حضرت سیّدنا نظامُ الدّین اولیا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ/غوثِ پاک علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم بطورِ خیرخواہ

سرزمینِ ہند پر اللّٰہ تعالٰی نے جن اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو پیدا فرمایا اُن میں سے ایک سِلسِلۂ چشتیہ کے عظیم پیشوا اور مشہور ولیُ اللہ حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بھی ہیں۔ ولادت اور نام و نسب:آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام محمد اور اَلقابات شیخ المشائخ، سلطانُ المشائخ، نِظامُ الدّین اور محبوبِ اِلٰہی ہیں، آپ نَجیبُ الطَّرَفَیْن (یعنی والد اور والدہ دونوں کی طرف سے) سیّد ہیں، آپ کی ولادت 27صفر المظفر 634ھ بدھ کے روز یُوپی ہند کے شہر بدایوں میں ہوئی، والد حضرت سیّد احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مادَرزاد (پیدائشی) ولی تھے، والدہ بی بی زُلیخا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہا بھی اللہ کی ولیہ تھیں۔(محبوبِ الٰہی، ص90،91، شانِ اولیاء،ص383) تعلیم و تربیت: ناظرہ قراٰنِ پاک و ابتدائی تعلیم اپنے  محلّے سے ہی حاصل کی، پھر بدایوں کے مشہور عالمِ دِین مولانا علاءُ الدِّین اُصُولی علیہ رحمۃ اللہ الوَ لی سے بعض عُلُوم کی تکمیل کی اور انہوں نے ہی آپ کو دستار باندھی، بعداَزاں بدایوں و دِہلی کے ماہرینِ فن عُلَما اور اَساتذہ کی درسگاہوں میں تمام مُرَوَّجَہ عُلوم و فنون کی  تحصیل کی۔ (سیرالاولیاء،ص167، محبوبِ الٰہی،ص94،225) بیعت و خلافت:مختلف مَقامات اور شُیوخ سے عُلوم و مَعرِفَت کی مَنازِل طے کرتے ہوئے آپ حضرت سیّدنا بابا فریدُالدِّین مسعود گنج شکر علیہ رحمۃُ اللہِ الاکبر کی بارگاہ میں پہنچے اور پھر اِسی دَر کے غلام و مُرید ہوگئے، جب رُوحانی تربیَت کی تکمیل ہوئی تو پیر و مُرشد نے خلافت سے نوازا۔(سیر ا لاولیاء، ص195، محبوبِ اِلٰہی، ص115،ملخصاً) اَخلاق وکردار:آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی پوری زندگی طلبِ علم، عبادت و رِیاضت، مُجاہَدہ اور لوگوں کی تربیت و اِصلاح میں گزار دی، آپ نہایت متقی، سخی، اِیثار کرنے والے، دِل جوئی کرنے والے، عَفْوودَر گزر سے کام لینے والے، حلیم و بُردبار، حُسنِ سُلوک کے پیکر اور تارِکِ دُنیا تھے۔(محبوبِ الٰہی،ص208تا250،ماخوذا) منقول ہے کہ چھجونامی ایک شخص کو خواہ مخواہ آپ سے عَداوت (یعنی دشمنی) تھی،وہ بلا وجہ آپ کی برائیاں کرتارہتا، اس کے اِنتقال کے بعد آپ اس کے جنازے میں تشریف لے گئے، بعدِ دفن یوں دعا کی:یااللہ!اس شخص نے جو کچھ بھی مجھے کہا یا میرے ساتھ کیا ہے میں نے اس کو معاف کیا، میرے سبب سے تُو اس کو عذاب نہ فرمانا۔(سیرت نظامی، ص111،ملخصاً) کرامت: آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ایک مشہور کرامَت یہ بھی ہے کہ ایک دن آپ کے کسی مُرید نے محفل مُنعقد کی، جس میں ہزاروں لوگ اُمنڈ آئے جبکہ کھانا پچاس ساٹھ افراد سے زائد کا نہ تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خادِمِ خاص سے فرمایا: لوگوں کے ہاتھ دُھلواؤ، دَس دَس کے حلقے بناکر بٹھاؤ، ہر روٹی کے چار ٹکڑے کرکے دَستر خوان پر رکھو، بِسْمِ اللہ پڑھ کر شروع کرو۔ ایسا ہی کیا گیا تو نہ صرف ہزاروں لوگ اُسی کھانے سے سَیر ہوگئے بلکہ کچھ کھانا بچ بھی گیا۔ (محبوب الٰہی، ص 280، 281ملخصاً، شان اولیاء، ص387) چندملفوظات:٭کچھ مِلے تو جمع نہ کرو، نہ مِلے تو فکر نہ کرو کہ خدا ضرور دے گا۔ ٭کسی کی بُرائی نہ کرو۔ ٭(بلا ضرورت) قرض نہ لو۔ ٭جَفا (ظلم)کے بدلے عطا کرو، ایسا کرو گے تو بادشاہ تمہارے دَر پر آئیں گے۔ ٭فَقْر و فاقَہ رَحمتِ اِلٰہی ہے، جس شب فقیر بھوکا سویا وہ شب اُس کی شبِ مِعراج ہے۔ ٭بلاضرورت مال جمع نہیں کرنا چاہئے۔ ٭راہِ خدا میں جتنا بھی خرچ کرو اِسراف نہیں اورجو خدا کیلئے خرچ نہ کیا جائے اِسراف ہے خواہ کتنا ہی کم ہو۔ (شان اولیاء،ص402،محبوب الٰہی،ص293) وِصال و مزارِ پُراَنوار: آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا وِصال 18ربیع الآخر 725ہجری بروز بدھ ہوا، سیّدنا ابوالفتح رُکنُ الدِّین شاہ رُکنِ عالَم سُہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے نمازِ جنازہ پڑھائی، دِہلی میں ہی آپ کا مزارشریف ہے۔ (محبوب الٰہی، ص207 ملخصاً)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دارشعبہ فیضانِ حدیث ،المدینۃ العلمیہ، باب المدینہ کراچی

