دِلوں پر حکومت

اللہ پاک کی عطا سےہمارے غوثِ پاک علیہ رحمۃ اللہ الرَّزَّاق پىدائشى ولى تھے، آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بے شمار کرامتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ لوگوں کے دل آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہکےقبضے میں تھے،چنانچہ شیخ شہابُ الدِّین عمر سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: مجھے  علمِ کلام کا بہت شوق تھا، میں نے اس کی کتابیں بھی حفظ کر لیں اور اس میں خوب ماہر ہو گیا تھا ۔ میرے چچا مجھے اس سے روکا کرتے۔ایک دن وہ  مجھے بارگاہِ غوثیت میں لے گئے اور راستے میں فرمایا: اے عمر! ہم اِس وقت اُن کے حضور حاضر ہونے کو ہیں جن کا دل اللہ تعالٰی کی طرف سےخبر دیتاہے لہٰذا اُن کے سامنے احتیاط کے ساتھ حاضر ہونا تاکہ ان کے دیدار کی برکتیں پاؤ۔ وہاں پہنچ کر میرے چچا نے غوثِ پاکعلیہ رحمۃ اللہ الرَّزَّاق سے عرض کی: میرے آقا! یہ میرا بھتیجا علمِ کلام میں آلودہ ہے میں منع کرتا ہوں مگر نہیں مانتا۔آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےمجھ سے فرمایا : اے عمر! تم نے علمِ کلام میں کون سی کتاب حفظ کی ہے؟ میں نے عرض کی:فلاں فلاں کتابیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنا مبارک ہاتھ میرے سینے پر پھیرا،خدا کی قسم! ہاتھ ہٹنے نہ پایا تھا کہ مجھے اُن کتابوں سے ایک لفظ بھی یاد نہ رہا اور اُن کے تمام مَطالب اللہ تعالٰی نے مجھے بُھلا دیئے اور میرے سینے میں فوراً علمِ لَدُنّی بھردیا، تو میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے پاس سے علمِ الٰہی کا گویا(بیان کرنےوالا) ہوکر اُٹھا اور آپ نے مجھ سے فرمایا:تمہارے بعدعراق میں کوئی اس درجہ شہرت کو نہ پہنچے گا۔( بہجۃ الاسرار،    ص70) اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خانعلیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں:اس  سے بڑھ کر دِلوں پر قابو اور کیا ہو گا کہ ایک ہاتھ مار کر تمام حفظ کی ہوئی کتابیں یکسر مَحْو فرما  دیں (یعنی مِٹا دیں)کہ نہ ان کا ایک لفظ یاد رہے اور نہ اس علم کا کوئی مسئلہ اور ساتھ  ہی علمِ لَدُنّی سے سینہ بھر دیں۔ (فتاویٰ رضویہ،ج21،ص390)

غرض آقا سے کروں عرض کہ تىرى ہے پنا  ہ          بندہ  مجبور  ہے  خاطِر  پہ  ہے  قبضہ  تىرا (حدائقِ بخشش،ص30)

 (یعنی مىں اپنا مطلب اور غرض حضور غوث پاکعلیہ رحمۃ اللہ الرَّزَّاق کى بارگاہ مىں عرض کرتا ہوں اور آپ کى پناہ مىں آتا ہوں کىونکہ آپ کا غلام (احمد رضا) مجبور ہے اور اس کے دل  پر آپ کا قبضہ وحکومت ہے۔)کرامت کسے کہتے ہیں؟ولی سے جو بات خلافِ عادت صادِر ہو اُس کو کرامت کہتے ہیں۔ (بہارِ شریعت،ج1،ص58) کرامت کی دو قسمیں ہیں:(1) محسوسِ ظاہری (2) معقولِ معنوی۔عوام صرف کراماتِ محسوسہ کو جانتے ہیں جیسے کسی کو دل کی بات بتا دینا، گزشتہ و موجودہ وآئندہ غیبوں کی خبر دینا، پانی پر چلنا، ہوا پر اُڑنا،صدہا منزل(ہزاروں میل) زمین ایک قدم میں طے کرنا اورآنکھوں سے چُھپ جانا کہ سامنے موجود ہو اور کسی کو نظر نہ آئیں جبکہ کراماتِ معنویہ کو صرف خواص پہچانتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اپنے نفس پر شریعت کے آداب کی حفاظت رکھے،عمدہ خصلتیں (اوصاف)حاصل کرنے اور بُری عادتوں سے بچنے کی توفیق دیا جائے،تمام واجبات ٹھیک ادا کرنے پر اِلْتِزام (استقامت) رکھے،ان کرامتوں میں مَکْر و اِسْتِدْراج (دھوکادہی)کو دَخْل نہیں اور کرامتیں جنہیں عوام پہچانتے ہیں ان سب میں مَکْرِ نِہاں(چھپے ہوئے دھوکے) کی مُداخَلَت ہو سکتی ہے پھریہ بھی ضَروری ہے کہ وہ ظاہری کرامتیں اِستقامت کا نتیجہ ہوں یا خود اِستقامت پیدا کریں ورنہ کرامت نہ ہو گی۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص549تا 550)

میرا تمام عاشقانِ رسول  کو مَدَنی مشورہ ہے کہ وہ حضور غوثِ اعظم،پیرانِ پیر،روشن ضمیر، محبوبِ سُبْحانی،شہبازِلامَکانی حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادِرجیلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیں اور امیرِاہل سنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سے سلسلۂ عالیہ قادِریہ  رضویہ میں داخل ہو جائیں۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں فیضانِ غوثِ اعظم سے مالا مال فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 

Share