علمائے کرام، شخصیات، اِسلامی بھائیوں، مدنی منّوں اور اِسلامی بہنوں کے تأثرات

علمائے کرام اور دیگر شخصیات کے تأثرات (اقتباسات)

(1)مولانا محمد عرفان قادری (خطيب مرکزی جامع مسجد، فتح جنگ، اٹک پنجاب):اہلِ سنّت و جماعت کی نمائندہ اور ريڑھ کی ہڈی کی حيثيت رکھنے والی جماعت دعوتِ اسلامی کا ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ چار دانگ عالَم ميں دُھوميں مچانے کے ساتھ ساتھ فیضان تقسيم فرما رہا ہے اور دورِ حاضر ميں بيش بہا مسائل کا مجموعہ ہے جس ميں عبادات کے علاوہ معيشت و معاشرت اور دستورِ زندگی کے شرعی پيمانوں پر نہايت عمدگی کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے جو کہ ہر طبقے کے لوگوں کے لئے مفيد تَر ہے اور بالخصوص ايسے موضوعات جن پر عام طور پر نہيں لکھا جاتا مثلاً شوہر کو کیسا ہونا چاہئے؟ساس کو کيسا ہونا چاہئے؟ بہو کو کيسا ہونا چاہئے؟ اميدِ واثِق ہے کہ يہ گوہرِ ناياب بے مقصد قسم کا لٹريچر پڑھنے والوں کے لئے دنیا ميں عزتوں کا باعث اور آخرت ميں کاميابيوں کا سامان فراہم کرے گا۔ (2)مولانا محمد منيب الرحمٰن (مدرس جامعہ صراط القراٰن شاہکوٹ، ضلع ننکانہ پنجاب): ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ مطالعہ کرنے کا شرف ملا علمی و اصلاحی اعتبار سے ہر شعبہ زندگی سے تعلّق رکھنے والوں کے لئے بہترين مجموعہ پايا مذہبی و اصلاحی شماروں ميں ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ايک منفرد مقام رکھتا ہے اللہ کريم اسے ہم سب کی بلا حساب مغفرت کا ذريعہ بنائے، اٰمین۔ (3)مولانا حافظ ممتاز علی ثانوی جنیدی (مدرس جامعہ جنیدیہ غفوریہ، کارخانہ پشاور):دعوتِ اسلامی اہلِ سنّت جماعت کی ایک مُخلص تحریک ہے اس کا ہر شعبہ دوسرے سے ممتاز ہے خاص کر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ سے بہت سے لوگ مُستفیض ہورہے ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ والوں کی اس کاوش کو مزید ترقی، عروج اور بلندیاں عطا فرمائے، اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ ،امّید ہے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ مزید اپنی برکتیں دکھائے گا۔

اسلامی بھائیوں کے تأثرات (اقتباسات)

(4)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ دعوتِ اسلامی کی ایک تاریخی کاوِش ہے میں ہر ماہ پابندی سے اس کا مطالعہ کرتا ہوں یہ کثیر علمِ دین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ تمام ہی مضامین کو بہت اچّھی طرح سے مُرتّب کیا گیا ہے۔(محمد عمران عطاری، واہ کینٹ، ضلع راولپنڈی) (5)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا ہر مضمون مدینہ مدینہ ہے، سلسلہ فیضانِ جامعۃُ المدینہ کا اِجرا بہت اچّھا لگا۔(اشفاق احمد عطاری، جامعۃُ المدینہ فیضانِ عثمان غنی، گلستان جوہر باب ُالمدینہ کراچی)

مَدَنی مُنّوں اور مَدَنی منیّوں کے تأثرات (اقتباسات)

(6)میں نے ذُوالْحِجَّۃ الحرام کے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ میں ”ضد کیوں؟“ اور”جانوروں کی سچّی کہانی“ پڑھی بہت اچّھی تھی۔(بنتِ ندیم عطاریہ، مدرسۃ المدینہ ،باب المدینہ کراچی) 

اسلامی بہنوں کے تأثرات (اقتباسات)

(7)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“مَا شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنا فیضان لُٹا رہا ہے پڑھ کر دل کو حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے ایک ماہ کا پڑھتے ہی اگلے ماہ کے ماہنامے کا انتظار رہتا ہے۔(اسلامی بہن، عارف والا، ضلع پاکپتن) (8)”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“مَا شَآءَ اللّٰہ! ہمیشہ کی طرح قابلِ رشک اور نہایت دلچسپ ہے اس کے تمام سلسلے بہترین ہیں خاص طور پر دار الافتاء اہلِ سنّت اور تفسیرِ قراٰن۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے ہماری دعوتِ اسلامی کا عروج یونہی قائم و دائم رہے۔ اٰمین۔(اسلامی بہن ، بابُ المدینہ کراچی)

