انار اور پودینہ

اناراور اس کے فوائد

انار ایکقدیم ترین پھل ہے۔یہ تین طرح کا ہوتا ہے۔ میٹھا، کھٹا اور کھٹا میٹھا، تینوں کی تاثیر مختلف ہے۔شیریں انار گرم، تُرش انار ٹھنڈا اورکھٹا میٹھا انار تاثیر کے اعتبار سے متوسط ہوتا ہے۔انار کا ذکر قراٰنِ مجید میں بھی آیاہے،ارشادِ باری تعالٰی ہے: (فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ(۶۸)) (پ27، الرحمن: 68)  ترجمۂ کنزالایمان:ان میں میوےاورکھجوریں اورانار ہیں۔انار کےمتعلق نبیِّ کريمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ایسا کوئی انار نہیں جس ميں جنتی اناروں کا دانہ شامل نہ ہو۔(کنز العمال، ج12،ص155، حديث:35319)انار کے بے شمار فوائد میں  سے چند ملاحظہ  کیجئے :

٭انار میں وٹامن اے، بی، سی، کیلشیم، سوڈیم، آئرن، فاسفورَس، سلفر،فولاد،ہائیڈروکلورک ایسڈ  کے اَجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ٭معدہ،جگر،سینہ کو تقویت دیتا اور خون کی کمی دور کرکے صاف خون پیدا کرتا ہے۔ ٭انار بلڈ پریشر، ٹائیفائیڈ، یرقان،تلی کے امراض، بھوک میں کمی، بواسیراور ہڈیوں کے درد کے لئے  مفید  ادویاتی اور قدرتی غذا ہے۔ ٭انار کا استعمال  ذیا بیطس (Diabetes) کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ہے۔٭ دل و دماغ  کو فرحت و تازگی فراہم کرتا ہے۔٭ چہرے کی رنگت میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ ٭قوتِ بصارت کو تیز کرتا ہے۔٭نزلہ، کھانسی، دَمہ میں بھی فائدہ مند ہے نیز پھیپھڑوں سے بلغم نکال کر انہیں طاقت دیتا ہے۔٭ انار پیشاب آور ہوتا ہے لہٰذا پیشاب اور  مثانے کی بیماریوں میں اس کا استعمال کار آمد ہے۔٭مختلف امراض کے بعد ہونے والی  کمزوری کو دور کرتا ہے۔ ٭دانتوں اور مسوڑوں کو مضبوط کرتا ہے۔(ماخوذ از رسائلِ طب،ج 2،ص211-212، پھولوں، پھلوں اور سبزیوں سے علاج، ص 149-160)

پودینہ اور اس کے فوائد

پودینہایک چھوٹاخوشبودارپوداہے۔عام طورپراسے  گھروں میں چٹنی اور سلاد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس کے چھوٹے چھوٹے پتّے کھانے کو خوشبو داراورخوش ذائقہ بنانے کے کام بھی آتے ہیں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پودینہ کو پسند فرماتے تھے۔(احیاء العلوم،ج2،ص457) پودینہ کئی  فوائد و خصوصیات کا مجموعہ ہے، چند فوائد یہ ہیں:

٭پودینہ کیلشیم اور فولاد کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ ٭پودینہ کا شربت دل و دماغ کو قوت فراہم کرتا اور سر درد میں  آرام پہنچاتا ہے۔٭پودینہ کا استعمال معدہ کے نظام کو درست کرتا اور ہاضمہ سے متعلق اَمراض میں نفع بخش ہے۔٭پودینہ  میں خطر نا ک بیکٹیریا کو ختم کرنے کی قوت ہوتی ہے اس لئے یہ  زہریلے کیڑوں مثلاً سانپ، بچھو وغیرہ کے کاٹنے کی وجہ سے ہونے والے  اِنفیکشن میں بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔٭پائیوریا، مسوڑھوں اور دانتوں کی کمزوری اور  اگر  گلا بیٹھ جائے تو تازہ پودینے کے پتے چبانے سےآواز کُھل جاتی اور گلے کی تکلیف رفع ہوجاتی ہے۔٭گُردےاورمثانےکی پتھریوں سے نجات دلاتا ہے۔٭خون میں موجود فاسِد مادوں کو خارج کرتا ہے۔ ٭ دَمَہ کے مریضوں کے لئے اِس کا استعمال  کار آمد ہے۔ ٭ہچکی لگ جانے کی صورت میں پودینے کی پتیاں چبانے سے ہچکیاں بند ہو جاتی ہیں۔٭پودینہ کا قہوہ بلغمی کھانسی، نزلہ، زُکام میں پیا جائے تو جلدآرام ہوگا۔ (ماخوز از پھولوں،پھلوں اور سبزیوں سے علاج ، ص 301، 302، انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس)

نوٹ:تمام دوا ئیں اپنے طبیب (ڈاکٹر)کے مشورے سےہی استعمال کیجئے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی

 

Share