شانِ ولی

ارشاد باری تعالٰی ہے: (قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ(۴۰))

ترجمہ:اُس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری؟ اور جو شکر کرے تو وہ اپنی ذات کے لئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔(پ19،النمل:40)

تفسیر:ان آیات میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہُدہُد پرندہ ایک موقع پر حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام کے دربار سے غائب تھا۔ جب واپس آیا تو اُس نے اپنی عدمِ موجودگی کا سبب بیان کیا کہ وہ ملکِ سبا گیا ہوا تھا اور پھر اُس نے وہاں کے لوگوں کے حالات بیان کئے کہ وہ سورج کے پجاری ہیں اور اُن کی ملکہ بلقیس کے پاس ایک عظیم الشّان تخت ہے۔ اس پر حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام نے  ہدہد  کی سچائی جانچنے کے لئے اور ملکہ بلقیس کو اپنی اطاعت قبول کرنے کے متعلّق ایک خط لکھا۔ ملکہ نے وزیروں سے مشاورت کے بعد آپ علیہ الصّلٰوۃو السَّلام کو بہت سے تحائف بھیجے تاکہ معلوم ہو کہ آپ علیہ الصّلٰوۃو السَّلام بادشاہ ہیں یا اللّٰہ تعالٰی کے نبی۔

حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام نے اپنی نبوت کی صداقت پر دلیل دکھانے کے لئے ملکہ کا تخت اس کی آمد سے پہلے منگوانے کا ارادہ کیا اور خود ملکہ کی اپنی ذہانت کا امتحان بھی مقصود تھا کہ اپنے تخت کو کچھ تبدیلی کے بعد بھی وہ پہچانتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام نے تخت منگوا کر اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کروا دی تھیں۔ بہرحال تخت منگوانے کےلئے آپ علیہ الصّلٰوۃو السَّلام نے فرمایا: اے درباریو! تم میں سے کون ہے جو ان لوگوں کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے۔ یہ سُن کرایک بڑا طاقتور جن بولا کہ میں وہ تخت آپ علیہ الصّلٰوۃو السَّلام کی خدمت میں آپ کے اِس مقام سے کھڑا ہونے سے پہلے حاضر کردوں گا اور میں بڑی قوت والا ہوں اور دیانتدار بھی ہوں۔ حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام نے فرمایا: میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں۔ اس پر آپ علیہ الصّلٰوۃو السَّلام کے ایک وزیرآصف بن برخیا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی (جو کتاب کا علم جانتے تھے) کہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا اور پھر یوں ہی ہوا کہ انہوں نے اسمِ اعظم کی برکت سے اُس تخت کو چند لمحوں میں دربار میں پیش کردیا۔ اس پر حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کلماتِ شکر ادا کئے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے جو اُس نے اِس لئے کیا ہے کہ مجھے آزمائے  کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا  ناشکری کرتا ہوں۔

