ناسمجھ بچے کو مسجد میں لانے اور صف میں کھڑا کرنے کا حکم/ والدکے بجائےپرورش کرنے والے کا نام استعمال کرنا/ سجدے میں پاؤں کی کتنی انگلیاں لگانا ضروری ہے؟

دارالافتاء اہلِ سنّت (دعوتِ اسلامی) مسلمانوں کی شرعی رہنمائی میں مصروفِ عمل ہے، تحریراً، زبانی،فون اور دیگر ذرائع سے ملک بیرونِ ملک سے ہزارہا مسلمان شرعی  مسائل دریافت کرتےہیں،جن میں سے تین منتخب فتاویٰ ذیل میں  درج کئے جارہے ہیں۔

ناسمجھ بچے کو مسجد میں لانے اور صف میں کھڑا کرنے کا حکم

سُوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ چھوٹے ناسمجھ بچوں کو مسجد میں لانا درست ہے یا نہیں؟ نیز ان کو لاکر اپنے ساتھ صف میں کھڑے کرنا کیسا ہے؟ کیا اس صورت میں صف قطع ہوگی یا نہیں؟

 سائل:محمد طاہر برکاتی (فیڈرل بی ایریا،باب المدینہ کراچی)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ایسے ناسمجھ بچے جن سے نجاست کا گمان غالب ہو، انہیں مسجد میں لانا مکروہِ تحریمی یعنی ناجائز و گناہ ہے اور اگر نجاست کا محض احتمال اور شک ہو تو مکروہِ تنزیہی ہے یعنی گناہ تو نہیں مگر بچنا بہتر ہے۔ جہاں تک صفوں میں ان کے کھڑے ہونے کی بات ہے تو بالکل ناسمجھ بچے  جو نماز پڑھنا ہی نہیں جانتے چونکہ نماز کے اہل ہی نہیں ہوتے لہٰذا ان کے صف میں کھڑے ہونے سے ضرور صف قطع ہوگی اور قطعِ صف ناجائز و گناہ ہے۔ لہٰذا انھیں ہرگز مردوں کی صف میں کھڑا نہ کیا جائے تکمیل صف کا دھیان رکھا جائے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبــــــــــہ

عبدہ المذنب ابو الحسن فضیل رضا العطاری عفا عنہ الباری

والدکے بجائےپرورش کرنے والے کا نام استعمال کرنا

سُوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ایک شخص بنگلہ دیش سے تعلق رکھتا ہے آٹھ سال کی عمر سے وہ پاکستان میں رہائش پذیر ہے اور اس کے والدین بنگلہ دیش میں ہیں۔ وہ یہاں اپنی قوم کے ایک شخص کی پرورش میں رہا اور ولدیت میں باپ کے بجائے اس پرورش کرنے والے شخص کا نام اس کے تمام کاغذات میں لکھا گیا یہاں تک کہ نکاح نامے میں بھی اس  پرورش کرنے والے کا نام لکھا گیا ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے نکاح ہوجائے گا یا نہیں؟ جبکہ نکاح کے وقت نکاح خواں نے شوہر سے ایجاب و قبول کروایا ہے۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نکاح نامہ ہو یا کسی بھی قسم کے قانونی کاغذات ہوں ان میں ولدیت لکھنے کی جگہ اصل والد ہی کا نام لکھنا ضروری ہے اور کسی کے پوچھنے پر ولدیت بتاتے وقت بھی حقیقی والد کا ہی نام بتانا ضروری ہے لکھنے بولنے کسی بھی موقع پر ولدیت کی جگہ پھوپھا چچا یا کسی بھی دوسرے شخص کا نام لینا یا لکھنا جائز نہیں۔

شریعتِ مطہرہ نے دوسرے کے بچے کو ازروئے نسب اپنی طرف منسوب کرنے یا اپنے آپ کو دوسرے کی طرف منسوب کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے بلکہ اپنانسب بدلنے والے شخص پر حدیث شریف میں لعنت بھی فرمائی گئی ہے۔

جہاں تک معاملہ نکاح کا ہے تو دولہے کی ولدیت میں تبدیلی کے باوجود بھی نکاح صحیح ہوجائے گا اس لئے کہ جب شوہر خود مجلس عقد نکاح میں موجود ہے اور قبول بھی وہ خود ہی کررہا ہے تو نکاح کے درست ہونے کے لئے اس کا یا اس کے اصل والد کا نام لینا کچھ ضروری نہیں۔ البتہ لڑکی سے نکاح کی وکالت لیتے وقت (ایک نام کے متعدد افراد ہونے کی وجہ سے اشتباہ ہونے کی صورت  میں اگر) فقط شوہر کے نام سے تعیین نہ ہوتی ہو تو اب اس کے والد کا نام لینا تعیین کے لئے ضروری ہے اور اگر والد کا نام لینے سے بھی وہ مُعَیَّن نہ ہورہا ہو بلکہ پرورش کرنے والے کابیٹا ہونے کی حیثیت سے مشہور ہونے کے باعث پرورش کرنے والے کا نام لینے سے مُعَیَّن ہوجاتا ہو تو لڑکی کو شوہر کے نام کے ساتھ پرورش کرنے والے  کا نام ولدیت میں بتاکر وکالت و اجازت لی گئی ہو تو اس صورت میں وکالت درست ہوجائے گی اور نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑے گا لیکن یاد رہے تب بھی نکاح نامے پر ولدیت میں پرورش کرنے والے کا نام لکھنا جائز نہیں ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب                                                                                                                                                                                                                                                             مُصَدِّق

ابو الحسن جمیل  احمد  غوری  العطاری                    عبدہ المذنب ابو الحسن فضیل رضا العطاری عفا عنہ الباری

سجدے میں پاؤں کی کتنی انگلیاں لگانا ضروری ہے؟

سُوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سجدہ میں کتنی انگلیوں کا زمین پر لگنا فرض اور کتنی کا واجب ہے؟ اگر امام یا کوئی اور نمازی صرف انگلیوں کے سرے زمین پر لگائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

سائل: عبد الرؤ ف (گاڑی کھاتہ،زم زم نگرحیدر آباد)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

امام ہو یا عام نمازی سجدہ میں دونوں پاؤں کی دس انگلیوں میں سے کسی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگنا فرض ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا واجب ہے اور دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا اور ان کا قبلہ رو ہونا سنت ہے۔ اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے یا پاؤں کا صرف ظاہری حصہ زمین پر لگایا یا صرف انگلیوں کی نوک لگائی اور ایک بھی انگلی کا پیٹ زمین پر نہ لگا تو نماز نہیں ہوگی، اس نماز کو دوبارہ درست طریقہ کے ساتھ پڑھنا فرض ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک انگلی کا پیٹ تو زمین پر لگایا مگر دونوں پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر نہ لگایا تو ترکِ واجب کی وجہ سے گناہ بھی ہوگا اور نماز واجبُ الاِعادہ ہوگی یعنی اس نماز کو  دہرانا (دوبارہ پڑھنا)واجب ہے۔ نیز امام چونکہ مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہوتا ہے تو جس صورت میں امام کی نماز نہیں ہوگی اور اعادہ فرض ہوگا اس صورت میں مقتدیوں کی نماز بھی نہیں ہوگی، ان پر بھی اعادہ فرض ہوگا، یونہی جس صورت میں امام کی نماز واجبُ الاِعادہ ہوگی، مقتدیوں کی نماز بھی واجبُ الاِعادہ ہوگی۔

مُجِیْب                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                             مُصَدِّق

ابو محمد محمدسرفراز اختر العطاری                          عبدہ المذنب ابو الحسن فضیل رضا العطاری عفا عنہ الباری

رکوع اور سجدے میں احتیاط کیجئے

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام احمد اضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں: تعدیلِ ارکان واجب ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 5،ص71) بہت لوگ نماز میں تعدیلِ ارکان نہیں کرتے اور یہ حرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج14،ص142) وضاحت: تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجود، قَومہ (یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا) اور جَلْسہ (یعنی دو سَجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا) میں کم از کم ایک بار ”سبحٰن اللہ“ کہنے کی مقدار ٹھہرنا واجب ہے۔ (نماز کے احکام، ص  218)

 

Share