آپ کے سوالات کے جوابات

حجامہ کی حقیقت

سوال:کیا فرماتے ہیں عُلَمائے دین و مفتیانِ شرع متین اِس بارے میں کہ حجامہ کروانا سنّت ہے یا نہیں؟ آجکل بہت سے حجامہ سینٹر کھلے ہوئے ہیں، ایک تو اِسے سنّت کہتے ہیں اور دوسرا کئی بیماریوں سے شِفا یابی کا دعوی کرتے ہیں۔ اِس کی اِسلام میں کیا حقیقت ہے؟ رہنمائی فرمادیجئے۔ سائل:محمد حیدر عطاری (راولپنڈی)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

’’حجامہ‘‘ عَرَبی کا لفظ ہے، اِس کا معنی ہے پچھنے لگانا۔ حجامہ کروانا حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابِت ہے، اَحادیثِ طیّبہ میں حجامہ کی ترغیب بھی دی گئی اور اِسے شِفا یابی کا سبب بھی قرار دیا گیا۔

حجامہ اَحادیثِ طیّبہ سے ضرور ثابت، بلکہ بعض میں جسم کے کچھ مقامات کی نشاندہی بھی فرمائی گئی کہ اِن میں حجامہ کروانا بہت مفید ہے، مگر اِن پر اپنی مرضی سے عمل نہیں کرنا چاہئے، بے شک اَحادیث میں تجویز فرمائے گئے علاج برحق ہیں، لیکن اِن کا حکم خُصوصی طور اَہلِ عَرَب کی کیفیات و اَمراض کو مدِّنظر رکھتے ہوئے فرمایا گیا، جیسا کہ کلونجی کے متعلق وارِد ہوا کہ اِس میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفا ہے، اِس کے تحت مُحدِّثینِ کِرام نے یہی فریا: یہاں عَرَب کی عام بیماریاں مراد ہیں، جبکہ ہمارے مزاج و امراض اَہلِ عرب سے قدرے مختلف ہیں، لہٰذا بغیر طبیبِ حاذِق کے مشورے کے پچھنے نہ لگوائے جائیں۔

عَلاوہ ازیں خیال رہے کہ حجامہ بھی دیگر علاجوں کی طرح باقاعِدہ ایک علاج ہے، اِس میں جسم سے غیر مقصودی خون نکالا جاتا ہے، اور اِس بات  کو  اِس فن کے لوگ ہی پہچانتے ہیں، لہٰذا حجامہ کے لئے بھی دیگر علاجوں کی طرح حجامہ کرنے والے کا حقیقی ماہر ہونا ضروری ہے، تا کہ حقیقی فوائد حاصل ہو سکیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبــــــــــــــــہ

ابوصالح مفتی محمد قاسم قادری

جانور ذَبح کرتے وقت تکبیر بھول جائے تو

سوال:کیا فرماتے ہیں عُلَمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اِس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی مسلمان جانور ذَبْح کرتے وقت تکبیر کہنا بھول جائے تو  اُس ذَبْح کردہ جانور کا گوشت کھانا حلال ہے یا نہیں؟(سائل:قاری ماہنامہ فیضانِ مدینہ)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر  واقعی کوئی جانور ذَبْح کرتے وقت تکبیر کہنا بھول جائے تو حرج نہیں، اُس جانور کا گوشت کھانا حلال ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

عبدہ المذنب محمد فضیل  رضاالعطاری

سنّتِ مُؤکّدہ چھوڑنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں عُلَمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اِس مسئلے کے بارے میں کہ جو شخص ہمیشہ سُنّتِ مُؤکدہ چھوڑ دیا کرے،  اُس کے متعلّق شرعی حکم کیا ہے؟ بیان فرمادیں۔

(سائل:قاری ماہنامہ فیضانِ مدینہ)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سُنّتِ مؤکدہ کا ایک آدھ بار ترک کرنا اِساءت یعنی بُرا ہے اور عادتاً ترک کرنا گناہ ہے، لہٰذا جو عادتاً سُنّتِ مُؤکدہ ترک کرتا ہے یا پڑھتا ہی نہیں ضرور گنہگار ہے، اُس پر اِس گناہ کے فعل سے توبہ واجب ہے، آئندہ سُنّتِ مُؤکدہ کی پابندی کا اِلتِزام کرے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

عبدہ المذنب محمد فضیل  رضاالعطاری

 

 

Share

Comments


Security Code