 

Share

حضرت سیّدنا نظامُ الدّین اولیا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ/غوثِ پاک علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم بطورِ خیرخواہ

دَر ودیوار پَر نُور کی چادر تَنی تھی، ہدایت کے تارے  صحابۂ کرام، ماہِ رسالت تاجدارِ ختم نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گِرد جُھرمٹ کئے تھے، نُورانی زبان سے نُورانی ارشاد ہوا: اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهٖ وَلِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ وَلِعَامَّتِهِمْ یعنی دین خیرخواہی ہےاللہ کی اور اس کے رسول کی اور مسلمانوں کے اماموں اور عام مسلمانوں کی۔(السنۃ لابن ابی عاصم، ص255، حدیث: 1127)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  کامل خیر خواہی میں سے یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اوررسول  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےمتعلق خالص اسلامی عقیدہ رکھیں، اسلامی حُکّام کی جائز اطاعت، علما کی تعظیم اور مسلمانوں کی خدمت کریں۔ (مراٰۃ المناجیح،ج6،ص557-558، ماخوذاً) مسلمانوں کے عظیم خیر خواہ: پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جانب سے ملنے والے  ”خیر خواہی“ کے قیمتی موتیوں کو صحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان اوربُزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین نے اپنے اعمال وکردار کی زینت بنائے رکھا، ان موتیوں کی چمک اُن کے اخلاق وعادات سے جھلکتی رہی اور ان کی روشنی سے ہرزمانے کے ہر  طبقے کے افراد فائدہ اٹھاتے  رہے۔ حُضورِ غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم بھی مسلمانوں کے عظیم خیرخواہ اور بڑے ہمدرد تھے،  آپ کی سیرتِ مبارکہ میں مسلمانوں کی خیرخواہی و ہمدردی کے کئی واقعات ملتے ہیں، (1)بھٹکے ہوؤں کی خیر خواہی:غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرمخود فرماتے ہیں:اللہتعالٰی نے چاہا کہ میرے ذریعے مخلوقِ خدا کو نفع ملے چنانچہ میرے ہاتھ پر پانچ ہزار سے زیادہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اسلام قبول کیا،ایک لاکھ سے زیادہ لُٹیروں اور دھوکے بازوں نے توبہ کی۔“(قلائد الجواہر، ص19) (2)دینی طلبہ کی خیر خواہی:حضرت ابن قدامہ حنبلی علیہ رحمۃ اللہ الوَ لی بیان کرتے ہیں کہ ہم علمِ دین کی غرض سے حضور ِ غوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی آخری عمر میں حاضرِ خدمت ہوئےتو آپ نے اپنے مدرسے میں ہماری رہائش کا بندوبست کیا۔آپ ہمارا بہت خیال رکھتے تھے، کبھی ایسا ہوتا کہ اپنے بیٹے حضرت یحییٰ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کو بھیج کر ہمارے لئے روشنی و چراغ کا انتظام کردیا کرتے تھےاوربعض اوقات تو خاص اپنے گھر سے ہمارے لئے کھانا بھجوا دیا کرتے تھے۔ (سیر ِاعلام النبلاء، ج15،ص183) (3)غریب کی خیر خواہی:غوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا ایک محلّے میں جانا ہوا، آپ نے وہاں کے سب سے غریب گھر میں قیام فرمایا، معزّزینِ محلّہ نے بہت اصرار کیا کہ ”حضور! ہمارے گھر کو رونق بخشیں“ لیکن آپ وہیں مقیم رہے، چنانچہ اِرادت مندوں نے نذرانے پیش کئے،گائے، بکریاں، غلّہ، سونا، چاندی اور بہت سارا سامانِ زندگی وہاں جمع ہوگیا، آپ یہ سارا سامان اُنہی غریب میزبانوں کو عطا فرما کر تشریف لے گئے اور وہ غریب گھر انہ آپ کے قدموں کی برکت سے محلّہ کا امیر گھرانہ ہوگیا۔ (بہجۃ الاسرار، ص198، ملخصاً) (4)محنت کشوں کی خیر خواہی: غوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بارگاہ میں سونا نَذر کیا جاتا تو اُسے خادِم کے ہاتھوں لوگوں میں تقسیم کردیا کرتے اور فرماتے: ”سبزی فروش کو دے دو! نانبائی کو دے دو۔“ (بہجۃ الاسرار، ص199) (5)بھوکوں کی خیر خواہی :آپ کے گھر کے دروازے  پر غلام روٹیوں کا تھال لے کر کھڑا ہوجاتا اور آواز لگاتا تھا کہ کس کو کھانا چاہیے؟ کس کو روٹی چاہیے؟ (الروض الزاہر، ص71)

کیوں نہ قاسم ہو کہ تُو ابنِ ابی القاسم ہے

کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا

                             (حدائق بخشش،ص20)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ تراجم، المدینۃ العلمیہ ، باب المدینہ کراچی

 

Share