غوثِ پاک اور علمِ دین/ مسجدیں آباد کیجئے

غوثِ پاک اور علمِ دین

غوثِ پاک علیہ رحمۃ اللہ الرَّزَّاق 18سال کی عمر میں بغداد تشریف لائے اور اُس وقت کے شُیوخ و اَئمہ، بُزُرگانِ دین اور محدِّثین کی خدمت کا قصد فرمایا۔ اوَّلاً قراٰن کو رِوایت و دِرایت اورتجوید و قراءت  کے اَسرارو رموز کے ساتھ حاصل کیااور زمانے کے بڑے محدِّ ثین اور اَہلِ فضل وکمال اورمستند عُلَمائے کِرام  سے سِماعِ حدیث فرماکر علوم کی تحصیل و تکمیل فرمائی، حتّی کہ تمام اُصولی، فروعی، مذہبی اور اَخلاقی علوم میں عُلَمائے بغداد سے ہی نہیں بلکہ تمام ممالکِ اِسلامیہ کے عُلَما  سے سبقت لے گئے اور سب نے آپ کو اپنا مرجَع بنا لیا۔ (اخبار الاخیار،ص36ملخصاً)

حُضور غوثِ پاک  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ   کے مدرسے میں لوگ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہسے تفسیر، حدیث، فقہ،علمُ الکلام پڑھتےتھے، دوپہر سےپہلےاوربعد دونوں وقت  لوگوں کو تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اُصول اور نَحْو پڑھاتے تھے اور ظہر کے بعد مختلف قراءتوں کے ساتھ قراٰنِ مجید پڑھاتے تھے۔(بہجۃ   الاسرار، ص225ملخصاً)

علامہ شیخ عبدُالحق محدِّث دہلوی  علیہ رحمۃ اللہ القَوی آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکے عِلمی کمالات کے متعلق ایک رِوایت نقل کرتے ہیں کہ ایک روز کسی قاری نے آپ کی مجلس میں قراٰنِ مجید کی ایک آیت تلاوت کی تو آپ نے اُس آیت کی تفسیر میں پہلے ایک پھر دو اور اِس کے بعدتین یہاں تک کہ حاضرین کے عِلم کے مطابق گیارہ معنی اور دیگر وجوہات بیان فرمائیں جن کی تعداد 40تھی اور ہر وجہ کی تائید میں علمی دلائل بیان فرمائے، آپ کے علمی دلائل کی تفصیل سے سب حاضِرین متعجب ہوگئے۔ (اخبار الاخیار،ص11)(اُمِّ خضر عطّاریہ مدنیہ، جامعۃُ المدینہ للبنات)

مسجدیں آباد کیجئے

مساجد کو دینِ اسلام میں بڑی اَہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ قراٰن و سنّت کی تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور مسلمان یہاں اِنفِرادی و اِجتِماعی طور پر اللہعَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے ہیں۔ چنانچہ مساجد کو آباد کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:( اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ) (پ10،التوبۃ:18)  ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جواللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نمازقائم رکھتے ہیں اورزکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں  ڈرتے۔مسجدیں آباد کرنےکی مختلف صورتیں: مُفَسِّرِ قراٰن مفتی اَحمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: خیال رہے کہ مسجد آباد کرنے کی گیارہ صورتیں ہیں:(1)مسجد تعمیر کرنا (2)اُس میں اِضافہ کرنا (3)اُسے وسیع کرنا (4)اُس کی مرمّت کرنا (5)اُس میں چٹائیاں، فرش وفروش بچھانا (6)اُس کی قلعی چونا کرنا (7)اُس میں روشنی و زینت کرنا (8)اُس میں نمازو تلاوتِ قراٰن کرنا (9)اُس میں دینی مَدارِس قائم کرنا (10)وہاں داخل ہونا، وہاں اکثر جانا، آنا، رہنا (11)وہاں اذان وتکبیر کہنا، اِمامت کرنا۔ مزید فرماتے ہیں: ’’مسجد بنانے یااُسے آباد کرنے یا وہاں باجماعت نماز اداکرنے کا شو ق  صحیح مومن کی علامت ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایسے لوگوں کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔‘‘(تفسیر نعیمی،ج 10،ص201تا204ملخصاً) داتاگنج بخش اورتعمیرِ مسجد: حضرتِ سیّدُنا داتاگنج بخش سیّد علی ہجویری علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے مرکزُالاولیاء (  لاہور) میں اپنی قِیام گاہ  کے پاس ہی مسجد کا سنگِ بنیاد اپنےدست ِمبارک سے رکھا  اور پھر اُس تعمیر پر سارا خرچہ اپنےپاس سےکیا اور خوبی کی بات یہ ہےکہ اُس مسجد کے بنتے وقت آپ نےخود مزدوروں کی طرح کام کیا اور بڑی محبّت اور جذبے کےساتھ سامانِ تعمیر اپنےسرپر اُٹھایا۔( اللہ کےخاص بندے، ص469)

اللہ عَزَّوَجَلَّسےدعا ہےکہ ہمیں مذکورہ مَدَنی پھولوں پرعمل کرنے، داتاگنج بخش رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کےنقشِ قدم پر چلنے، اَمیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تعلیمات کےمطا بق”مسجد بناؤ تحریک اورمسجد بھرو تحریک(دعوتِ اسلامی) میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینےاور دوسروں کو ترغیب دلانےکی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔

(محمد رفیق عطاری مدنی،خضدار،بلوچستان)

دونوں مؤلفین کو( فی کس) 1200روپے کا مدنی چیک پیش کیا جائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

 

 فیضانِ جامعۃُالمدینہ کےمضامین بھیجنےوالوں میں سے11منتخب نام (1)محمدقاسم شہزاد)دورۂ حدیث  شریف،مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، باب المدینہ کراچی( (2)غلام خلیل عطاری(ایضاً)(3)محمد خرم ثقلین عطاری(ایضاً) (4)عبدالوحید عطاری(ایضاً)(5)محمدشعبان رضا عطاری (ایضاً)(6)بنتِ سیّدشوکت علی (معلمہ، جامعۃالمدینہ للبنات،باب المدینہ، کراچی)(7)بنتِ شریف(معلمہ،جامعۃالمدینہ للبنات،زم زم نگر حیدرآباد) (8)بنتِ غلام مصطفیٰ(معلمہ،جامعۃالمدینہ للبنات،مرکزالاولیاء، لاہور)(9)بنتِ غلام عباس (دورۂ حدیث شریف جامعۃالمدینہ للبنات باب المدینہ کراچی) (10)بنتِ یٰسین (ایضاً) (11)بنتِ ابرار شیخ(ایضاً)

”ماہنامہ فیضانِ مدینہ (ربیع الاول1439ھ) “ کے سلسلہ ”جواب دیجئے“ میں بذریعہ قرعہ اندازی ”شکیل احمد بن غلام حیدر“ کا نام نکلاجنہیں مدنی چیک روانہ کردیا گیا۔

درست جوابات:(1)12سال کی عمر میں(2)حضرت سیّدنا طفیل بن عمرو دَوسی رضی اللہ تعالٰی عنہما درست جواب بھیجنے والوں میں سے 12 منتخب نام:(1)محمدمزمل عطاری(شکارپور،باب الاسلام سندھ)(2)علی حسن عطاری (کشمیر) (3)بنتِ رفیق (باب المدینہ، کراچی) (4) بنتِ یٰسین (مرکز الاولیاء، لاہور) (5)نوید کامران عطاری(میانوالی،پنجاب)(6) وسیم احمد عطاری (پاکپتن شریف، پنجاب) (7)محمدعلی حمزہ عطاری(منڈی بہاؤالدین، پنجاب) (8)محمد یعقوب عطاری  (گھوٹکی،باب الاسلام سندھ)، (9)محمداویس رضا (سردار آباد، فیصل آباد)، (10)بنتِ محمد عرفان(اسلام آباد)،(11)احمد رضا (ضیاءکوٹ،سیالکوٹ)، (12) محمد حنیف (راولپنڈی)

Share