اہم نوٹ



تقدیر کیا ہے؟: دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی ،بَدی وہ سب اللہ تعالیٰ کے علمِ ازلی(1) کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔(کتاب العقائد،ص24)

تقدیر کا ثبوت: تقدیرکا ثبوت قراٰن وحدیث میں موجود ہے جیساکہ اس آیتِ مبارکہ میں ہے: (اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(۴۹)) ترجمۂ  کنزالایمان:بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔(پ27،القمر:49)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

([1]) خدا کا قدیم علم جو ہمیشہ سے ہے۔


ہمارا پیارا وطن اِسلامی جمہوریہ پاکستان 14 اگست 1947 عیسوی بمطابق27رمضان المبارک 1366ہجری کو مَعْرضِ وُجود میں آیا۔اللہ تَعالٰی  اِس کی حفاظت فرمائے، دشمنوں کی میلی نظر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اِس عظیم نعمت کی حقیقی قدْر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


زندگی کے سفر میں انسان ہمیشہ ایک جیسی حالت میں نہیں رہتا، کوئی دن اس کے لئے نویدِ مَسَرَّت (خوشخبری)لے کر آتا ہے تو کوئی پیامِ غم، کبھی خوشیوں اور شادمانیوں کی بارش برستی ہے تو کبھی مصیبتوں اور پریشانیوں کی آندھیاں چلتی ہیں۔ ان آندھیوں کی زَد میں کبھی  انسان کی ذات آتی ہے، کبھی کاروبار  اور کبھی گھر بار۔ الغرض! مصیبتوں  اور پریشانیوں سے  انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسی لئے اسلام نے مصیبتوں میں صَبْر اور خوشیوں میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنے کی تعلیم دی ہے۔


ذیقعدۃ الحرام اِسلامی سال کا گیارہواں مہینا ہے۔ اِس میں جن صحابۂ کِرام، اَولیائے عُظَّام اور علمائے اِسلام کا وصال ہوا، اُن میں سے بعض کا مختصر ذِکْر 5عُنوانات کے تحت کیا گیا ہے۔ صحابۂ کِرام علیہمُ الرِّضوَان (1) اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتُنا امِّ سلمہ ہند بنتِ ابواُمیّہ رضی اللہ تعالٰی عنہا عرب کے معزّز قبیلے قریش میں پیدا ہوئیں، آپ فَہم وفراسَت کی مالِک، عبادت گزار اور ماہرِ فقہ تھیں۔ شوّال 4ہجری کو نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے نکاح میں آئیں اور وصال ذیقعدہ 59 یا 61ھ کو مدینۂ منوَّرہ میں ہوا، مزار مُبارک جنّتُ البقیع میں ہے۔ (طبقاتِ ابن سعد،ج8،ص69)


عاشقوں کی عبادت

ارشادِباری تعالیٰ ہے: ( وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ- ) ترجمہ:اور اللہ  کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے۔(پ4،اٰل عمرٰن،97)

تفسیر:اس آیت میں حج کی فرضیت اور  استطاعت کی شرط  کا بیان ہے۔ حدیث میں استطاعت کی تشریح ”زادِراہ“ اور ”سواری“  سے فرمائی ہے۔ ( ترمذی،ج5،ص6،حدیث:3009)

علمائے کرام، شخصیات ،اِسلامی بھائیوں اور اِسلامی بہنوں کے تأثرات

علمائے کرام اور دیگر شخصیات کے تأثرات(اقتباسات)

(1)مولانامحمد مشتاق حسین قادری (امام و مدرس جامع مسجد محمدیہ حنفیہ غوثیہ، مظفر آباد، کشمیر) ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ میں دنیا بھر میں نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور علمِ شریعت کو عام کرنے کے لئے خُصوصی طور پر دلوں میں مَحبَّتِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل واحد اور منفرد مجلّہ ہے۔

حضرت سیّدنا سعد بن معاذ رَضِی اللہُ تَعَالٰی عنْہ

میدانِ بدر میں ابھی جنگ کا بازار گرْم نہ ہوا تھا کہ ایک  صحابیٔ رسول  نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَارَسُو لَ   اللّٰہ   صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم! کیا ہم آپ کے لئے ایک سائبان نہ بنادیں جس میں آپ تشریف فرما ہوں اور قریب ہی آپ کی سواری باندھ دی جائے پھر ہم اسلام کے دشمنوں سے ٹکراجائیں،اگر اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں فتح دی تو یہ ہماری خواہش کے مطابق ہوگا اور اگر دشمن ہم پر غالب آگیا تو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر مدینہ طیّبہ تشریف لے جائیے گا،یہ سن کر مدنی سرکار صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے اپنے پیارے صحابی کے لئے تعریفی کلمات ادا کئے اور دُعائے خیر کی۔(اسد الغابہ، ج3،ص324)

پانی اور صحت

(اس مضمون کی تیاری میں مدنی چینل کے سلسلے ’’ مدنی کلینک ‘‘ سے بھی مدد لی جاتی ہے)

قُراٰنِ پاک میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کا فرمانِ عالیشان ہے:

(وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ-) ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی۔(پ17،الانبیاء:30) یعنی پانی کو جانداروں کی حیات کا سبب کیا۔(خزائن العرفان)

ماہنامہ ذوالقعدۃ الحرام کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ ذوالقعدۃ الحرام کی بُک لائبریری