بزرگانِ دین رحمہم اللہ المُبِین، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت اور امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے انمول مدنی پھول

بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ المُبین ، اعلٰی حضرت  علیہ ربِّ العزت

 اور امیر ِاہلِ سنت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے  مدنی  پھول

باتوں سے خوشبو آئے

کامیاب کون؟

(1)ارشادِ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ: ”جو شخص خوا ہشات، لالچ اور غصّہ سے بچ  گیا وہ فَلاح پاگیا۔“(احیاء العلوم،ج3،ص206)

دلوں کو بگاڑنے والی چیز

(2)ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن علی باقِرعلیہ رحمۃ اللّٰہ الغافر:”لڑائی جھگڑے سے بچناکیونکہ یہ دلوں کو بگاڑ تا اور نِفاق پیدا کرتا ہے۔“(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص266،رقم:3749)

تین چیزیں گھر سے برکت اُٹھا لیتی ہیں

(3)ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن ابوکثیر علیہ رحمۃ اللّٰہ القدیر: ”تین چیزیں جس گھرمیں ہوتی ہیں اس سے بَرَکت اُٹھالی جاتی ہے:(۱)فضول خرچی (۲)زنا اور (۳)خیانت۔“(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص81، رقم: 3252)

زیادہ عقلمند کون؟

(4)ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا رُدَیْنِی بن ابومِجْلَز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:”مؤمنین میں سے یالوگوں میں سے سب سے زیادہ دانا (عقل مند) وہ ہے جو حددرجہ محتاط ہو۔“(حلیۃ الاولیاء، ج3،ص133،رقم:3439-40)

جنّت میں جانے کا نسخہ

(5)ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن مُنکَدِر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: ”کھانا کھلانا اور اچّھی گفتگو کرنا تمہیں جنّت میں لے جائے گا۔“(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص220،رقم:3601)

عقل بادشاہ ہے

(6)ارشادِ حضرت سیّدُنا علی بن عُبیدہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: ”عقل بادشاہ جبکہ عادات و اَطْوار اس کی رعایا ہیں، جب عقل اپنی رعایا کی دیکھ بھال میں ناکام ہو جائے تو ان میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔“(المستطرف،ج1،ص27)

بغیر علم خدا کی عبادت

(7)ارشادِ حضور سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی:”جو بغیر علم کے خدا کی عبادت کرتا ہے وہ جتنا سنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا۔“(شریعت و طریقت،ص 20)

محبتِ الٰہی کا تقاضہ

(8)ارشادِحضورسیّدناغوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی:”محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا تقاضا ہے کہ تُو اپنی نگاہوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کی طرف لگا دے اور کسی کی طرف نگاہ نہ ہو یوں کہ اندھوں کی مانند ہو جائے، جب تک تُو غیر کی طرف دیکھتا رہے گا اللہ  عَزَّوَجَلَّ کا فَضْل نہیں دیکھ پائے گا۔“(غوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کےحالات، 78)

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

غوثِ اعظم سب سے آگے

(1)تمام کاملین حضرات سَیْر فی اﷲ(یعنی معرفتِ الٰہی)میں غوثِ اعظم(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کی سَیْر فی اﷲ (یعنی معرفتِ الٰہی) سے بہت پیچھے ہیں، اسی لئے آپ کاقدم( ان کی) گردنوں پرہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج7،ص657)

مزراتِ اولیا کی طرف سفر کرنا جائز ہے

(2)محبوبانِ خدا کی طرف جانا اور بَعدِ وصال اُن کی قُبور کی طرف چلنا دونوں یکساں(یعنی برابر ہیں) جیسا کہ سیّدنا امام شافِعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سیّدنا امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کے مزارِ فائِضُ الْاَنوار کے ساتھ کیا کرتے۔(فتاویٰ رضویہ،ج7،ص607)

عملِ صالح کے لئے دوسری جگہ

(3)جہاں انسان سے کوئی تَقْصِیْر(خطا) واقع ہو عملِ صالح وہاں سے ہَٹ کر کرے۔(فتاویٰ رضویہ،ج7،ص609)

صِدقِ نیّت  ضروری ہے

(4)سوتے وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ سے توفیقِ جماعت (یعنی نمازِ باجماعت پانے) کی دعا اور اس پرسچا توکُّل(کر) مولیٰ تَبارَک وتعالیٰ جب تیرا حُسنِ نیّت وصِدقِ عزیمت(یعنی اِرادے کی سچائی) دیکھے گا (تو) ضرور تیری مدد فرمائے گا۔(فتاویٰ رضویہ،ج7،ص90)

والدین کی اصلاح کیسے کریں؟

(5)ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں تو ان سے بہ نرمی و ادب گزارش کرے اگر مان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ غَیبت (یعنی غیر موجودگی) میں ان کے لئے دعا کرے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص157)

حرام جائز نہیں ہو سکتا

(6)حرام کھانا کبھی جائز نہیں ہوتا،جس وقت جائز ہوتا ہے اس وقت وہ حرام نہیں رہتا۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص225)

شمسی تاریخ کا اعتبار

(7)شرعِ مُطَہَّر  میں تاریخِ قَمری(یعنی چاند کی تاریخ) مُعْتَبَر ہے نہ کہ شَمسی(عیسوی تاریخ)،علماء نے فرمایا:اپنے معاملات میں بھی مسلمانوں  کو اس کے اِعتبار  کی اِجازت نہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص265)

عطّار کا چَمن کتنا پیارا چَمن!

حرکت میں برکت

(1)حرکت میں برَکت ہے کہ جو پانی چلتا ہے وہ تازہ رہتا ہے اور جو رُکا رہتا ہے خراب ہوجاتا ہے۔

(مَدَنی مذاکرہ،9ربیعُ الاوّل 1438ھ)

عالم بیٹے پر بھی والد کا احترام  لازم ہے

(2)بیٹا عالِم ہو اور باپ غیرِ عالِم، پھر بھی بیٹے پر اپنے باپ کا اِحترام لازم ہے، اِحترام کرے گا تو دونوں جہاں میں سعید (یعنی خوش نصیب) ہوگا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ(مَدَنی مذاکرہ،11محرم الحرام 1436ھ)

عِمامے کی برکت

(3)عِمامہ شریف باندھنے والا اس کی بَرَکت سے گناہوں سے باز رہتا ہے اور اس کے کِردار میں بھی نِکھار آجاتا ہے۔

(مَدَنی مذاکرہ،21صفر المظفر 1436ھ)

مکان کہاں  خریدا جائے؟

(4)ایسے محلّے میں مکان لینا چاہئے جہاں مسجد گیارھویں و بارھویں منانے والوں کی ہو۔(مَدَنی مذاکرہ،2ربیعُ الآخر 1437ھ)

مَدَنی انعامات کی بَرَکات

(5)مَدَنی انعامات، رُوحانیّت پانے کا نسخہ ہیں، اِن پر عمل کرنے سے خوفِ خدا اور عشقِ مصطفےٰ حاصل ہوتاہے۔

(مَدَنی مذاکرہ،12ربیعُ الاوّل 1436ھ)

بزرگانِ دین کا فیض  کیسے پائیں ؟

(6)اگر آپ بُزُرگانِ دین رحمھم اللہ المُبِین کا فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اِن کی سیرت پر عمل کیجئے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِتنا فیض ملے گا کہ آپ دوسروں کو تقسیم کریں گے۔(مَدَنی مذاکرہ،8ربیع الآخر           1436ھ)

 

Share