Quran Pak Ki Ahmiyat

Book Name:Quran Pak Ki Ahmiyat

بُزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ  عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور تلاوتِ قرآن

(1)منقول ہے:جب رَمَضانُ المبارَک کامہینا شُروع ہوتا تو حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ دیگرتمام نفلی عبادات چھوڑ کرتلاوتِ قرآن میں مَشغُول ہوجاتے۔(دین ودنیا کی انوکھی باتیں،ص۶۱)

(2)حضرت محمدبن اسماعىل بخارى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ جو حضرت امام بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کے نام سے مشہورہیں،ان کے بارے میں آتا ہے کہ کثیرمصروفىات کے باوجُود انہیں تلاوتِ قرآن کے ساتھ عشق کى حد تک لگاؤ تھا، رَمَضان المبارک  میں روزانہ دن میں ایک مرتبہ قرآنِ پاک کا ختم فرماتےاور تراویح کے بعد نوافل میں ہر تین(3) رات میں ایک مرتبہ ختمِ قرآن فرماتے۔( ارشاد السارى، ۱/۶۴)

(3) حضرت امام کتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلیْہِ کے بارے میں آتا ہے:یہ اللہ پاک کے ایسے ولی تھے کہ انہوں نے طواف کے دوران 12 ہزار مرتبہ قرآن ِکریم کا ختم فرمایا۔(سیر اعلام النبلا،۱۴/۵۳۵)

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                              صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

اے عاشقانِ اولیا!بیان کردہ واقعات سے معلوم ہوا!اللہ پاک کے نیک بندے کس قدر شوق و مَحَبَّت سے تلاوت فرمایا کرتے تھے، ہمیں بھی کثرت سے تلاوتِ قرآن  کرنی چاہیے۔ایک تعداد تلاوتِ قرآن سے اس لیے محروم رہتی ہے کہ انہیں تلاوت کرنی  نہیں آتی۔بچپن میں قرآنِ کریم پڑھنا کبھی سیکھاتھا تو بُھول گئے، یا سیکھا توہے مگر ٹھیک طرح سے  دُرست ادائیگی کے ساتھ تلاوت کرنی نہیں آتی وغیرہ۔ اس کے حل کے لیے