Book Name:Quran Pak Ki Ahmiyat
ہے،لہٰذا تلاوت اس طرح کرو کہ تمہارےکان اسےسُنیں اوردل سمجھے۔(دین ودنیا کی انوکھی باتیں،ص۶۱)
حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کا مختصر تعارف
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بىت!اَلْحَمْدُلِلّٰہرمضان کا بابرکت مہینا جاری ہے اور 17 رمضانُ المبارک اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کا یومِ وصال ہے،لہٰذا اِس مُناسَبَت سے حُصُولِ بَرَکت اور نُزولِ رَحمَت کے لئے آپ کا مختصراً ذکرِ خیر سنتے ہیں، آئیے! پہلے ایک واقعہ سنتے ہیں،چنانچہ
اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا اَمیرُ الْمُؤمنین حضرت ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی صاحبزادی ہیں،آپ کی ولادت بعثتِ نبوی کے چوتھے سال ہوئی،آپ کی والدہ کا نام”اُمِّ رُومان“ہے، اِن کا نِکاح حُضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہجرت سے پہلے مکّے شریف میں ہوا تھا لیکن رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک گھر میں یہ مدینۂ منوَّرہ کے اندر2 شوّال کو آئیں۔یہ حُضُور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبوبہ اور بہت ہی چہیتی زوجہ ہیں۔(فیضانِ عائشہ صدیقہ،ص۱۵)
آپ صدیقہ، طیبہ، طاہرہ، زاہدہ، عابدہ، تہَجّد گزار، روزوں کی پابند، صدقہ و خیرات اور ایثار کرنے والی تھیں۔ایک مَرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہا نے70 ہزار درہم راہِ خدا میں صدقہ کئے، حالانکہ ان کی قمیص کے مبارک دامن میں جوڑ لگا ہوا تھا۔(مدارج النبوت،۲/۴۷۳)
اُمَّت کو تَیَمُّم کی آسانی آپ ہی کے صدقے میں ملی،نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وِصال آپ کے سینے پر ہوااور حضور کا روضہ ٔانورآپ کا حُجرۂ مبارکہ ہے،حضورِانورصَلَّی اللّٰہُ