اہم نوٹ




اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ہے۔*اس کا کوئی شریک نہیں۔* وہی عبادت کے لائق ہے۔ا سے کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔*اس کی ذات وصفات کےسوا کوئی چیز نہ تھی، پھرسب چیزیں اسی نے پیدا کیں۔*یہ اونچےآسمان، وسیع و عریض زمین، چمکتا دمکتا سورج، روشن چاند، جھلملاتےستارے، بلند و بالا پہاڑ، بڑے بڑے سمندر، بل کھاتےدریا، سردی، گرمی، مختلف قسم کے موسم، ہوائیں، بادل، بارش، انسان، جنات، فرشتے الغرض کائنات کی ہر ہر شَےاسی نے پیدا کی ہے۔



نوجوان ہو یا بوڑھا،مرد ہویا عورت ! کامیابی کی خواہش کس کو نہیں ہوتی ، لیکن ضروری نہیں کہ ہرشخص کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے ۔البتہ کچھ صِفات ایسی ہیں جنہیں اپنا کر ہم کامیابی کی راہ پر چل سکتے ہیں ، مثلاً



عشقِ رسول، عِلْم وحکمت،تقویٰ وپرہیزگاری اور شریعت کی پاس داری اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا میمونہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی مُبَارَک سیرت کے نمایاں اوصاف ہیں۔ذوالقعدۃُ الحَرام 7 ہجری کو جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمرۃ القضاء کی ادائیگی کے لئے مکۂ مکرمہ تشریف لائے تب چچا جان حضرت عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی درخواست پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو نِکاح کا پیغام بھیجا۔ جب آپ کو پیغامِ نکاح ملاتو اُس وَقْت آپ اُونٹ پر سوار تھیں، یہ دل افروز خبر سنتے ہی فرطِ مَسَرَّت سے کہنے لگیں: اَلْبَعِیْرُ وَمَا عَلَیْہِ لِلّٰہِ وَ لِرَسُوْلِہٖ یعنی اونٹ اور جو اس پر ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ہے۔(فیضانِ امہات المؤمنین،ص321ملخصاً وسیرت حلبیہ،ج3، ص91)



مساجد کے متعلقین کا تربیتی اجتماع:16فروری2017ء بروز جمعرات ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کے بعد دعوتِ اسلامی کی مجلس ائمَۂ مساجد اور مجلس فیضانِ مدینہ کے تحت پاکستان بھر میں 69 مقامات پر بذریعہ لِنک مساجد کےائمۂ کرام، خطبا، مؤذنین اور مسجد کمیٹی کے اراکین کا تربیتی اجتماع منعقد ہوا جس میں ہزاروں اسلامی بھائیوں نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اس تربیتی اجتماع میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے علاوہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کےنگران حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے بھی تربیت فرمائی۔


جھوٹی گواہی اور الزام تراشی کی مذمت

اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)

ترجمہ: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے عِلم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

 (پ 15، بنی اسرائیل: 36)

ہاتھی آیا، ہاتھی آیا

پیارے مَدَنی مُنّو اور مَدَنی مُنّیو!صَدیوں پرانی بات ہے، ایک لڑکا’’اَنْدُلُس‘‘(اسپینSpain) کے مشہور شہر ’’قُرْطُبَہ‘‘ (Cordoba) میں رہاکرتا تھا ، اُسے علمِ دین حاصل کرنے کا بہت شوق تھا ،وہ مختلف عُلَما کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ان سے علم حاصل کیا کرتا ۔ علم حاصل کرنے کے شوق میں وہ ’’اَنْدُلُس‘‘ سے ’’مدینہ مُنَوّرہ‘‘جا پہنچا اور وہاں ایک بہت بڑے عالمِ دین (Scholar)سے محنت اورلگن کے ساتھ علم حاصل کرنے لگا۔

اخراجات پر کنٹرول کیجئے

ہمارا اِسلام دین اور دنیا کے معاملات میں ہمیں مِیانہ روی کا درس دیتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کی بہت ساری اُلجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ایک گھر کو اَمْن کا گہوارَہ بنانے کے لیے ”اَخْراجات پر کنٹرول رکھنا“بھی بے حد ضروری ہے کہ اس میں خوشی و خوشحالی اور سُکون و عافیت ہے۔ اِس کے بَرعکس اگر خرچ کو مُنَظَّم انداز میں نہ چلایا جائے، پیسہ بے دَریغ استعمال کیا جائے،بچت پر توجہ نہ دی جائے اور اَخراجات میں ”کفایت شِعاری (Frugality)“ کو ترک کردیا جائے تو بے سُکونی،بےاطمینانی،بےبرکتی،شِکوہ وشکایت،گھریلو جھگڑے اور ذہنی الجھن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

علمائے کرام، شخصیات ،اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے تأثرات

علمائےکرام اور دیگر شخصیات کے تاثرات(اقتباسات) (1)حضرت علامہ مولانا محمد منشاء تابش قصوری دَامَتۡ بَرَکاتُہُم الۡعَالِیَہ(مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور):”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا پہلا شمارہ فردوسِ نگاہ بنا، صوری و معنوی خوبیوں سے مُرَصَّع ہے، کاغذ، طَباعَت، اِشاعَت ایک سے ایک بڑھ کر۔ مَاشَآءَ اللہ، خوب اور محبوب۔ دعا ہے ”دعوتِ اسلامی“ کا ہر شعبہ عروج و ترقی کی طرف گامزن رہے اور امیرِ دعوتِ اسلامی کو اللہ تَعَالیٰ صحت و تندرستی کی نعمت سے بہرہ مند فرمائے۔“

ماہنامہ جمادی الاخر کی ویڈیوز لائبریری