Quran Pak Ki Ahmiyat

Book Name:Quran Pak Ki Ahmiyat

(2)گویا شبِ قدر حاصل کرلی

فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَ سَلَّمَ:جس نے اس دُعا کو 3 مرتبہ پڑھا تو گویا اُس نے شَبِ قَدْر حاصل کرلی۔([1])

لَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ الْحَلِیْمُ الْـکَرِیْمُ ،سُبحٰنَ اللہ ِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم

(خُدائے حَلیم وکریم کے سِوا کوئی عِبادت کے لائِق نہیں، اللہ  پاک ہے جو ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا پَروردگار ہے۔)

ہفتہ واراجتماع کے حلقوں کا شیڈول(بیرون ملک)، 05مارچ 2026ء

(1): سنتیں اورآداب سیکھنا:5منٹ، (2):دعایاد کرنا :5 منٹ، (3):جائزہ:5منٹ، کُل دورانیہ15منٹ

قرآنِ پاک سے متعلق بقیہ آداب

*بے خیا لی میں قرآنِ کریم اگر ہاتھ سے چُھوٹ کر یا  طاق وغیرہ پر سے زمین پر تشریف لے آیا(یعنی گڑ پڑا)تو نہ گناہ ہے نہ کوئی کفّارہ۔*گستاخی کی نِیَّت سے کسی نے معاذَاللہ قرآنِ پاک زمین پر دے مارا  یا توہین کی نِیَّت سے اِس پر پاؤں رکھ دیا  تو دائرۂ اسلام سے باہر ہو گیا۔*اگر قرآنِ کریم ہاتھ میں اٹھا کر یا  اس پر ہاتھ رکھ کرحَلَف یا قَسَم کا لفظ بول کر کوئی بات کی تو یہ بہت ”سخت قَسَم“ہوئی اور اگرحَلَف یا  قَسَم کالفظ نہ بولا تو صِرف قرآنِ کریم ہاتھ میں اُٹھا کر یا  اُس پر ہاتھ رکھ کر بات کرنا نہ قَسَم ہے نہ اس کا کوئی کفّارہ ۔ (فتاویٰ رضویہ،۱۳/۵۷۴ ۔ ۵۷۵ مُلَخَّصاً) *اگر مسجِد میں بہت سارے قرآنِ پاک جمع ہو


 

 



[1]  تاریخ ابنِ عساکر،۱۹/۱۵۵،حدیث:۴۴۱۵