Book Name:Quran Pak Ki Ahmiyat
ملیں گی،اس کی تلاوت سننے والے کو بھی خوب خوب اجر وثواب ملتا ہے ،جبکہ جو قرآنِ پاک سے منہ موڑے، اس سے دُور بھاگے ،اس کے احکامات کی پروانہ کرے ،اس سے دل نہ لگائے،اپنے سینے کو اس کے نور سے روشن نہ کرے تو ایسے بد نصیب کے لئے محرومی ہی محرومی ہے، اللہ پاک کے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس کے سینے میں کچھ قُرآن نہیں وہ وِیْران مَکان کی طرح ہے۔(جامع الترمذی، کتاب فضائل القرآن،باب (ت:۱۸)،حديث:۲۹۲۲،۴/۴۱۹)لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم کلامِ الٰہی سے خوب مَحَبَّت کرنے والے بن جائیں،اس کی تلاوت کرنے والے بن جائیں اور اس کے احکامات پر عمل کرنے و الے بن جائیں۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے اسلامى بھائىو! ہم قرآنِ کریم کی اَہَمِّیَّت سے متعلق سُن رہے تھے۔ یقیناً کوئی بھی مسلمان قرآنِ کریم سے بے پروا نہیں ہو سکتا۔شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے قدم قدم پر قرآنی تعلیمات کی ضرورت پڑتی ہے۔ مگر افسوس! آج مسلمان اس مقدس کتاب سے منہ موڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کچھ خوش نصیب ماہِ رَمَضان میں اس کی زیارت اور تلاوت کی برکتیں پا لیتے ہیں مگر کچھ تو اس مقدس مہینے میں بھی اللہ پاک کی اس عظیم نعمت سے خود کو محروم رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی بنتی ہے کہ ایک تعداد کو قرآنِ کریم ٹھیک طرح سے پڑھنا بھی نہیں آتا اور وہ اسے سیکھنے کے لیے توجہ بھی نہیں کرتے۔