سُستی و کاہلی

اِنسان کئی اچّھی اور بُری عادتوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو اُسے فائدہ یا نقصان پہنچاتی ہیں۔ نقصان دینے والی عادَتوں میں سے ایک سُستی بھی ہے۔ سُستی کی قَباحت (یعنی بُرائی) کا اِس سے بڑھ کر کیا ثُبوت ہوسکتا ہے کہ سُست سے سُست آدمی بھی خود کو سُست کہلوانا پسند نہیں کرتا لیکن ”کل کروں گا، ابھی نہیں، پھر کبھی سہی، دیکھتا ہوں، اِتنی جلدی بھی کیا ہے، ابھی موڈ نہیں، کل آنا“ جیسے جملے اُس کے سُست ہونے کا پتا دیتے ہیں۔ افسوس! ہم سیکنڈوں کا کام منٹوں، منٹوں کا کام گھنٹوں، گھنٹوں کا کام دنوں، دنوں کا کام ہفتوں اور ہفتوں کا کام مہینوں پر ٹال دیتے ہیں، پھر بھی اِحساسِ زِیاں (یعنی نقصان کا احساس) نہیں ہوتا۔ کام کو ٹالنے والے کی مثال: حضرتِ علّامہ ابنِ قدامہ حنبلی مَقْدَسی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (سالِ وفات 689ہجری) لکھتے ہیں: کام کو آئندہ پر ٹالنے والے شخص کی مثال اُس آدمی کی سی ہے جسے ایک درخت کاٹنا ہو، جب وہ دیکھے کہ درخت بہت مضبوط ہے اور شدید مشقّت سے کٹے گا تو وہ کہے: میں ایک سال کے بعد اِس کو کاٹنے کے لئے آؤں گا۔ اُسے یہ شُعور نہیں ہوتا کہ اِس عرصے میں درخت مزید مضبوط ہوجائے گا اور خود اُس شخص کی جتنی عمر گزرتی جائے گی وہ کمزور ہوتا جائے گا۔ آج جب وہ طاقتور ہونے کے باوجود درخت کونہیں کاٹ سکا تو ایک سال بعد جب وہ کمزور ہوجائے گا اور درخت زیادہ مضبوط، تو وہ کیونکر اُس درخت کو کاٹ سکے گا۔ (مختصر منہاج القاصدین، ص316) عالَمی مسئلہ: سُستی و کاہِلی عالَمی مسئلہ (Global Problem) بن چکی ہے۔ کام میں سُستی کے اعتبار سے لوگوں کی تین قسمیں ممکن ہیں: (1)جو کسی کام میں سُستی نہیں کرتے، ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں (2)جو کچھ کاموں میں سُستی کرتے ہیں اور کچھ کاموں میں چُستی، اِس قسم کے لوگ بھی کم ہیں (3)جو ہرکام میں سُستی کرتے ہیں، ایسوں کی کثرت ہے۔ بہرحال سُستی نے ہمارے مُعاشَرے کو گھیر رکھا ہے، کہیں جسمانی سُستی کا سامنا ہے تو کہیں ذِہنی سُستی کارفرما ہے،مثَلَاً: ٭گناہوں سے توبہ کرنے میں سُستی ٭نمازوں میں سُستی ٭فرض حج کرنے میں سُستی ٭نماز روزے قضا ہوئے ہوں تو اُنہیں ادا کرنے میں سُستی ٭قراٰنِ کریم کی دُرست تلاوت کے لئے قواعدِ تجوید سیکھنے میں سُستی ٭ ضَروری شَرْعی مسائل جاننے میں سُستی ٭آسان نیکیاں کرکے ثواب کمانے میں سُستی ٭قرض واپس کرنے میں سُستی ٭کسی کی حق تلفی پر معافی مانگنے میں سُستی ٭پڑھائی میں سُستی ٭پانی، بجلی اور گیس وغیرہ کےیوٹیلٹی بِلز ادا کرنے میں سُستی ٭بائیک یا کار کا بریک یا پلگ وغیرہ کی خرابی دور کروانے میں سُستی ٭عِلاج میں سُستی ٭میڈیکل ٹیسٹ کروانے میں سُستی ٭بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے میں سُستی ٭خراب گیزر ٹھیک کروانے، گیس کی لیکیج بند کروانے، فِیوز بلب کو تبدیل کرنے، دروازے کا لاک بدلوانے جیسے درجنوں گھریلو کاموں میں سُستی ٭شَناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، بچوں کے ”ب فارم“ جیسی ضروری سرکاری دستاویزات بنوانے میں سُستی ٭اولاد کی شادی کرنے میں سُستی ٭کہیں مُلازَمت کرتے ہیں تو دفتری اُمور نمٹانے میں سُستی ٭سیٹھ ہیں تو مُلازِمین کو تنخواہ دینے میں سُستی ، اَلغرض! ہماری زندگی کا وہ کونسا شعبہ ہے جہاں سُستی کا چلن نہیں ہے؟ سُستی کے نقصانات: سُستی ہماری دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ و برباد کرسکتی ہے، وہ اِس طرح کہ ٭نماز روزے جیسی فرض عبادتوں کی ادائیگی میں سُستی جہنّم کی سزا کا حقدار بنادیتی ہے ٭علمِ دین (بالخصوص فرض علوم) کے حُصول میں سُستی ہمیں کئی گناہوں میں مبتلا کرواسکتی ہے ٭ سُستی وکاہِلی کی وجہ سے ہمارے گھر والے ہم سے ناراض ہو سکتے ہیں ٭ بَروقت کام نہ کرنے پر ہمیں لوگوں کے سامنے شرمندَگی اُٹھانی پڑ سکتی ہے ٭ کسی موقع پر قانونی جُرمانہ یا سزا بھی بھگتنی پڑسکتی ہے ٭اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو اُس کی سُستی کی وجہ سے کسی کی جان بھی جاسکتی ہے ٭دفتری کام جمع ہونے کی وجہ سے ٹینشن میں اضافہ ہوسکتا ہے ٭ سُستی وکاہِلی کی وجہ سے نوکری چھوٹ سکتی ہے ٭ترقی کاسفرآہستہ آہستہ طے ہونے کے ساتھ رُک کر کارکردگی کو کمزورکرسکتاہے ٭لوگوں کی تنقیدی باتیں سُننا پڑ سکتی ہیں ٭ سُستی کی وجہ سے لوگوں کااِعتمادواِعتبار ختم ہوسکتاہے ٭ سُستی کا مریض خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہوسکتاہے  ٭سُستی وکاہِلی صِرْف ہم پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ اِس کے اثرات ہمارے بچّوں اور گھر کے دِیگر افراد پر بھی پڑسکتے ہیں۔ سُستی کا علاج: جب سُستی کے اِتنے سارے نقصانات ہیں تو سُستی کا علاج کرنے میں بھی سُستی نہیں کرنی چاہئے۔ کسی بُزُرگ کی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی: مجھے ایسی مختصر نصیحت کیجئے کہ میری سُستی کا علاج ہوجائے۔ اُنہوں نے پانچ لفظوں میں علاج بیان کردیا:’’ سُستی کا علاج چُستی ہے۔‘‘ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حکایت فرضی ہی سہی لیکن علاج بڑا شاندار ہے۔نیچے دئیے گئے مزید طریقوں پر عمل ہمیں سُستی وکاہِلی سے نَجات دِلوا سکتا ہے:(1)اپنی سُستی کو تسلیم کیجئے: جو مریض اپنی بیماری کو تسلیم نہیں کرتا وہ علاج کیلئے کیسے تیار ہوگا؟ اِس لئے اپنی سُستی کو بہانوں کے پیچھے چھپانے کے بجائے دل ہی دل میں مان لیجئے کہ میں سُست ہوں، تبھی علاج ہوسکے گا۔ (2)دُعا کیجئے: اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سُستی سے نجات کیلئے دُعا کیجئے، ہمارے مکی مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جو دعائیں مانگیں اُن میں ہمارے لئے بھی سیکھنے کے مدنی پھول ہیں۔ بُخاری شریف میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ایک دُعا منقول ہے جس میں سُستی و کاہِلی سمیت 7 چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔ چُنانچہ دعائے مصطَفٰے ہے: ”اَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ وَاَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِِ الْقَبْرِ وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ“۔ ترجمہ: میں تیری پناہ چاہتا ہوں بخل سے، سُستی سے، نکمی عمر سے، عذابِ قبْر سے، دجّال کے فتنہ سےاور زندَگی اور موت کے فتنہ سے۔ (بخاری، کتاب التفسیر،ج3،ص257، حدیث:4707) (3)کام کرنے کے طریقے سوچئے: ہم اکثر کام نہ کرنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں، کیا کبھی کام کرنے کے بھی بہانے تلاش کئے، اگر کام کو ٹالنے کے بجائے ہم یہ سوچیں کہ یہ کام کس طرح ہوسکتاہے؟ پھر اُسے کر ڈالیں تو چُستی ہماری شَناخت بن جائے گی اور ہم لوگوں کا اِعتِماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ (4)اپنا علاج کروائیے:کبھی کبھار کی سُستی بعض اَوقات میڈیکل پرابلم مثلاً: بُخار، سَر، کمر اور ٹانگوں وغیرہ میں درد کی وجہ سے ہوتی ہے، اِس کا علاج کروالیجئے، لیکن چُست ہونے کے لئے مکمل صحّت مند ہونے کا اِنتِظار نہ کیجئے (5)نیند پوری کیجئے:نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے بھی سُستی ہوسکتی ہے، اپنی عمر کے مطابِق 7 یا8 گھنٹوں کی نیند ضرور لیجئے (6)کھانے پینے میں اِحتِیاط کیجئے: ڈٹ کر کھانا اور زیادہ دیرایک ہی جگہ بیٹھے رہنا بھی سُستی کا ایک سبب ہے، اِتنا کھائیے جو آپ کے جسم کے کام آئے،تلی ہوئی مُرَغن غذائیں، پِزّا، برگر وغیرہ کھانے سے پہلے 101مرتبہ سوچ لیجئے کہ آپ اِن کو ہضم کر پائیں گے؟ نارمل کھانا کھانے کے بعد واک(Walk) کرلیجئے، طبیعت ہشاش بَشّاش رہے گی اور سُستی دور بھاگے گی، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ (7)مصروف رہئے: بِلا مقصد فارِغ رہنا سُستی کو دعوت دیتا ہے، خود کو عِبادت و نیکیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کیجئے (8)ٹالنے سے بچئے: کاموں کو جمع کرلینے سے ذِہْن بوجھل ہوجاتا ہے، اپنا کام پہلی فرصت میں کرنے کی عادت ڈالیں، پینڈنگ(Pending) نہیں ہوگی تو سُستی بھی نہیں چھائے گی۔ (9) جدول(Schedule) بنا لیجئے: کام کرنے میں ترتیب نہ ہونا(یعنی کاموں کاکوئی جدول(Schedule) نہ ہونا،جب جودِل کیا وہ کام کر لیا) بھی سُستی کی ایک وجہ ہے، مشکل کام کے لئے اپنا فریش ٹائم چنئے، ہوسکے تو ایک لسٹ بنالیں کہ کونساکام پہلے کرنا ہے کونسا بعد میں (10)موڈ نہیں، اُصول کو بنیاد بنائیے: کام کرنے کیلئے اپنے موڈ پر اِنحِصار نہ کریں بلکہ اُصول پیشِ نظر رکھئے،مثلاً یہ اُصول بنایا جاسکتا ہے کہ کل کیوں! آج کیوں نہیں؟(11)جوش کےساتھ ساتھ ہوش سےبھی کام لیجئے: ایک دَم اپنے اوپر زیادہ کام نہ لادیں کہ بس آج سے ایک گھنٹا پیدل چلا کروں گا، 15 مِنَٹ سے شروع کرلیجئے، پھرتھوڑا تھوڑا وقت بڑھاتے جائیے، ایک گھنٹا پیدل چلنے کی عادت بھی بن جائے گی۔ (12)مشقّت پر نہیں نتیجے پر نظر رکھئے: کام کیسا ہی مشکل ہو اگر اُس کا پھل میٹھا ہے تو مشقّت کی کڑواہٹ پر نہیں نتیجے کی مٹھاس پر نظر رکھئے (13)اپنے کام خود کیجئے: اپناہرکام دوسروں سے کروانے کی عادت بنالینابھی سُست بنادیتا ہے، جو کام آپ خود کرسکتے ہیں اُس کے لئے دوسروں پر اِنحِصار نہ کیجئے (14) اندازِ زِندگی(Life Style)تبدیل کیجئے: سوشل میڈیا (Social Media) کے غیرشرعی و غیرضروری اِستعمال اور ریموٹ (Remote) ہاتھ میں لئے گھنٹوں فضول وگناہوں بھرے ٹی وی پروگرامز دیکھتے رہنے سے سُستی کا بوجھ اِنسان کے کندھوں پر آجاتا ہے،اِس سے بچئےاور گناہوں سے پکی سچی توبہ بھی کیجئے (15)اپنے کاموں کو تقسیم کرلیجئے: بعض اَوقات اِنسان کام کی طَوالت سے گھبرا جاتا ہے، مثلاً اِتنی موٹی کتاب میں کیسے پڑھ پاؤں گا، یہ سوچ کر سُست ہونے کی بجائے آپ روزانہ کےپانچ، دس صفحےپڑھنے کی نیّت کرلیں گے تو پوری کتاب پڑھنا قدرے آسان ہوجائے گا۔ (16)روٹین بنائیے: ہفتے میں 3 دن خوب چستی سے کام کیا پھر 4 دن خوابِ خرگوش کے مزے لے لئے، اِس طرح سُستی ختم نہیں ہوگی بلکہ روزانہ کی ایک روٹین بنالیجئے، پھر اُس پر پابندی سے عمل کیجئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں سُستی وکاہلی سے نجات عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نمازوں میں مجھے ہرگز نہ ہو سُستی کبھی آقا                 پڑھوں پانچوں نمازیں باجماعت یارسول اللہ

                                                                                           (وسائلِ بخشش( مُرمّم)،ص332)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مُدَرِّس مرکزی جامعتہ المدینہ، باب المدینہ کراچی

 

Share