اہم نوٹ



مسجد کے چندے سے چراغاں کرنا کیسا؟

سُوال:کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ کیا مسجد کے چندے سے مسجد میں چراغاں کرنے کے لئے لائٹیں خریدسکتے ہیں یا نہیں ؟خریدنے میں یہ آسانی ہے کہ کرائے پر لینے کی بَنسبت آجکل بہت کم قیمت پر لائٹیں خریدی جاسکتی ہیں اور مختلف مواقع یعنی شبِ براءت اوررمضانُ المبارک کی بڑی راتوں میں چراغاں کرنے میں آسانی رہے گی ؟ سائل:محمد حسن عطاری (لائٹ ہاؤس،باب المدینہ کراچی)


اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ا نسانوں کو گمراہی سے بچانے اور سیدھا راستہ چلانے کے لئے انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کو مبعوث فرمایا اور انہیں بے  شمار کمالات اور خصوصیات سے نوازا، جن میں سے ایک معجزہ ہے۔ معجزہ کسے کہتے ہیں؟: اعلانِ نبوت کے بعد نبی سے ایسا عجیب و غریب کام ظاہر ہو جو عادتاً ممکن نہیں ہوتا وہ ”معجزہ“ کہلاتا ہے۔


مشرکینِ مکّہ کاظلم وستم  بڑھا تو اہلِ ایمان بارگاہِ رسالت سے اجازت پاکر مکّہ شریف سے مدینۂ منوّرہ ہجرت کرگئے،پھر جب کفّار نے غلبۂ اسلام سے خوف زدہ  ہو کر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےقتل کاناپاک منصوبہ بنایا توبحکمِ الٰہی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی سیّدنا صدیقِ اکبر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے ساتھ ہجرت فرمائی۔


فقط دُنْیَوی زندگی سُدھارنے کی فکر میں کوشش کرنا، آخِرَت کی بھلائی کے لئے فکر و عمل سے غافل ہونا،اپنا اِحْتِساب کرتے ہوئے آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کا عَزْم نہ کرنا سَراسَر نقصان دہ ہے، یقیناً سمجھدار وہی ہے جس نے حسابِ آخرت کو پیشِ نظر رکھا اور اپنے نَفْس کا مُحَاسَبہ کیا۔ کیونکہ اپنے اَعمال میں غور و فِکْر کرنے سے نہ صِرف فکرِ آخرت پیدا ہوتی بلکہ گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کا جذبہ بھی نصیب ہوتا ہے۔


اُمتی پر حقوقِ مصطفیٰ

اِرشادِباری تعالٰی ہے: (اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸)لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹))

ترجمہ: بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا تاکہ(اے لوگو!)تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔(پ26،الفتح :8،9)

مرزائی، احمدی اور قادیانی میں کیا فرق ہے؟، چوری کی بجلی سے چراغاں کرنا کیسا؟

پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کیسے خوش کریں؟

سوال:رَبیع الاوّل کے مہینے میں ہم کون سے ایسے کام کریں کہ جن کی بدولت ہم پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خوش کرسکیں؟

جواب:ہمیں رَبیع الاوّل کے مہینے میں بھی پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خوش کرنا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ وہ کام کرنے ہیں کہ جن سے اللہ پاک بھی راضی ہو اور مدینے والے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  بھی خوش ہوں،

 

تذکرۂ سیّدنا طفیل بن عَمْرو دَوسی رضی اللہ تعالٰی عنہ

حضرت سیّدُنا  ذُوالنُّور  طُفیل بن عَمرودَوسی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما یمن کے مشہورقبیلے’’دَوس‘‘کے سردار اور رئیس تھے۔فہم و فراست کے مالک اور اعلیٰ پائے کے شاعر تھے۔اسلام کیسے  قبول کیا؟:آپرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ خودبیان فرماتے ہیں کہ  شمعِ اسلام کے نور سے ابھی صرف مکّۂ مکرمہ  کی پہاڑیاں جگمگارہی تھیں کہ ایک دن میں کسی کام سے  مکّۂ مکرمہ آیا تو اہلِ قریش میرے پاس آئے اور رحمتِ عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے:

انسانی جان کا تحفظ اور اسلام

اللہ تعالٰی نے انسان کو”بہترین مخلوق“کےاعزاز سے نوازا،  فضیلت و بزرگی   اور علم  و شرف کےقابلِ فخر  تمغے عطا فرماکر  اسے مسجودِ ملائکہ  بنایا۔حُسنِ صوری و معنوی  عطا فرما کر ”احسنِ تقویم“ کا تاج پہنایا اور  اپنی عظیم  کتاب میں اس کی  جان  کی حُرمت کا اعلان فرمایا۔(پ 15،بنی اسرائیل:33)

ماہنامہ ربیع الاوّل کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ ربیع الاوّل کی بُک لائبریری