Quran Pak Ki Ahmiyat

Book Name:Quran Pak Ki Ahmiyat

بَرَکت والی ہیں۔

اُمّت پر قرآنِ کریم کا حق

اس(آیت ) سے معلوم ہوا! اُمّت پر قرآنِ کریم کا ایک حق یہ ہے کہ وہ ا س مبارک کتاب کی پیروی کریں اور اس کےاحکام کی خلاف ورزی کرنےسےبچیں۔افسوس!فی زمانہ قرآنِ کریم پر عمل (کرنے)کے اعتبار سے مسلمانوں کا حال ناقابلِ بیان ہے، آج مسلمانوں نے اس کتاب کی روزانہ تلاوت کرنے کے بجائے اسے گھروں میں جُزدان و غِلاف کی زِینت بنا کر اور دُکانوں پر کاروبار میں بَرَکت کے لئے رکھا ہوا ہے اور تلاوت کرنے والے بھی صحیح طریقے سے تلاوت کرتے ہیں اور نہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اللہ کریم نےاس کتاب میں ان کےلئےکیا فرمایا ہے۔تاریخ  گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نےاس مُقَدَّس  کتاب کو سینے سے لگائے رکھا اور اس کے دَسْتُور و قوانین (Rules)اور اَحکامات پر سختی سے عمل پیرا رہے تب تک دنیا بھر میں ان کی شوکت کا ڈنکا بجتا رہا اور غیروں کے دل مسلمانوں کا نام سُن کر دہلتے رہے اور جب سے  مسلمانوں نے قرآنِ عظیم کے احکام پر عمل چھوڑ رکھا ہے  تب  سے وہ دنیا  بھرمیں ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔(صراط الجنان، ۳/۲۴۷)

 پىارے اسلامى بھائىو!قرآنِ پاک کی اَہَمِّیَّت  کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیے کہ یہ مقدَّس کتاب ہمیں ہر اس چیز کی طرف بُلاتی ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے، اور یہ ہمیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتی ہے جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ اسے رحمت، نصیحت،شفا اور ہدایت بھی قرارد یا گیا ہے،چنانچہ