وہ بزرگانِ دین جن کا وصال /عرس ربیع ُالآخر میں ہے

ربیع الآخر اسلامی سال کا چوتھا مہیناہے۔اس مہینے میں جن صحابۂ کرام، علمائے اسلام اور اَولیائے عظام کا وصال ہوا، ان میں سے 16کا مختصرذکرپانچ(5)عنوانات کے تحت کیا گیا ہے۔ صحابیات و صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان: (1)امّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا زینب بنتِ خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بہت ہی سخی ،فیاض ،غرباومساکین سے ہمدردی کرنے والی اور کھانا کھلانے والی تھیں،اسی لئے آپ کو اُمّ الْمَساکِین کہا جاتا تھا۔آپ کا وصال ربیع الآخر 4ھ میں مدینہ طیبہ میں ہوا اور تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔(شرح الزرقانی،ج4،ص416) (2)امیرالتوابینحضرتِ سلیمان بن صُرَدخُزاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ فاضل،عبادت گزار، سردارِ قوم اور مجاہد تھے، آپ کوفہ میں مقیم ہونے والے اَوَّلین صحابۂ  کرام میں سے ہیں،آپ کی  شہادت ربیع الاٰخر65 ھ کو عَیْنُ الْوَرْدَہ (رأس العین) شام کے مقام پر ہوئی۔ (معرفۃ الصحابۃ، ج2،ص461) علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام: ((3صاحب ِ نحومیر،سیّدُ المُحَقِّقِین میر سید شریف علی بن محمد حنفی جُرجانی کی ولادت 740 ھ جرجان( صوبہ گلستان) ایران میں ہوئی۔آپ متکلم، منطقی، حکیم، صوفی، مترجم، ادیب، شاعر، مفسر،مدرس، مناظراورشارح و حاشیہ نویس بزرگ تھے۔ آپ نے6 ربیع الآخر816ھ کو وصال فرمایا ،مزار مبارک شیراز (صوبہ فارس) ایران میں مرجعِ خلائق ہے (ظفرالامانی فی مختصر الجرجانی،   ص12تا15 ) (4)خاتم الفقہاء علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی قادری نقشبندی   کی ولادت 1198 ھ میں دمشق  شام  میں ہوئی۔ آپ حافظ القرآن ،جامع علوم فقہ وحدیث ،مرجع العلماء، امام العصر، مصنف کتب،قطب شام اورعظیم حنفی فقیہ تھے،21 ربیع الآخر 1252 ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک قبرستان باب الصغیر دِمَشْق (شام) میں ہے۔اپنی کتاب فتاویٰ شامی کی وجہ سے عالمی شہرت پائی۔(جدالممتار علی ردالمحتار،ج1،ص196تا205)اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام:( (5بانی سلسلہ صوفیہ علویہ مغربیہ حضرت مولائی سیّد اِدْریس الاول حسنی کی ولادت 127ھ مدینۂ منورہ میں ہوئی۔عالم دین ،سخی ،زاہد،مجاہد،ولی کامل اورتبع تابعی تھے۔ مغرب (مراکش) 172ھ میں سلطنت ادریسہ کی بنیادرکھی۔ یکم ربیع الآخر177ھ کو مرکزسلطنت ولیلی (Volubilis) میں شہید ہوئے، مزار مبارک زَرْھون المغرب(مراکش)میں مرجعِ خلائق ہے۔ (الاعلام للزرکلی،ج1،ص279، زیاراتِ مراکش،ص96) (6)استاذ الصوفیاء حضرت امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہَوَازِن قشیری کی ولادت 376ھ میں ہوئی اوروفات17ربیع الآخر 465ھ کوفرمائی، آپ کا مزار مبارک نیشاپور (ضلع خراسان) ایران میں اپنے پیرومرشد شیخ ابو علی دَقَّاق کے  پہلو میں ہے۔ آپ عالم، فقیہ، ادیب، شاعر، صوفی ،واعظِ شیریں بیاں اورمفسرِقراٰن تھے،آپ کی تصنیف رسالہ قشیریہ کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔(اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج16،ص2 ، ص  168، 169) (7)شیخِ اکبر حضرت شیخ محی الدین محمد ابن عربی قادری کی ولادت 560ھ کومُرْسِیَہ (اَنْدُلُس) میں ہوئی۔ 2ربیع الآخر 638 ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک جبلِ قاسیون دمشق شام میں ہے، آپ شریعت وطریقت کے جامع، صاحب اسرار و معرفت اوراکابراولیاءسے ہیں۔آپ کی کتب فُصُوْصُ الْحِکَم اور فتوحاتِ مکیہ بہت مشہورہیں۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج1،ص605، مرآۃ الاسرار، ص624) (8) شیخِ وقت، ولی کامل حضرت سید محمد شاہ دولہا سبز واری کی ولادت ساتویں صدی ہجری میں بخارا (ازبِکستان)میں ہوئی۔ کچھ عرصہ سبزوار(صوبہ ہرات افغانستان) میں رہے پھر باب المدینہ کراچی کو اپنا مسکن بنایا ،آپ کا وصال 17ربیع الآخر701 ھ کو ہوا، مزارمبارک کھارادر(اولڈ سٹی) بابُ المدینہ کراچی میں قبولیت دعا کا مقام ہے۔