لیے بھیتعالٰی ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے ۴؎پھر اگر گناہ کا ارادہ کرے پھر کر بھی لے تو اسےتعالٰی ایک گناہ لکھتا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَهٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلٰى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلٰى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ سَيِّئَةً وَاحِدَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2374 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضر ت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شخص کی مثال جو پہلے گناہ کرتا ہو پھر نیکیاں کرنے لگے۱؎اس کی سی ہے جس پر تنگ زرہ تھی جو اس کا گلا گھونٹ رہی تھی۲؎پھر اس نے ایک نیکی کی تو ایک چھلا کھل گیا پھر دوسری نیکی کی تو دوسرا کھل گیا حتی کہ وہ ذرہ زمین پر گر گئی ۳؎(شرح سنہ)

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ، ثُمَّ عَمِلَ أُخْرٰى فَانْفَكَّتْ أُخرٰى حَتّٰى تَخْرُجَ إِلَى الأَرْضِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2375 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو برسر منبر وعظ فرماتے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ اسے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے دو جنتیں ہیں
۱
؎میں نے کہا اگرچہ زنا کرلے اگرچہ چوری کرلے۲؎یا ر سول اللہ حضور نے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ اس کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر ے دو جنتیں ہیں میں نے دوبارہ کہا یارسول اللہ اگرچہ زنا کرے اور چوری کرے حضور نے پھر تبارہ فرمایا کہ اسے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے دوجنتیں ہیں تیسری بار عرض کیا گیا کہ اگرچہ زنا و چوری کرے یا رسول اللہ تو فرمایا اگرچہ ابو الدرداء کی ناک رگڑ جائے ۳؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُوْلُ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتَانِ قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! فَقَالَ الثَّانِيَةَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتَانِ ، فَقُلْتُ الثَّانِيَةَ: وَإِنْ زَنٰى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!فَقَالَ الثَّالِثَةَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتَانِ فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ: وَإِنْ زَنٰى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ: "وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2376 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت عامر الرام سے۱؎فرماتے ہیں کہ ہم ان کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر تھے کہ ناگہاں ایک شخص آیا جس پر کمبل تھا اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹا تھا عرض کیا یارسول اللہ میں ایک درخت کی جھاڑی پر گزرا تو میں نے اس جھاڑی میں چڑیا کے چوزوں کی آواز سنی ۲؎میں نے انہیں پکڑ لیا اور اپنے کمبل میں رکھ لیا ۳؎اتنے میں ان کی ماں آگئی وہ میرے سر پر چکر لگانے لگی میں نے اس کے سامنے وہ بچے کھول دیئے وہ ان پر گر پڑی ۴؎میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا وہ سب یہ میرے ساتھ ہیں فرمایا انہیں رکھ دو ۵؎میں نےانہیں رکھ دیا ان کی ماں انہیں چمٹی رہی ۶؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم ان چوزوں کی ماں کی اپنے بچوں سے اتنی مامتا پر تعجب کرتے ہو اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی بچوں کی ماں چوزوں ۷؎پر انہیں واپس لے جاؤ حتی کہ انہیں وہاں ہی رکھ آؤ جہاں سے پکڑا ہے اور ان کی ماں ان کے ساتھ رہی وہ انہیں واپس لے گیا ۸؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَامِرٍ الرَّامِ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهٗ -يَعْنِي عِنْدَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ، وَفِي يَدِهٖ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَرَرْتُ بِغَيْضَةِ شجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي، فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلٰى رَأْسِي، فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُوْلَاءِ مَعِيَ، قَالَ: ضَعْهُنَّ، فَوَضَعْتُهُنَّ، وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُوْمَهُنَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صلى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَتَعْجَبُوْنَ لِرُحْم أُمِّ الأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا، فَوَالَّذِيْ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلّٰهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهٖ مِنْ أُمِّ الأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا، ارْجِعْ بِهِنَّ حَتّٰى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ، فَرَجَعَ بِهِنَّ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2377 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم بعض جہادوں میں نبی کریم کے ساتھ تھے حضور انور ایک قوم پر گزرے پوچھا تم کون قوم۱؎ہو وہ بولے ہم لوگ مسلمان ہیں ایک عورت ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہی تھی ۲؎جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا جب آگ بھڑک کر اونچی ہوتی تو عورت بچہ کو دور ہٹا دیتی ۳؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی بولی کیا آپ رسول اللہ ہیں ۴؎فرمایا ہاں بولی میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا اللہ تمام رحم والوں سے بڑھ کر رحیم نہیں ۵؎فرمایا ہاں بولی کیا اللہ اپنے بندوں پر ماں کے اپنے بچہ سے زیادہ مہربان نہیں ۶؎فرمایا ہاں ۷؎تو بولی کہ ماں تو اپنے بچہ کو آگ میں نہیں ڈالتی ۸؎اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سرجھکالیا بہت روئے پھر سر مبارک اس کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں صرف سرکش متکبر ہی کو عذاب دے گا جو اللہ تعالٰی پر سرکشی کرے اورلا الہ الا اللهکہنے سے انکاری ہو ۹؎(ابن ماجہ)

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهٖ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ: "مَنِ الْقَوْمُ؟ " قَالُوْا: نَحْنُ الْمُسْلِمُوْنَ. وَامْرَأَةٌ تَحْضِبُ بِقِدْرِهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجٌ تَنَحَّتْ بِهٖ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قَالَتْ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللّٰهُ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: "بَلٰى"، قَالَتْ: أَلَيْسَ اللّٰهُ أَرْحَمَ بِعِبَادِهٖ مِنَ الأُمِّ بِوَلَدِهَا؟ قَالَ: "بَلٰى"، قَالَتْ: إِنَّ الأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ، فَأَكَبَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ إِلَيْهَا فَقَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهٖ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللّٰهِ، وَأَبَى أَنْ يَقُوْلَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2378 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت ثوبان سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا کہ بندہکی رضا تلاش کرتا رہتا ہے اسی جستجو میں رہتا ہے ۱؎اللہ تعالٰی حضرت جبریل سے فرماتا ہے کہ فلاں میرا بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے مطلع رہو کہ اس پر میری رحمت ہے ۲؎تب حضرت جبرائیل کہتے ہیں فلاں پر اللہ کی رحمت ہے،یہ ہی بات حاملین عرش فرشتے کہتے ہیں یہ ہی ان کے اردگرد کے فرشتے کہتے ہیں حتی کہ ساتویں آسمان والے یہ کہنے لگتے ہیں ۳؎پھر یہ رحمت اس کے لیے زمین پر نازل ہوتی ہے ۴؎(احمد)

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللّٰهِ فَلَا يَزَالُ بِذٰلِكَ، فَيَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجبْرِيْلَ: إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِيْ، أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِيْ عَلَيْهِ، فَيَقُوْلُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلٰى فُلَانٍ وَيَقُوْلُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَيَقُوْلُهَا مَنْ حَوْلَهٗ، حَتّٰى يَقُوْلَهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ الى الأَرْضِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2379 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق کہ بعض لوگ اپنی جانوں پر ظالم ہیں اور بعض میانہ رو ہیں اور بعض بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے ۱؎حضور نے فرمایا یہ سب جنتی ہیں ۲؎(بیہقی،کتاب البعث و النشور)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللّٰهِ عزَّ وجلَّ: فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ قَالَ: "كُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2380 ، باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان