مُرید کو کیسا ہونا چاہئے؟(قسط:1)

بیعت کیا ہے؟: کسی پیرِ کامل([1]) کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے، آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اعمال کا اِرادہ کرنے اور اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔(پیری مریدی کی شرعی حیثیت، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، ص3) مقصدِ بیعت: مرید ہونے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان مُرشِدِ کامل کی راہنمائی اور باطنی توجہ کی برکت سے  سیدھے راستے پر چل کر اپنی زندگی شریعت و سنّت کے مطابق گزار سکے۔ پیر و مُرشِد سے فیض حاصل کرنے کے لئے کچھ آداب ہیں جن کا خیال رکھنا مرید کے لئے بے حد ضروری ہے، مرید کو کیسا ہونا چاہئے؟“ اس بارے میں چند مدنی پھول پیش کئے جاتے ہیں: (1)ہمیشہ پیر و مُرشِد کا باادب رہے کہ باادب ہی بانصیب ہوتا ہے اور بے ادبی کرنے والا شخص کبھی فیض نہیں پا سکتا۔ حضرت سیّدنا ذُوالنُّون مِصری علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:”جب کوئی مرید اَدَب کا خیال نہیں رکھتا، تو وہ لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔(الرسالۃ القشیریۃ، باب الادب، ص 319) (2)مُرشِدِ کامل کا فیض پانے کے لئے اس کی محبت کو دل و جان سے سینے میں بسا لینا ضروری ہے، جیسا کہ غوثِ زماں حضرت سیّدنا شیخ عبدالعزیز دباغ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:مرید پیر کی محبت سے کامل نہیں ہوتا کیونکہ مُرشِد تو سب مریدوں پر یکساں شفقت فرماتے ہیں بلکہ یہ مرید کی مُرشِد سے محبت ہوتی ہے جو اسے کامل کے درجے پر پہنچاتی ہے۔(کامل مرید، ص21،الابریز،ج2،ص73،74،77 ملخصاً) (3)مرید اپنے مُرشِد کے ہاتھ میں ”مُردہ بدستِ زندہ“ (یعنی زندہ کے ہاتھوں میں مُردہ کی طرح) ہو کر رہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص369، ملخصاً) (4)مُرشِدِ کامل کا فیض پانے کے لئے ضروری ہے کہ کبھی بھی خود کو علم و عمل میں مُرشِد سے فائق (اعلیٰ) نہ جانے اگرچہ علمائے زمانہ میں شمار کیا جاتا ہو، ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے:لینے والے کو چاہئے کہ جب کسی چیز کے حاصل کرنے کا ارادہ کرے تو اگرچہ کمالات سے بھرا ہوا ہو، اپنے تمام کمالات کو دروازہ ہی پر چھوڑ دے اور یہ جانے کہ میں کچھ جانتا ہی نہیں۔ خالی ہو کر آئے گا تو کچھ پائے گا اور جو اپنے آپ کو بھرا سمجھے گا تو: ؏انائے کہ پر شدد گر چون پرد یعنی بھرے برتن میں کوئی اور چیز نہیں ڈالی جاسکتی۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص142) (5)مُرشِد کی رِضا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ر ِضا، مُرشِد کی ناراضی میںاللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی جانے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص369، ملخصاً) (6)اپنے پیر پر کبھی اعتراض نہ کرے بانیِ سلسلۂ عالیہ سہروردیہ حضرت سیّدنا شہابُ الدین عمر سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:پیر پر اعتراض کرنے سے ڈرنا چاہئے کہ یہ مریدوں کے لئے زہرِ قاتل ہے، شاید ہی کوئی مرید ہو جو پیر پر اعتراض کرنے کے باوجود فلاح پاجائے۔ (عوارف المعارف، ص62) (7)اپنے مُرشِد اور پیر بھائیوں سے مَحبّت کرے۔ حضرت شَیخ عبدالرحمٰن جیلی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں کہ جو مرید اپنے نفس کو اپنے مُرشِد اور اپنے پیر بھائیوں کی مَحبّت سے رُوگردانی کرنے (منہ پھیرنے) والا پائے تو اسے جان لینا چاہئے کہ اب اس کو اللّٰہ تعالٰی کے دروازہ سے دُھتکارا جا رہا ہے۔ (آدابِ مرشدِ کامل، ص 53) (بقیہ آئندہ شمارے میں)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی

 



[1] پیر کی چارشرائظ ہیں: (1) صحیح العقیدہ سنّی  ہونا(2) ضروری علم کا ہونا(3) کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا(4)اِجازتِ صحیح متصل ہونا۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص491)

Share