(تذکرہ بخاری شاہ، ص19تا22) (9)محبوب ِ الہٰی ،سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا سیدمحمد بخاری چشتی کی ولادت 634ھ کو بدایوں(یوپی) ہندمیں ہوئی، 18ربیع الآخر 725 ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزارمبارک دہلی میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ آپ عالم دین، ولی کامل اور شیخِ طریقت تھے۔ آپ کی تصانیف میں ”مجموعۂ ملفوظات“ اور ”فوائدالفواد“ اپنی مثال آپ ہے۔ (مرآۃ الاسرار،ص776) (10)امام الاولیاء حضرت علامہ سید ابراہیم ایرچی حسینی کی ولادت ایرچ (ضلع جالون، پنجاب) ہندمیں ہوئی۔آپ جامع علوم وفنون،وسیع النظر، کثیرالمطالعہ ،جمعِ کتب کے شائق،ولی کامل اورسلسلہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے چھبیس ویں (26) شیخ طریقت ہیں۔ 5ربیع الآخر 953ھ کو وصال فرمایا، تدفین احاطہ درگاہِ محبوب الٰہی سیدنا شیخ نظامُ الدین اولیا دہلی میں ہوئی۔(تذکرہ علمائے ہند، ص 83، شرح شجرۂ قادریہ رضویہ عطاریہ، ص 97)(11) ولی کامل، صاحب کرامات حضرت خواجہ   محکم الدین سیرانی اویسی کی ولادت 1137ھ میں گوگیرہ (اوکاڑہ) پنجاب میں ہوئی اور وصال 5ربیع الآخر 1197 ھ کو فرمایا، آپ کا مزارخانقاہ شریف (نزدسمہ سٹہ ضلع بہاول پور) پاکستان میں مرکزِ فیوض و برکات ہے۔” تلقینِ لدنی“آپ کی تصنیف ہے۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان،ج2،ص408)(12) مشہورصوفی شاعر، صاحب دیوان فرید حضرت خواجہ غلام فریدچشتی نظامی کی ولادت 1261 ھ کو چاچڑاں شریف(ضلع بہاول پور) میں ہوئی۔وصال6 ربیع الآخر 1382 ھ کو فرمایا، مزارمبارک کوٹ مٹھن شریف ضلع راجن پورپنجاب پاکستان میں مرجعِ خواص و عام ہے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان، ج2،ص371تا378) احباب اعلٰی حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزت: (13)مُریداعلیٰ حضرت ،اجمل العلما، حضرت علامہ مفتی محمداجمل شاہ   سنبھلی کی ولادت1318ھ سنبھل(یوپی) ہندمیں ہوئی،آپ جید مفتی،بہترین مدرس،کئی کتب کے مصنف،استاذالعلما، صاحبِ فتاویٰ اجملیہ (چارجلدیں)اوربانی مدرسہ اہل سنت اجمل العلوم (متصل جامع مسجدجہان خاں) سنبھل (یوپی)  ہند ہیں ۔آپ کا وصال 28ربیع الآخر 1383ھ میں ہوا،مزارمذکورہ مدرسے میں ہے۔( فتاویٰ اجملیہ ،ج1،ص 12تا56)تلامذہ و خلفائے   اعلٰی حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزت: (14)شہزادہ ٔشیخ المشائخ،حضرت مولاناسیّد ابوالمحمود احمد اشرف اشرفی   کی ولادت 1286 ھ کچھوچھہ شریف(ضلع امبیڈ کر نگر، یوپی)ہند میں ہوئی۔آپ عالم باعمل،شیخ طریقت، مناظر اسلام اورسلطان الواعظین تھے۔ 15ربیع الآخر 1347ھ کو وصال فرمایا۔مزار کچھوچھہ شریف میں ہے۔(حیات مخدوم الاولیا، ص439تا449)(15)استاذالعلماء حضرت مولانا عبد الحَیّ قادری پیلی بھیتی کی ولادت تقریباََ1299ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال 24ربیع الآخر1359ھ کو فرمایا۔ تدفین قبرستان محلہ منیرخان پیلی بھیت میں کی گئی ۔آپ ذہین وفطین عالم دین،جامع علوم وفنون ،مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے سینئرمدرس،محدث سورتی کے بھتیجے اور علمی جانشین تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی،ص253)(16) فقیہ اعظم ابویوسف محمد شریف محدث کوٹلوی   کی ولادت با سعادت 1277ھ میں کوٹلی لوہاراں (ضیاءکوٹ، سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ 6ربیع الآخر1370 ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک کوٹلی لوہاراں غربی محلہ نکھوال(ضیاءکوٹ، سیالکوٹ) پاکستان میں جامع مسجد شریفی سے متصل ہے۔آپ عالم باعمل،شیخ طریقت، مفتی اسلام، استاذالعلماء، واعظ خوش بیان، مناظر اسلام،  بانی ماہنامہ الفقیہ ،شاعروادیب اور صاحبِ تصنیف تھے۔  (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص97-100)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکنِ شوریٰ و نگران مجلس المدینۃ العلمیہ،   باب المدینہ کراچی

 

Share