اس واقعے میں علم کے بہت سے قیمتی موتی ہیں:(1)جنّات کا وجود قرآن سے ثابت ہے اور یہ انسانوں سے ہٹ کر اللّٰہ تعالٰی کی ایک جداگانہ مخلوق ہے۔ یاد رکھیں کہ جنّات کے وجود کا اِنکار کفر ہے۔ (2)حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام کی بادشاہت جنّات پر بھی جاری تھی۔ (3)جنّات کو عام انسانوں سے بڑھ کر تصرّفات کی طاقت حاصل ہے۔ (4)علم و فضل والے مسلمان عطائے خداوندی سے جنّات سے بڑھ کر طاقت و قوت و اختیار و تصرّف و علم رکھتے ہیں۔ (5)کتاب کا علم رکھنے والے سے یہاں مراد حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے، یہی قول زیادہ صحیح ہے اور جمہور مفسرین کا اسی پر اتفاق ہے۔(مدارک،ص847) (6)کتاب کے علم سے مراد لوحِ محفوظ اور اسمِ اعظم کا علم ہے۔ (7)صحیح مقصد کے لئے اپنے علم و فضل کے اظہار و بیان میں حرج نہیں، جیسے حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی طاقت و قوت و علم کا بیان کیا اور عملی طور پر دکھایا بھی۔ (8)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے اولیاءِ کرام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کی کرامات حق ہیں۔ اولیاءِ کرام کی کرامات عقلی طور پر ممکن اور نقلی دلائل سے ثابت ہیں۔ عقلی طور پر ممکن اس لئے ہے کہ ولی کی کرامت  دَرحقیقت اللّٰہ تعالٰی کی قدرت سے ہوتی ہے اور اللّٰہ تعالٰی ہر شے پر قادر ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہم کرامات سے متعلق قوانینِ قدرت کی تفصیل سے واقف نہیں لیکن ہماری عدمِ واقفیت کسی ممکن و موجود شے کو ناممکن و غیرموجود نہیں کرسکتی، جیسے آج سے ہزار سال پہلے پیدا ہونے والا شخص ہوائی جہاز کے اُڑنے کو نہیں سمجھ سکتا تھا بلکہ آج ہی کے زمانے میں اگر کوئی شخص غاروں میں پیدا ہوا ہو اور اس نے کبھی جہاز اُڑتے نہ دیکھا ہو تو وہ اِس بات کا انکار کردے گا کہ لاکھوں ٹَن وزنی لوہے کی شے ہوا میں اُڑ سکتی ہے، لیکن لازمی بات ہے کہ کسی کی لا علمی سے جہاز کا اُڑنا تو ناممکن نہیں ہوجائے گا۔ کراماتِ اولیاء کی حقانیت تمام اولیاءِ کرام، اکابرعلماء، فقہاء اور محدثین کا مذہب ہے، نیز اہلسنّت کے جمہور محقق آئمہ کے نزدیک صحیح و راجح قول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انبیاءِ کرام علیہم الصّلٰوۃ و السَّلام کا معجزہ ہوسکتی ہے، وہ اولیاءِ کرام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم سے کرامت کے طور پر ممکن ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے نبوت والا چیلنج کرنا مقصود نہ ہو۔ معجزہ اور کرامت میں فرق یہ ہے کہ معجزہ نبی سے صادر ہوتا ہے اور کرامت ولی سے۔ معجزے کے ذریعے کفّار کو چیلنج کیا جاتا ہے جبکہ کرامت میں یہ مقصد نہیں ہوتا۔ اولیاءِ کرام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم سے کرامات ثابت ہونے پر قرآن پاک اور بکثرت احادیث مبارکہ میں دلائل موجود ہیں۔ حضرت مریم رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس بے موسمی پھل آنا، کھجور کا سوکھا تنا ہلانے سے اُن پر پکی ہوئی عمدہ اور تازہ کھجوریں گرنا، اصحابِ کہف رضی اللہ تعالٰی عنہم کا غار میں سینکڑوں سال تک سوئے رہنا اور آصف بن برخیا رضی اللہ تعالٰی عنہ کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت لانا یہ سب واقعات قرآن پاک میں موجود ہیں اور کراماتِ اولیاء کی روشن دلیل ہیں۔ یونہی صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بے شمار کرامتوں کا ظہور احادیث میں موجود ہے جو  کرامات کے ثبوت کی واضح دلیل ہے۔( روض الریاحین،ص38 مع تلخیص و زیادتِ کثیر)

ایک اہم مدنی پھول:حضرت سلیمان علیہ الصّلٰوۃو السَّلام نے عظیم الشّان تخت کے دور دراز کے علاقے سے چند لمحوں میں پہنچنے کے عظیم واقعے پر فوراً اِس کمال کو اللّٰہ تعالٰی کی رحمت کی طرف منسوب کیاکہ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ یہی انبیاء و صالحین کی سنّت و عادت ہے اور یہی حکمِ خداوندی ہے کیونکہ بندے کو اپنی کسی خوبی و کمال پر خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، یہ خود ایک مذموم صفت ہونے کے ساتھ دیگر کئی خرابیوں کی بنیاد ہے:اِس سے تکبر پیدا ہوتا ہے، آدمی اپنے گناہوں کو بھولنے اور خامیوں کو نظر انداز کرنے لگتا ہے جس سے اِصلاح کی امید کم ہوجاتی ہے، یونہی خود پسند آدمی اپنی عبادات اور نیک اعمال کو یاد رکھتا اور اُن پر اِتراتا ہے جس کے نتیجے میں وہ اللّٰہ تعالٰی سے غافل ہوجاتا ہے اور اُس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف، اِخلاص سے دور، دوسروں سے تعریف کا طالب ہوکر ریاکاری کی تباہ کاری میں جاپڑتا ہے۔الامان والحفیظ۔ قرآن، حدیث اور تاریخ میں انبیاء علیہم الصّلٰوۃو السَّلام اور سلف صالحین کے حالات و واقعات پڑھیں تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمالات و فضائل کو عطائے خداوندی قرار دیتے تھے اور بزرگانِ دین کا معمول تھا کہ کتاب تصنیف فرماتے تو اس میں ہونے والی خطاؤں کو اپنی طرف منسوب کرتے جبکہ غلطی اور خطا سے محفوظ رہنے کو اللّٰہ تعالٰی کے فضل کی طرف منسوب کرتے۔ اللّٰہ تعالٰی ہمیں قرآن کے علوم و انوار سے مالا مال فرمائے،اٰمین۔

 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*        دارالافتاء اہلِ سنّت فیضانِ مدینہ، باب المدینہ کراچی

 

Share