Share this link via
Personality Websites!
پارہ 11 سورۂ یونس کی آیت نمبر 57 میں اِرْشادِ الٰہی ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)
ترجمۂ کنزالعرفان:اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آگئی۔
تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیتِ کریمہ کے تحت لکھا ہے:اس آیت میں قرآنِ کریم کے تین (3)عظیم فائدے بیان کئے گئے ہیں:
(1)پہلا فائدہ مَوْعِظَۃٌ :
”مَّوْعِظَۃٌ“کے معنیٰ ہیں وہ چیز جو انسان کو پسندیدہ چیزکی طرف بُلائے اور خطرے سے بچائے ۔
(2)دوسرا فائدہ شِفاءٌ:
شِفاءٌ سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی(یعنی دل کے)اَمراض (Diseases)کودور کرتا ہے۔
قرآنِ کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا ،کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور قرآنِ پاک کو ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔(صراط الجنان، ۴/۳۳۸ ملتقطاً)
پىارے اسلامى بھائىو!آیت ِکریمہ اور اس کی تفسیر سے معلوم ہوا!قرآنِ کریم پسندیدہ چیزوں کی طرف بُلاتا ہے۔دنیا وآخرت کے خطرات سے بچاتا ہے۔نیک اعمال کو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami